اتوار، 31 اکتوبر، 2010

فیسبکیوں کی ہجو میں ایک نظم

کسی زمانے میں سنا تھا کہ غم اچھے بھلے انسان کو شاعر بنا دیتا ہے۔ تب تو یقین نہیں آیا لیکن آج جب میں نے خود ایک نظم پوری کی تو مجھے یقین آ گیا کہ واقعی غم مجھ جیسے نمونوں کو بھی شاعر بنا سکتا ہے۔

یہ بے قاعدہ اور بے ہنگم نظم میں اپنے ان تمام دوستوں کے نام کرتا ہوں جن کی وجہ سے ہمارا فیسبک کے بائیکاٹ کا منصوبہ ناکام ہوا۔ اس نظم کی بنیاد میں دھوکہ، فراڈ اور میرے ارمانوں کا خون شامل ہے۔ تو پڑھیے اور لطف اندوز ہوئیے۔

ٹوٹ بٹوٹ اور فیسبک

ایک تھا لڑکا ٹوٹ بٹوٹ
باپ تھا اس کا میر سلوٹ
پیتا تھا وہ سوڈا واٹر
کھاتا تھا بادام اخروٹ

اک دن اس کی شامت آئی
فیسبک پر نظر دوڑائی

جھٹ سے اک کھاتہ کھلوایا
کئی لوگوں کو دوست بنایا

پھر تو اس کو جب بھی دیکھا
فیسبک پر مصروف ہی پایا

زندگی کٹ رہی تھی یوں ہی
اک دن دوست نے چٹھی بھیجی

فیسبک نے کیا کام برا تھا
اس پر کچھ تو کرنا ہی تھا

گستاخانِ رسول کی جو
اس نے سرپرستی کی تھی

اس پر کسی طرح کی تو
کارروائی کرنی ہی تھی

دوست بولا کرو بائیکاٹ
فیسبک سے لو تعلق کاٹ

گر سب اس سے رشتہ توڑیں
پھر نہ کریں گے ہمت ایسی

ٹریفک ہوگی اتنی کم کہ
ہو جائے گی ایسی تیسی

ٹوٹ بٹوٹ نے یہ سوچا کہ
بات تو ہے یہ بڑے پتے کی

سب مسلم جو متحد ہو گئے
نہ کرے گا کوئی ہمت ایسی

فوراً اس نے فیسبک چھوڑی
یاروں کو بھی دعوت ٹوری

گر ہوتا کامیاب بائیکاٹ
فیسبک کی لگ جاتی واٹ

قوم گر متحد ہو جاتی
گستاخوں کو عقل آ جاتی

لیکن حقیقت میں جو ہوا
ٹوٹ بٹوٹ نے سوچا نہ تھا

کچھ ہی روز ابھی گزرے تھے
اکثر لوگ صبر کھو بیٹھے

کچھ ہی رہے میداں میں ڈٹ کر
باقی سب واپس کو بھاگے

مہم ہو گئی ناکام ساری
کئی لوگوں نے ڈنڈی ماری

ٹوٹ بٹوٹ اب بیٹھا سوچے
دھیرے دھیرے خود سے بولے
سوچا کیا تھا، کیا ہو گیا رے
تیرے ساتھ تو فراڈ ہو گیا رے

"ہمیں اپنوں نے لوٹا، غیروں میں کہاں دم تھا
میری کشتی وہاں ڈوبی جہاں پانی کم تھا"

بدھ، 7 جولائی، 2010

گنوم (GNOME) کا اردو ترجمہ

سلام ظالم دنیا!

اپنے ہر دل عزیز جناتی مترجم جناب محمد علی مکی صاحب کو تو آپ لوگ جانتے ہی ہوں گے۔ ان دنوں کوہ قاف کے غاروں میں مراقبہ فرمایا کرتے ہیں۔ آج ان سے بذریعہ انسٹنٹ مسنجر مختصر سی ملاقات ہوئی تو باتوں باتوں میں معلوم ہوا کہ آج کل فارغ وقت میں گنوم (GNOME) ڈیسکٹاپ ماحول کا اردو ترجمہ کر رہے ہیں۔

تھوڑی سی جھلک جو میں ان کے کام کی دیکھ پایا، یہاں پر پیش کر رہا ہوں۔





ان شاء اللہ جلد ہی ترجمہ مکمل ہو کر آم لوگوں کے لیے دستیاب ہو جائے گا۔ لینکس اور گنوم استعمال کرنے والے، یا کسی اور وجہ سے اس پراجیکٹ میں دلچسپی رکھنے والے، ان کے بلاگ پر نظر رکھیں۔

جمعرات، 22 اپریل، 2010

22 اپریل - زمین کا دن

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔
دنیا بھر میں 22 اپریل کو زمین کے دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اس کا مقصد لوگوں میں زمین کے ماحول اور وسائل کے تحفظ کی اہمیت کا شعور پیدا کرنا ہے۔ اس اہم موقعے پر میں نے بھی ایک عدد مضمون لکھنے کا ارادہ تو کر رکھا تھا لیکن غیر متوقع حالات کی وجہ سے بروقت اطلاع بھی نہ دے پایا۔
جن لوگوں تک یہ اطلاع وقت پر پہنچ جائے، ان سے گزارش ہے کہ آج کا دن جیو اور ایکسپریس جیسے چینلوں کے بجائے نیشنل جیوگرافک اور ڈسکوری جیسے چینل دیکھتے ہوئے گزاریں کیونکہ ان پر اس موقعے کے لیے خصوصی پروگرام نشر کیے جائیں گے۔
اور جو صاحبِ اولاد ہیں، ان سے گزارش کروں گا کہ آپ کے بچوں کو اچھے مستقبل کے لیے صرف ڈھیر سارے پیسوں اور جائیداد کی ہی ضرورت نہیں ہے بلکہ پرسکون زندگی گزارنے کے لیے انہیں ایک صاف ستھری اور قابلِ رہائش زمین کی بھی ضرورت پڑے گی۔ لہٰذا خدا کے لیے ماحولیاتی آلودگی کے مسئلے کو کوئی اہمیت دیں۔
اگر آپ کو یہ اطلاع دیر سے ملتی ہے تو کیمیائی آنٹی کے اس مضمون پر گزارا کر لیں جو میں نے ان سے منتیں کر کے لکھوایا تھا۔
اور اگر آپ کو ایک تیز رفتار انٹرنیٹ کنکشن دستیاب ہے تو جہاں بٹ ٹورنٹ سے درجنوں کی تعداد میں دیگر فلمیں ڈاؤن لوڈ کر کے دیکھتے رہتے ہیں، وہیں An Inconvenient Truth کو بھی ایک بار دیکھ لیں۔

