پیر, مارچ 28, 2011

ہر اک شخص کو ورلڈ کپ ہو گیا ہے

بچپن میں، بچوں کے ایک رسالے میں، "ورلڈ کپ" کے عنوان سے یہ نظم دیکھی تھی۔ شاعر کا نام یاد نہیں۔ شاید "انوکھی کہانیاں" کا 1992ء یا 1996ء کا شمارہ تھا۔ بس نظم ہی یاد ہے، چنانچہ اسی پر گزارہ کیجیے۔


ورلڈ کپ

جو کل تک الل تھا وہ ٹپ ہو گیا ہے
جو مرغا تھا پورا ہڑپ ہو گیا ہے
جو اوور ملا تھا وہ اپ ہو گیا ہے
ہر اک شخص کو ورلڈ کپ ہو گیا ہے

جو افسر تھا جا بیٹھا ٹی وی کے آگے
تو ماتحت چھٹی سے پہلے ہی بھاگے
کہ تھے صبح دم نو بجے کے وہ جاگے
سو دفتر کا دفتر ہی ٹھپ ہو گیا ہے
ہر اک شخص کو ورلڈ کپ ہو گیا ہے

جو گاہک نے پوچھا ٹماٹر کا بھاؤ
تو بوڑھا پکارا ارے جاؤ جاؤ!
ابھی ایک دو روز کچھ مت پکاؤ
کہ سبزی کو بھی ورلڈ کپ ہو گیا ہے

جو ٹیچر نے پوچھا کہاں پر ہے یکہ
تو شاگرد بولا کہ چھکے پہ چھکا
نہ یوں مفت میں آپ ہوں ہکا بکا
پڑھائی کا اوور بھی اپ ہو گیا ہے
ہر اک شخص کو ورلڈ کپ ہو گیا ہے

4 تبصرے:

  1. Aap ka blog bhut acha hai. Perh ker khushi hoe! :)

    جواب دیںحذف کریں
  2. یہ ہارنے سے پہلے کے لیے ہے یا ہارنے کے بعد کے لیے؟

    جواب دیںحذف کریں
  3. سعد اور مس حنیف: شکریہ۔ :)

    مکی: جلنے والے کا منہ کالا۔ :p
    بہر حال، اس کا ہار جیت سے کوئی تعلق نہیں۔ اس کے لیے صرف ایک ورلڈ کپ کی ضرورت پڑتی ہے۔

    جواب دیںحذف کریں