فیس بک لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
فیس بک لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

بدھ، 1 اکتوبر، 2014

آپریشن واجب البلاگ

با وثوق ذرائع سے علم ہوا ہے کہ کچھ بلاگر احباب چھوٹی موٹی مراعات کے بدلے فیسبک کے ہاتھ بک گئے ہیں۔ یہ غدار بلاگران اب طویل و عریض تحاریر لکھ کر اپنے بلاگ پر شائع کرنے کے بجائے بلاگ کا حق مارتے ہوئے فیسبک کے اندھے کنویں میں پھینک دیتے ہیں۔ جس کے سبب اب ان کے بلاگز کچھ ایسے نظر آنے لگے ہیں۔
یاسر خوامخواہ جاپانی کا بلاگ
محمد سلیم صاحب کا بلاگ
میں "غیر فیسبکی بلاگرز سوسائٹی" کے پلیٹ فارم سے اس غدارانہ طرزِ عمل کی شدید مذمت کرتا ہوں اور غداری کرنے والے بلاگروں سے مطالبہ کرتا ہوں کہ اپنی یہ عادت سدھار کر اپنی تحاریر اپنے بلاگوں پر لگانا شروع کر دیں۔
بصورت دیگر ہماری طرف سے اعلانِ جنگ سمجھا جائے۔ اگر آپ اپنی تحریر اپنے بلاگ پر نہیں لگانا چاہتے تو ایسے کئی "رضاکار" دستیاب ہیں جو آپ کی تحاریر بخوشی اپنے بلاگوں پر شائع کر دیں گے۔
میں فیسبک استعمال کرنے والے اپنے بلاگر احباب سے بھی پرزور اپیل کرتا ہوں کہ اس "مقدس مشن" میں ہمارا ساتھ دیں۔ آپ ہمارا ساتھ ایسی تمام پوسٹس پر احتجاج اور دھرنوں کے ذریعے بھی دے سکتے ہیں اور اگر چاہیں تو ایک قدم آگے بڑھ کر ان تحاریر کو ہائی جیک کرتے ہوئے اپنے بلاگوں پر بھی لگا سکتے ہیں (اصل لکھاری کے حوالے کے ساتھ)۔
اعلان ختم ہوا۔