سوموار، 12 اپریل، 2010

ROT13 رمز نگاری

ROT13 رمز نگاری کا ایک کمزور سا معیار ہے جس کا استعمال عام طور پر لطائف کو انکرپٹ کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس میں ہوتا یہ ہے کہ لفظ کے ہر حرف کو اپنی جگہ سے 13 جگہ آگے کھسکا دیا جاتا ہے۔ یعنی A کی جگہ N لگا دیا جاتا ہے اور M کی جگہ Z۔ اگر کوئی حرف Z سے پہلے 13 حروف سے کم کے فاصلے پر ہو تو Z سے آگے دوبارہ A سے شروع کرتے ہیں۔ مثلاً T کی جگہ G۔

(ROT13 میں ROT مخفف ہے ROTATE کا)

یہ سب مجھے یوں معلوم ہوا کہ پائتھن پروگرامنگ لینگویج سیکھنے کے دوران مشق کے طور پر متن کو ROT13 میں انکوڈ اور ڈیکوڈ کرنے والا ایک پروگرام لکھنا تھا۔ چنانچہ دو چار پروگرام لکھے جو کہ مختلف طریقوں سے یہ کام کرتے ہیں۔ ان میں سے ایک اپنی تعریفیں کروانے کے لیے یہاں پیش کر رہا ہوں (حالانکہ کوئی بڑی چیز نہیں ہے لیکن کسی کو بتانا نہیں)۔ :D


یہ پروگرام کمانڈ لائن پر مبنی ہے چنانچہ اسے ٹرمینل ہی میں چلایا جائے گا۔ کچھ اس طرح سے۔

python rot13.py

چونکہ انگریزی کے حروفِ تہجی کی تعداد 26 ہے، لہٰذا ROT13 میں انکوڈ کیے ہوئے متن کو دوبارہ 13 حرف آگے کھسکانے پر وہی متن واپس حاصل ہوتا ہے۔ اس خصوصیت کی وجہ سے اس کا انکوڈر اور ڈیکوڈر الگ الگ بنانے کی ضرورت نہیں پڑی۔ ایک ہی سادہ پروگرام سے یہ دونوں کام ہو جاتے ہیں۔

اس پروگرام کو چلانے کے لیے آپ کو پائتھن کے "مترجم" یا انٹرپرٹر (interpreter) کی ضرورت پڑے گی جو لینکس میں تو عموماً پہلے ہی سے موجود ہوتا ہے۔ لیکن اگر نہ ہوا یا آپ ونڈوز یا میک استعمال کرتے ہیں تو اسے یہاں سے حاصل کیا جا سکتا ہے:


ROT13 میں انکرپٹ کی گئی کچھ مثالیں تو آپ کو انگریزی کے وکیپیڈیا پر مل جائیں گی۔


مزید کا اگر شوق ہو تو خود ہی ڈھونڈ لیں۔ بلکہ اگر چاہیں تو اپنے پیغامات کو بھی اس پروگرام کی مدد سے انکرپٹ کر کے دوستوں کو تنگ کریں۔ کوئی اضافی پیسے نہیں لگیں گے۔ :)

ناقابلِ یقین کہانی

ناقابلِ یقین کہانی۔ مصنف: امر جلیل


کچھ روز پہلے کسی نے پوچھا ”اگر بینظیر بھٹو زندہ ہوتیں تو آصف زرداری آج کہاں ہوتے؟“
”یہ بھی کوئی پوچھنے کی بات ہے“ میں نے کہا۔
”بے نظیر بھٹو جب زندہ تھیں آصف زرداری چلنے پھرنے اور آنے جانے کے قابل نہیں تھے“۔
”کیوں؟“ اس نے پوچھا ”ان کے پیروں میں کیا مہندی لگی تھی؟“
مجھے غصہ آگیا۔ میں نے کہا ”وہ سخت بیمار تھے۔ ان کی کمر اور ریڑھ کی ہڈی میں تکلیف تھی ۔ وہ چل پھر نہیں سکتے تھے۔ دبئی اور نیویارک میں ان کا علاج چل رہا تھا“۔
شرارتی مسکراہٹ چہرے پر لاتے ہوئے اس نے کہا ”اور بینظیر کے فوت ہوتے ہی زرداری صاحب ٹھیک ہوگئے“!
”دیکھو“ میں نے اس سے کہا ”تم ایک ایسے شخص کے بارے میں اوٹ پٹانگ باتیں کر رہے ہو جن کو ہر طرح کا آئینی تحفظ ملا ہوا ہے“۔
”ناراض کیوں ہوتے ہو بھائی۔“ اس نے کہا ”میں صرف اتنا جاننا چاہتا ہوں کہ بینظیر صاحبہ اگر آج زندہ ہوتیں تو پھر آصف زرداری صاحب کا پاکستان کی سیاست میں کوئی عمل دخل ہوتا؟؟“
میں آصف زرداری کا جانثار چکرا کر گر پڑا، بیہوش ہوگیا۔ ہوش میں آیا تو ایک اسپتال میں تھا۔ میں نے ادھر ادھر دیکھا۔ ایک نرس مسکرا کر میری طرف دیکھ رہی تھی۔ میں نے نرس سے پوچھا ”اگر بینظیر صاحبہ آج زندہ ہوتیں تو پھر زرداری صاحب کہاں ہوتے؟؟“
نرس نے سوال سنا۔ مسکراہٹ اس کے چہرے سے غائب ہو گئی اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے وہ چکرا کر گر پڑی اور بیہوش ہوگئی۔ نرس دھم سے گری تھی۔ اس کے گرنے کی آواز سن کر دو تین ڈاکٹر اور کچھ وارڈ بوائے دوڑتے ہوئے آئے۔ نرس کو فرش پر بیہوش پڑا ہوا دیکھ کر حیران ہوئے۔ ایک ڈاکٹر نے مجھ سے پوچھا۔ ”سسٹر سلونی کو کیا ہوا، کیسے گر پڑیں؟“
”میں نے ان سے ایک سوال پوچھا تھا“ میں نے کہا ”سوال سنتے ہی وہ چکرا کر گر پڑی اور بیہوش ہو گئی“۔
ڈاکٹر نے کہا ” تم نے سسٹر سلونی سے کیا پوچھا تھا؟“
میں نے کہا ”سسٹر سلونی سے میں نے پوچھا تھا ، بینظیر صاحبہ اگر آج زندہ ہوتیں تو زرداری صاحب کہاں ہوتے؟“
ڈاکٹروں اور وارڈ بوائز کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں وہ ٹکٹکی باندھے میری طرف دیکھتے رہے میں نے حیرت زدہ ڈاکٹروں اور وارڈ بوائز سے پوچھا ”اچھا آپ لوگ بتا سکتے ہیں کہ بینظیر صاحبہ اگر آج زندہ ہوتیں تو آصف علی صاحب کہاں ہوتے اور کیا کر رہے ہوتے“؟
ڈاکٹر اور وارڈ بوائے چکرا گئے میرے دیکھتے ہی دیکھتے وہ چکرا کر گر پڑے اور بیہوش ہو گئے اور اس کے بعد میں نے جس جس خدا کے بندے سے پوچھا کہ محترمہ بینظیر صاحبہ اگر زندہ ہوتیں تو آصف زرداری سیاست میں دکھائی دیتے؟ وہ تمام کے تمام خدا کے نیک بندے سوال سن کرگر پڑے اور بیہوش ہو گئے۔
اس ماجرے سے گھبرا کر میں نے پیروں فقیروں کا رخ کیا۔ میرا سوال سن کر پیر فقیر چکرا کر گر پڑے اور بیہوش ہوگئے، صورت حال تشویش ناک ہوتی جا رہی تھی سنا تھا کہ جوگی، سنیاسی اور بھکشو گھنے برگدوں کے سایے میں چلہ کاٹتے تھے اس لحاظ سے برگد معتبر درخت ہے میں نے ایک گھنے اور تناور درخت سے پوچھا ”بینظیر صاحبہ اگر زندہ ہوتیں تو کیا زرداری صاحب پاکستانی سیاست میں نظر آتے یا اپنی درد میں مبتلا کمر اور ریڑھ کی ہڈی کا بیرون ملک علاج کرا رہے ہوتے؟“
میں نے سنسناہٹ کی آواز سنی برگد لرزنے لگا۔ دیکھتے ہی دیکھتے برگد پرخزاں چھانے لگی پتے پیلے ہو کر ٹہینوں سے گرنے لگے۔ آناً فاناً ہرا بھرا برگد سوکھ گیا۔
میں پریشانی کے عالم میں کھڑا ہوا تھا کہ مجھے غیب سے آواز سنائی دی۔ ”گڑھی خدا بخش جاؤ اور یہ سوال جا کر ذوالفقار علی بھٹو سے پوچھو“۔
میں نے گھبرا کر ادھر ادھر دیکھا۔ ”سوچتے کیا ہو بونگے بھائی، جاؤ۔ گڑھی خدا بخش جاؤ اور یہ سوال جا کر ذوالفقار علی بھٹو سے پوچھو۔ وہ آصف علی زرداری کے سسر لگتے ہیں وہی اس سوال کا جواب تمہیں دیں گے“۔
دیگر پاکستانیوں کی طرح میں پیروں مرشدوں کا مارا ہوا رخت سفر باندھ کر اسی سمت نکل پڑا جو میرے لئے انجانی تھی۔ میں نے زندگی میں نہ تو لاڑکانہ دیکھا تھا اور نہ رتو ڈیرو دیکھا تھا۔ سنا تھا وہیں سے ایک راستہ نکلتا تھا جو کہ سیدھے گڑھی خدا بخش پہنچتا تھا۔ میں نے پیر و مرشد کے بعد اللہ کا نام لیا اور سفر پر نکل پڑا۔ جب تک ذوالفقار علی بھٹو کا جسد خاکی وہاں دفن نہیں ہوا تھا کسی نے بھی گڑھی خدا بخش کا نام نہیں سنا تھا۔ اب تو وہاں ذوالفقار علی بھٹو کے بغل میں ان کی جواں سال بیٹی اور دو جواں سال بیٹے ابدی نیند سو رہے ہیں۔ پچھلے تیس بتیس برسوں میں ہم پیر و مرشد اور قبر پرستی کے مارے ہوئے پاکستانیوں نے ذوالفقار علی بھٹو کو پیر سائیں بنا کر رکھ دیا ہے۔ بیمار ان سے شفا مانگتے ہیں، بیروزگار ان سے روزگار مانگتے ہیں۔ بے اولاد ان سے اولاد مانگتے ہیں۔ معطل افسر ان سے بحالی کی دعا مانگتے ہیں۔ مظلوم بہو ان سے ساس کے بدن میں کیڑے پڑنے کی دعائیں مانگتی ہے۔ طالب علم امتحان میں پاس ہونے کے لئے ان کی قبر پر آکر گڑ گڑاتے ہیں۔ میرے کہنے کا مطلب ہے کہ شاید ہی کوئی شخص ہو جو گڑھی خدا بخش کے بارے میں کچھ نہ جانتا ہو۔
لاڑکانہ سے رتو ڈیرو پہنچنے میں مجھے زیادہ دقت پیش نہیں آئی لیکن گڑھی خدا بخش تک پہنچنا مجھے ناممکن محسوس ہوا چپے چپے پر رینجرز کے کمانڈوز اور پولیس کی بھاری نفری موجود تھی۔ مجھے تعجب ہوا گڑھی خدا بخش جانے والی سڑک پر لوگوں کا جم غفیر موجود تھا۔ ان میں بچے تھے، جوان تھے، بوڑھے تھے، عورتیں تھیں، مرد تھے۔
ہاتھوں میں آٹو میٹک رائفلیں اور روالور تھامے سیکورٹی اہلکار عقاب کی طرح ایک ایک شخص پر نظر رکھے ہوئے تھے، کڑی جانچ پڑتال کے بعد وہ ایک ایک آدمی کو آگے جانے دے رہے تھے، میں نے ایک ریڑھی والے سے پوچھا ”یہاں کیا روزانہ اسی طرح بھیڑ لگی رہتی ہے؟“
”نہیں“ ریڑھی والے نے کہا ”آج شہید بابا کی برسی ہے۔ سائیں زرداری شہید بابا کی مزار پر چادر چڑھانے آرہے ہیں۔“ شہید بابا سے اس کی مراد ذوالفقار علی بھٹو تھی۔
مجھے سیکورٹی اہلکاروں سے ہوتے ہوئے آگے نکل جانا ناممکن لگ رہا تھا۔ میرے پاس شناختی کارڈ نہیں ہے۔ شناختی کارڈ ان کے پاس ہوتے ہیں جن کی کوئی شناخت ہوتی ہے میری کوئی شناخت نہیں ہے۔ میں اپنے ہی وطن میں بے وطن ہوں۔ سیکورٹی والوں سے نظر بچا کر سڑک کی دائیں جانب گھنی جھاڑیوں میں داخل ہوگیا۔ میں ہر حال میں گڑھی خدا بخش پہنچنا چاہتا تھا۔ میں شہید بابا سے پوچھنا چاہتا تھا کہ بینظیر صاحبہ اگر آج زندہ ہوتیں تو زرداری صاحب کہاں ہوتے اورکیا کر رہے ہوتے۔ کیا وہ پاکستان کی سیاست میں کہیں نظر آسکتے تھے؟ وہی میرے سوال کا جواب دے سکتے تھے جسے سن کر ان کے غریب عوام چکرا کر گر پڑتے ہیں اور بیہوش ہوجاتے ہیں۔
سیکورٹی اہلکاروں سے بچتا بچاتا میں آگے بڑھ رہا تھا کہ گھنی جھاڑیوں میں کسی سے ٹکرا کر گر پڑا۔ ایک شخص درخت کے تنے سے ٹیک لگا کر بیٹھا ہوا تھا۔ اس نے شاہ لطیف کی طرح گھٹنوں پر سر رکھا ہوا تھا وہ مجھے شناسا شناسا محسوس ہوا۔ مجھے لگا جیسے میں جانتا ہوں۔ میں اسے پہلے بھی دیکھ چکا تھا لیکن مجھے یاد نہیں آرہا تھا کہ کب اور کہاں میں نے اسے دیکھا تھا۔ میں اس کے قریب بیٹھ گیا اور پوچھا ”کیا آپ بھی میری طرح چھپتے چھپاتے ذوالفقار علی بھٹو کی مزار پر جا رہے ہیں؟“
انہوں نے سر اٹھا کر میری طرف دیکھا اور کہا ”نہیں۔“
”تو آپ گڑھی خدا بخش نہیں جا رہے؟؟میں نے پوچھا ۔
انہوں نے سر گھٹنوں پر رکھ دیا اور کہا ”سیکورٹی والوں نے مجھے گڑھی خدا بخش سے نکال دیا ہے“۔
میں نے تعجب سے پوچھا۔ ”مگر کیوں؟“
انہوں نے میری طرف دیکھا۔ ایک نحیف سی مسکراہٹ ان کے اداس چہرے پر پھیل گئی۔ انہوں نے کہا ”سیکورٹی حکام کو یقین ہے کہ میں زرداری کو مار ڈالوں گا“۔
مجھے تعجب ہوا۔ میں نے پوچھا ”مگر آپ ہیں کون“؟
نحیف سی مسکراہٹ سے میری طرف دیکھتے ہوئے انہوں نے کہا ”میں ذوالفقار علی بھٹو ہوں“۔