پیر، 26 اگست، 2013

فیسبک سے آزادی کے سفر پر

میرے اکثر دوست جانتے ہیں کہ میں فیسبک سے شدید تنگ رہا ہوں اور آج صبح ہی میں نے اپنا فیسبک کھاتہ بند (ڈی ایکٹیویٹ) کیا ہے۔ یہاں پر میں اس موضوع پر بحث نہیں کرنا چاہتا کہ میں نے فیسبک چھوڑنے کا فیصلہ کیوں کیا۔ جنہیں زیادہ تجسس ہے، انہیں اشارے کے لیے اس ربط پر شور کے متعلق موجود یہ مضمون پڑھنے کا مشورہ دوں گا۔
فی الحال میں صرف ان ساتھیوں کے لیے ایک روڈمیپ پیش کرنا چاہوں گا جو میرے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے زندانِ فیسبک سے نجات حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
تو جناب، پہلے مرحلے کا سب سے پہلا حصہ ہوتا ہے یہ فیصلہ کرنا کہ آیا آپ کو واقعی فیسبک کی ضرورت ہے یا یہ آپ کے لیے صرف ایک ایسی غیر اہم آسائش ہے جس کا کام زندگی کو مزید پیچیدہ بنانے کے سوا اور کچھ نہیں۔ اپنے آپ سے سوال پوچھیں کہ کیا فیسبک آپ کی ضرورت ہے اور کیا اس سے الگ ہونے پر آپ کو یا کسی اور کو نقصان پہنچے گا؟ اس سوال کا جواب پاتے پاتے آپ کو ایک طویل عرصہ بھی لگ سکتا ہے۔
جب آپ اس نتیجے پر پہنچ جائیں کہ فیسبک سے آپ کو کوئی ایسا فائدہ نہیں ہو رہا جس کا آپ کے پاس کوئی بہتر متبادل نہ ہو تو اگلا مرحلہ ہوتا ہے اہم دوستوں سے متبادل رابطے کی معلومات جمع کرنا۔ کیونکہ فیسبک پر آپ کو روکے رکھنے کی سب سے بڑی وجہ تو یہی لوگ ہیں۔ متبادل رابطے کے لیے آپ ان کا ای میل ایڈریس، فون نمبر یا کوئی انسٹنٹ میسجنگ آئی ڈی لے سکتے ہیں۔ اس کام میں کئی دن لگ سکتے ہیں۔
اس کے بعد اگلا کام ہوتا ہے اپنے ڈیٹا کا بیک اپ ڈاؤن لوڈ کرنا جو آپ کو (فیسبک کے موجودہ انٹرفیس میں) اکاؤنٹ سیٹنگ میں جنرل کے ٹیب میں مل جائے گا۔ یہ خیال رہے کہ یہ آپ کے تمام ڈیٹا کا مکمل بیک اپ نہیں ہوتا۔ لیکن جو بھی ملتا ہے، فیسبک والوں کا احسان سمجھ کر ڈاؤن لوڈ کر لیں۔
جب یہ کام بھی ہو جائے تو اگلا فیصلہ یہ کرنا ہوتا ہے کہ آپ اپنے فیسبک کھاتے کو صرف ڈی ایکٹیویٹ کرنا چاہتے ہیں یا مکمل طور پر ڈیلیٹ۔ چونکہ آپ فیسبک سے جان چھڑانا چاہتے ہیں تو غالب امکان ہے کہ مکمل طور پر ڈیلیٹ کرنا ہی آپ کا فیصلہ ہوگا، لیکن اس سے پہلے احتیاطی تدبیر کے طور پر کچھ عرصہ صرف ڈی ایکٹیویٹ کر کے دیکھ لیں کیونکہ ہو سکتا ہے کہ اس دوران آپ کو خیال آئے کہ فلاں جگہ سے کچھ ڈیٹا اٹھانا باقی تھا یا فلاں شخص سے رابطے کی معلومات نہیں لیں۔ یہ کچھ عرصہ کافی اعصاب شکن ہوگا کیونکہ آپ کو رہ رہ کر خیال آئے گا کہ چلو تھوڑا سا فیسبک میں جھانک آئیں۔ اب پرانی عادتیں اتنی آسانی سے تو جان نہیں چھوڑتیں نا۔ اس عرصے میں خود پر خوب قابو رکھیں اور فارغ وقت کو تعمیری انداز سے استعمال کرنے کے اپنے آپشنز پر غور کریں۔ ایک دو ماہ تک تسلی ہو جانے کے بعد مزے سے اکاؤنٹ مستقل ڈیلیٹ کر دیں (اگر یہی آپ کا فیصلہ تھا)۔
مبارک ہو! آپ زندانِ فیسبک سے باہر نکل آئے ہیں۔ لیکن ابھی زیادہ خوش ہونے کی ضرورت نہیں۔ فیسبک سے باہر نکلنا محض پہلا مرحلہ تھا۔ ابھی ایک اور مشکل مرحلہ باقی ہے اس سے فارغ ہونے والے وقت کو کسی تعمیری استعمال میں خرچ کرنے کا۔ فیسبک سے نکلنے کے بعد خود کو کسی نئے کھڈے میں نہ گرا لینا۔ اپنے وقت کا خوب سوچ سمجھ کر استعمال کرنا!
میں نے اس سلسلے میں یہ سوچا ہے کہ اب ایسی جگہوں سے پرہیز کرنا ہے جہاں اچھا برا سب ایک ساتھ، بغیر کسی ترتیب و تنظیم کے، قاری کے منہ پر دے مارا جاتا ہے کہ اب اس میں سے اپنے کام کی چیز خود الگ کرو۔ کتابوں کے ساتھ اپنی دوستی پھر سے جوڑنی ہے۔ اپنی آن لائن سرگرمی کے دوران ان ویب سائٹس کا استعمال زیادہ کرنا ہے جن پر ہونے والی گفتگو میری پسند کے موضوعات تک ہی محدود رہتی ہے یا کم از کم ہر قسم کی گفتگو کے لیے الگ الگ زمرے بنے ہیں، جہاں کا مجموعی مزاج تحقیقی ہے، اور جہاں لوگ باقی دنیا کے شور شرابے سے الگ تھلگ بیٹھ کر اپنی ذاتی ترقی اور اپنی دنیا کی بہتری کے لیے کام کرتے رہتے ہیں۔
دعاؤں کی درخواست۔۔۔