جمعرات، 25 مارچ، 2010

حکومت "کمپیوٹر شیڈنگ" کی تیاری میں

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔


کچھ دنوں سے خبر گردش میں ہے کہ حکومت استعمال شدہ کمپیوٹرز کی درآمد پر پابندی لگانا چاہتی ہے۔ سائنس کے ایک طالبِ علم کی حیثیت سے میں اس فیصلے کی پرزور مخالفت کرتا ہوں کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ اس سے لوگ حصولِ علم کے ایک سستے ذریعے سے محروم ہو جائیں گے۔ چنانچہ تعلیم کی شرح بری طرح متاثر ہوگی اور ملک کو بہت سخت نقصان پہنچے گا۔


Image: A banner in Karachi


اس موضوع پر اردو محفل میں بھی کچھ بحث ہو چکی ہے۔
http://www.urduweb.org/mehfil/showthread.php?t=29128


میں نے سوچا کہ اب تک کے تمام نکات کو یہاں ایک جگہ پر جمع کر دوں۔


کمپیوٹر ساز کمپنیوں کے دلائل اور ان کے جوابات۔


1۔ ان پرانے کمپیوٹروں کو بازیافت (ریسائیکل) نہیں کیا جا سکتا اس لیے آلودگی پھیلتی ہے۔


جواب۔ اول تو یہ سراسر جھوٹ ہے کہ انہیں بازیافت نہیں کیا جا سکتا۔ اور اگر اسے سچ فرض کر بھی لیں تو زمین کے ماحول کو مزید آلودگی سے بچانے کا یہی بہتر طریقہ ہے کہ جو چیز بازیافت نہیں ہو سکتی، اسے زیادہ سے زیادہ مدت تک کام میں لائے جانے کے طریقے ڈھونڈے جائیں۔ کیونکہ خود ہی سوچیں، ان کے بقول یہ بازیافت نہیں ہو سکتے تو استعمال نہ کرنے کی صورت میں یہی طریقہ ممکن ہے کہ ان کو پھینک دیا جائے جو کہ زمین کی مجموعی آلودگی کو بڑھانے کا سبب بنے گا (اور ایسا کچرا چاہے کسی بھی ملک میں پھینکا جائے، متاثر ہم سب ہی لوگ ہوں گے)۔ ساتھ ساتھ ان کی کمی کو پورا کرنے کے لیے مزید نئے کمپیوٹرز موجودہ ضرورت کی نسبت کہیں زیادہ تعداد میں تیار کرنے پڑیں گے جو کہ اب تک چاہے جتنے بھی ماحول دوست ہو گئے ہوں، اتنے نہیں ہوئے کہ پرانے تمام کمپیوٹروں کو ضائع کرنے کے ساتھ ساتھ نئے کمپیوٹر بھی اسی تعداد میں بنائے جانے کو "ماحول دوستی" قرار دیا جا سکے۔
حقیقت تو یہ ہے کہ تمام ماحولیات دان استعمال شدہ چیزوں کو دوبارہ استعمال میں لانے کی نصیحت کرتے ہیں کیونکہ یہ ماحول کے لیے اچھا ہے۔


دلچسپ بات یہ ہے کہ میں جو لینکس آپریٹنگ سسٹم استعمال کرتا ہوں، اس کی سب سے مقبول خوبیوں میں اس خوبی کا بھی اکثر ذکر کیا جاتا ہے کہ یہ پرانے کمپیوٹروں کو نئے سرے سے قابلِ استعمال بناتا ہے چنانچہ دیگر نظاموں کی نسبت زیادہ ماحول دوست ہے۔ اگر ترقی یافتہ ممالک والے خود بھی استعمال شدہ کمپیوٹروں کو دوبارہ استعمال میں لانے کو ایک خوبی اور "ماحول دوستی" قرار دیتے ہیں تو پھر ہمارے ان کمپیوٹروں کو استعمال کرنے میں کیا برائی ہے؟


اب ذرا بازار میں بکنے والے ایک عام کمپیوٹر پر نظر ڈالتے ہیں۔ سٹیل اور پلاسٹک کا ایک فریم، تانبے کے تار، پلاسٹک کے کچھ سرکٹ بورڈ، جن پر دھاتی تار اور چھوٹے چھوٹے کچھ برقی آلات ہیں۔ مانیٹر اگر سستا ہے تو کیتھوڈ رے ٹیوب والا، اور اگر مہنگا ہے تو ایل سی ڈی۔ سلیکان یا کسی اور نیم موصل مادے پر مبنی انٹگریٹڈ سرکٹس، ایک دو مقناطیسی حصے (ہارڈ ڈسک اور سپیکر) جو کہ ظاہری بات ہے کہ دھاتوں پر ہی مبنی ہیں، وغیرہ وغیرہ۔ اگر بازیافتگی کے کارخانے لگائے جاتے ہیں تو اس کا کم از کم نوے فیصد حصہ نہایت آرام سے بازیافت کیا جا سکتا ہے۔ لیکن کارخانے تو لگائے جائیں ورنہ دوسری صورت میں تو نئے کمپیوٹرز کا بھی یہی مسئلہ ہوگا جو پرانے کمپیوٹرز کا بتایا جا رہا ہے۔


2۔ پاکستان کو ضائع شدہ کمپیوٹرز کے لیے ڈمپنگ کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، اس سے پاکستان میں ماحولیاتی آلودگی پھیل رہی ہے اور ایک بار استعمال کیے ہوئے کمپیوٹرز کو دوبارہ استعمال کرنے سے مزید آلودگی پھیلنے کا خدشہ ہے۔


جواب۔ ترقی یافتہ ممالک میں عموماً امیر اور متوسط طبقے کے لوگ ہر دوسرے یا تیسرے سال اپنی بڑھتی ہوئی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے نیا اور زیادہ طاقت ور کمپیوٹر خریدتے ہیں۔ ان کے لیے جگہ بنانے کے لیے پرانے کمپیوٹرز کو "جائیداد سے عاق" کر دیا جاتا ہے حالانکہ ان میں سے بیشتر پوری طرح قابلِ استعمال ہوتے ہیں۔ ان میں سے جو کمپیوٹر کسی خرابی کی وجہ سے قابلِ استعمال نہیں رہتے، ان کو بازیافتگی کے لیے بھیج دیا جاتا ہے جہاں پارے جیسے خطرناک مرکبات پر مشتمل اشیاء کے لیے الگ سے بازیافتگی کا انتظام کیا ہوا ہوتا ہے۔ میرے خیال میں اگر چیک کیا جائے تو وہاں کے قانون میں بھی مضرِ صحت اشیاء کی تیاری، فروخت اور برآمدات پر پابندیاں ملیں گی۔ اگر کمپیوٹرز کے حوالے سے ایسی پابندیاں نہ ہوں تو بھی فروخت تو صرف وہی کمپیوٹر ہوں گے جو ابھی تک اچھی حالت میں ہوں کیونکہ وہی چیز بکے گی جس کا کوئی گاہک ملے گا۔ جس چیز کا (اس کی خراب حالت کی وجہ سے) کوئی گاہک ہی نہ ہو، اسے بیچا کس کو جائے گا کہ وہ یہاں تک پہنچ بھی پائے؟
ان قابلِ استعمال کمپیوٹروں میں سے کچھ تو وہیں کے غریب شہری خرید لیتے ہیں۔۔۔
Image: Computing Outdoors


جبکہ بیشتر پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں آ جاتے ہیں جہاں کے لوگ نئے کمپیوٹر خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ یہ کمپیوٹر نہ صرف یہاں پر کافی عرصہ تک چلتے ہیں بلکہ (غربت کی وجہ سے) ایک شخص کے استعمال کے بعد دوسرے کے استعمال میں آتے رہتے ہیں یہاں تک کہ جل جائیں یا کسی اور وجہ سے ناقابلِ استعمال ہو جائیں۔ اور جب ان کی عمر ختم ہو جاتی ہے تو حکومت کی جانب سے ان کو ٹھکانے لگانے کا کوئی بندوبست ہی نہیں ہے ورنہ نوے فیصد حصہ تو آرام سے بازیافت ہو سکتا ہے۔
بلکہ بازیافتگی کے کارخانے تو لازمی ہیں چاہے ہم نئے کمپیوٹر استعمال کرتے ہوں یا پرانے کیونکہ بنیادی طور پر تو سب کی ساخت ایک جیسی ہی ہوتی ہے۔ کیا نئے کمپیوٹر کسی دور میں خراب نہیں ہوں گے؟ کیا انہوں نے آبِ حیات پی رکھا ہے؟ جب ایسا ہوگا تو اس کے لیے ہم نے کتنی تیاری کر رکھی ہے؟


یہ عجیب منطق ہے کہ کمپیوٹر ایک بار استعمال ہو جائے تو مضرِ صحت ہو جاتا ہے۔ کمپیوٹر ہے کہ ٹائلٹ پیپر؟ یا اسے خود ہی پتا چل جاتا ہے کہ اب میں ایک بار استعمال ہو چکا ہوں چنانچہ زہریلا ہو جاتا ہے؟
ہاں کچھ کمپیوٹر ایسے آ جاتے ہیں جو واقعی بہت زیادہ بگڑی ہوئی حالت میں ہوتے ہیں اور ماحول کے لیے نقصان دہ ہوتے ہیں۔ لیکن ایسے میں ان کمپیوٹروں کو فلٹر کرنا چاہیے نہ کہ تمام استعمال شدہ کمپیوٹروں پر ہی پابندی لگا دی جائے۔


مجموعی طور پر دیکھا جائے تو ماحولیاتی آلودگی پرانے کمپیوٹروں سے نہیں بلکہ کچرا بازیافت کرنے کے کارخانے نہ ہونے کی وجہ سے پھیل رہی ہے۔ ہمیں پرانے کمپیوٹروں پر پابندی کی نہیں، بازیافتگی کے کارخانوں کی ضرورت ہے۔ صرف کمپیوٹروں کے لیے ہی نہیں بلکہ ان تمام برقی آلات کے لیے جو کہ گھروں میں عام استعمال ہوتے ہیں اور کمپیوٹر کی نسبت کہیں بڑی تعداد میں پائے جاتے ہیں۔ چاہے نئے ہوں یا پرانے۔


یہاں پر ایک مثال دینا چاہوں گا۔ پولیتھین کے لفافے اگر یوں ہی پھینک دیے جائیں تو ماحول کے لیے نقصان دہ ہوتے ہیں۔ فرض کریں کہ ایک بار استعمال ہو جانے والے پولیتھین کے تھیلوں پر پابندی لگا دی جاتی ہے۔ ایسی صورت میں کیا ہوگا؟ لفافوں کی بازیافتگی کے کارخانے تو ہیں ہی نہیں (اگر ہیں تو ضرورت سے انتہائی کم) چنانچہ ایک بار استعمال ہو جانے والے لفافوں کو لوگ یوں ہی پھینک دینے پر مجبور ہو جائیں گے جبکہ دوسری طرف ضرورت تو برقرار رہے گی ہی کیونکہ کاغذ اور کپڑے کے تھیلے ہر صورت میں استعمال نہیں ہو سکتے۔ چنانچہ ایک بار استعمال ہو جانے والے لفافوں کا کچرا الگ اور ساتھ ساتھ ضرورت کو پورا کرنے کے لیے نئے لفافے بنانے کا عمل بھی جاری رہے گا جس کی وجہ سے تھیلوں کی تعداد مزید بڑھے گی جنہیں ٹھکانے لگانے والا کوئی نہیں ہوگا۔ کیا یہ ماحول کے لیے اچھا ہوگا؟ یا یہ اچھا ہوگا کہ بازیافتگی کے کارخانوں کی تعداد بڑھائی جائے؟ یہ معاملہ بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ ضرورت بازیافتگی کے کارخانوں کی ہے جبکہ پابندی پرانے کمپیوٹروں پر لگائی جا رہی ہے۔


3۔ پاکستان کا امیج خراب ہوتا ہے کہ "پاکستان کچرا خرید رہا ہے"۔


جواب۔ جیسا کہ میں پہلے ہی واضح کر چکا ہوں، استعمال شدہ اشیاء کو دوبارہ استعمال میں لانا کوئی برائی نہیں بلکہ ماحول کے لیے فائدہ مند ہے۔ تو ایسے میں اگر لوگ باتیں کرتے ہیں (حالانکہ حقیقت میں کسی کو پروا نہیں کہ پاکستان کیا خریدتا ہے) تو ہمیں کوئی پروا نہیں ہونی چاہیے۔


4۔ پرانے کمپیوٹر بجلی زیادہ استعمال کرتے ہیں۔


جواب۔ آج کل مارکیٹ میں دستیاب نئے کمپیوٹروں کا پرانے کمپیوٹروں کے ساتھ موازنہ کیا جائے تو میرے خیال میں نئے کمپیوٹروں میں بجلی کی بچت کی اوسط شرح 10 سے 20 فیصد کے درمیان ہی ہوگی۔ ایسے میں اگر پرانے کمپیوٹروں پر پابندی لگائی جاتی ہے تو بجلی کی صورتِ حال پر کوئی قابلِ ذکر فرق نہیں پڑنے والا کیونکہ کمپیوٹرز کی نسبت کہیں زیادہ بجلی دوسرے آلات میں خرچ ہو جاتی ہے۔ چنانچہ یہ فرق اتنا کم ہو جاتا ہے کہ اسے بحفاظت نظر انداز کیا جا سکتا ہے۔ یہ کوئی اتنی بڑی چیز نہیں ہے جس کے لیے ہم پوری قوم کو تعلیم سے ہی محروم کر دیں اور انہیں مزید جہالت اور نتیجتاً مزید غربت کی طرف دھکیل دیں۔
ویسے آپس کی بات ہے، بجلی کی بچت اور ماحول کے تحفظ کے لیے بھی عوام میں وسائل کو بہتر طور پر استعمال کرنے کا شعور پیدا کرنے کی ضرورت ہوگی جو کہ تعلیم کی عدم موجودگی میں ناممکن ہے۔


5۔ استعمال شدہ کمپیوٹرز کی کھپت بڑھنے کی وجہ سے مقامی طور پر اسمبل ہونے والے کمپیوٹرز کی صنعت اور مارکیٹ بہت متاثر ہو رہی ہے۔


جواب۔ اس تمام فساد کی اصل جڑ تو یہی ہے۔ ڈالر کی پجاری امریکی کمپیوٹر ساز کمپنیوں کو یہ بات ہضم نہیں ہوتی کہ ہمارے ملک سے انہیں اربوں ڈالر کی آمدنی کیوں نہیں ہو رہی۔ لالچ کی کوئی حد بھی ہوتی ہے کہ نہیں؟
ہاں پرانے کمپیوٹرز کے کاروبار کی وجہ سے پاکستان میں مقامی کمپیوٹر اسمبلنگ کی صنعت تھوڑی کم منافع بخش ہو گئی ہے لیکن اگر ترقی کرنی ہے تو بڑے فوائد کے لیے چھوٹے منافع کی قربانی دینی ہوگی۔ کمپیوٹر آج کے دور میں تعلیم کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ تعلیم عام ہوگی تو خوشحالی آئے گی اور تب پھر لوگ نئے کمپیوٹر خریدنے کے قابل بھی ہو جائیں گے۔
پرانے کمپیوٹرز پر پابندی کے نتیجے میں اسمبلنگ والوں کے منافع میں تو کوئی خاص اضافہ نہیں ہوگا (کیونکہ بیشتر لوگ فاقوں سے مرنے کے بجائے کمپیوٹر نہ خریدنے کو ترجیح دیں گے)، البتہ اس کے نتیجے میں تعلیم جو غریب کی پہنچ سے مزید دور ہوگی، اس سے صرف غریب طبقہ ہی متاثر نہیں ہوگا بلکہ طویل المیعاد طور پر مقامی اسمبلر بھی متاثر ہوں گے۔ کیونکہ تعلیم کی کمی سے غربت کی شرح مزید بڑھے گی اور نئے کمپیوٹر خریدنا مزید لوگوں کے بس سے باہر ہوتا جائے گا۔ تو یہ اسمبلر مجھے یہ بتائیں کہ جب ہوتے ہوتے ہر کوئی غریب ہو جائے گا اور کوئی بھی ان کے کمپیوٹر نہیں خرید پائے گا، تب یہ لوگ کیا کریں گے؟
لہٰذا بہتر یہی ہے کہ یہ لوگ اپنی صنعت کے مستحکم ہونے کے لیے تھوڑا سا انتظار کر لیں۔ اور اگر حکومت کو ان سے واقعی اتنی ہمدردی ہے تو پہلے غربت کو دور کرنے کا کوئی انتظام کرے تاکہ ان کی مصنوعات لوگوں کی پہنچ میں آئیں۔ ورنہ کمپیوٹر ساز کمپنیوں کو اپنے پرزہ جات کی تیاری کے کارخانے یہیں لگانے پر مجبور کرے تاکہ نئے کمپیوٹرز کی قیمت میں کمی آئے۔ اس طرح وہ ایندھن بھی بچے گا جو ان پرزہ جات کو یہاں تک پہنچانے میں خرچ ہوتا ہے یعنی ماحول کو بھی کچھ فائدہ ہو جائے گا۔


اب ایسی پابندی لگنے کی صورت میں ملک کو پہنچنے والے نقصان کا جائزہ لیتے ہیں۔


1۔ تعلیم لوگوں کی پہنچ سے مزید دور ہوگی۔


ایسی پابندی کی صورت میں سب سے زیادہ نقصان طالبِ علم کا ہوگا جس پر قوم کے مستقبل کا دار و مدار ہے۔ تعلیم کی مجموعی حالت تو پہلے ہی خراب ہے، یہ فیصلہ ہمیں تعلیم کے معاملے میں مزید پستیوں کی طرف دھکیل دے گا۔ پاکستانی طلبائے علم میں سے زیادہ تر غریب اور متوسط طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ کاغذ پر چھپنے والی کتابیں تو آج کل اتنی مہنگی ہیں کہ مجھ جیسا کوئی طالبِ علم پورے سال میں تین چار بڑی کتابیں بھی نہ خرید پائے حالانکہ میں تو غریب کے زمرے میں بھی نہیں آتا۔ ایسے میں کمپیوٹر ہمارے لیے علم کے ذخائر تک رسائی کا بہترین ذریعہ ہے۔ ایک کھٹارے کمپیوٹر اور ایک کچھوے جیسے رینگتے انٹرنیٹ کنکشن کی بدولت طلبائے علم کی ایک بڑی تعداد سال بھر میں درجنوں کتابیں پڑھ لیتی ہے۔


حصولِ عبرت کے لیے ایک نظر میرے کھٹارے کو دیکھیے گا۔
Image: My Dear Khatara PC


یہ ہمارے گھر میں چار سال پہلے آیا تھا اور سائنسی علوم میں میں نے اپنی پوری زندگی میں جو کچھ بھی سیکھا ہے، اس کا سب سے زیادہ حصہ میں نے انہی چار سالوں کے دوران سیکھا ہے۔


اگر یہ ذریعہ بھی ہم طلبائے علم سے چھن گیا تو قوم کے مستقبل کا کیا ہوگا؟ بازار میں ایک اچھا سا استعمال شدہ کمپیوٹر 6 ہزار سے 8 ہزار میں مل جاتا ہے جبکہ بالکل نیا 25 ہزار سے 45 ہزار کا ملتا ہے۔ غریب کو چھوڑیں، کیا ایک متوسط طبقے کا طالبِ علم بھی اتنا مہنگا سامان خرید سکتا ہے؟ ایسے میں تو صرف ایک ہی نتیجہ آئے گا کہ تعلیم لوگوں کی پہنچ سے مزید دور ہوتی جائے گی اور جہالت و غربت مزید بڑھتی جائے گی۔


ساتھ ساتھ چونکہ سکولوں میں بھی کمپیوٹر کی تعلیم رواج پاتی جا رہی ہے، چنانچہ انہیں کمپیوٹر کا خرچ پورا کرنے کے لیے اپنی فیسیں بڑھانی پڑیں گی۔ یعنی طالبِ علم کی دونوں طرف سے خوب دھلائی ہوگی۔


2۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کی صنعت تباہ ہو جائے گی۔


اس فیصلے کے نتیجے میں چونکہ کمپیوٹر لوگوں کی پہنچ سے مزید دور ہو جائیں گے، اس لیے انفارمیشن ٹیکنالوجی کی صنعت میں جو پاکستان میں ترقی ہوئی ہے، وہ بھی الٹے قدموں واپس صفر پر پہنچ جائے گی۔


3۔ حکومت کا خرچہ بڑھے گا۔


آج کل تمام دفاتر میں کمپیوٹر ایک بنیادی ضرورت بن چکا ہے جن میں سرکاری دفاتر بھی شامل ہیں۔ پرانے کمپیوٹروں پر پابندی کی صورت میں حکومت کو سرکاری دفاتر میں کمپیوٹروں کے انتظام کے لیے موجودہ مقدار سے کئی گنا زیادہ رقم خرچ کرنی پڑے گی۔ سرکاری سکولوں میں تو کمپیوٹر کا انتظام کیا ہی نہیں جاتا۔ لیکن اگر سکولوں پر ایمانداری سے کام کرنا پڑ گیا تو لگ پتہ جائے گا۔


4۔ لاکھوں افراد کی بے روزگاری۔


اور جیسا کہ پہلے بھی کئی بار آپ ذکر سن چکے ہوں گے، اس سے استعمال شدہ کمپیوٹرز کی تجارت سے وابستہ لاکھوں افراد بے روزگار ہو جائیں گے۔


5۔ اسمگلنگ کا رجحان بڑھے گا۔


اس پابندی سے اسمگلنگ کا رجحان بڑھے گا کیونکہ جب لوگوں کو اپنی جائز ضروریات جائز طریقے سے پوری نہیں کرنے دی جائیں گی تو وہ ٹیڑھی انگلی سے گھی نکالنے پر مجبور ہو جائیں گے۔ اس سے پاکستان کے خزانے کو شدید نقصان پہنچے گا۔


تو اس طویل مضمون سے کیا نتیجہ حاصل ہوا؟


میرے خیال میں تو اس سے یہی نتیجہ حاصل ہوتا ہے کہ اس پابندی کے نفاذ کے لیے جو دلائل پیش کیے جا رہے ہیں، وہ سب انتہائی کمزور ہیں۔ بلکہ ماحول کی حفاظت کی بات کرنے والی کمپنیاں خود اس قدم کے ذریعے ماحول کو مزید نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ اور پاکستان کو پہنچنے والا شدید نقصان تو اس کے علاوہ ہے۔ ہمارا اصل مسئلہ بازیافتگی کے کارخانوں کی عدم دستیابی ہے جن کی ضرورت ہر حال میں ہوگی چاہے ہم پرانے کمپیوٹر استعمال کریں یا نئے۔


کچھ تجاویز:


1۔ میرے نزدیک اس سلسلے میں سب سے اہم کام تو یہ ہے کہ کچرا بازیافت کرنے کے کارخانے لگائے جائیں جہاں صرف کمپیوٹر ہی نہیں بلکہ ہر قسم کے کچرے کو بازیافت کیا جائے۔ یہ ماحول کے لیے تو مفید ہوں گے ہی۔ ساتھ ساتھ مختلف دھاتوں اور پولیمرز وغیرہ کی درآمد پر خرچ ہونے والی رقم میں کافی بچت کا ذریعہ بھی بنیں گے۔ اور کچھ لوگوں کو روزگار بھی مل جائے گا۔


2۔ نئے اور پرانے دونوں اقسام کے کمپیوٹرز میں چھانٹی کا انتظام کیا جائے اور جو آلات ماحول کے لیے بہت نقصان دہ ہوں، انہیں روک لیا جائے اور باقیوں کو آنے دیا جائے۔ مثلاً 14 یا 15 انچ سے بڑے کیتھوڈ رے ٹیوب مانیٹر کی عموماً ضرورت بھی نہیں ہوتی اور یہ بجلی بھی زیادہ استعمال کرتے ہیں۔ ان پر پابندی لگائی جا سکتی ہے۔


3۔ کمپیوٹر ساز کمپنیوں کے یہاں صرف اسمبلنگ کے کارخانے ہیں جہاں صرف درآمد شدہ پرزہ جات کو جوڑ کر کمپیوٹر بنا دیا جاتا ہے۔ ان کے پرزہ جات کی یہاں مقامی طور پر تیاری کا انتظام کروایا جائے جیسے ہندوستان میں انٹیل کے کمپیوٹر مقامی طور پر تیار ہوتے ہیں۔ اس سے قیمتیں کم ہوں گی اور نئے کمپیوٹر لوگوں کی پہنچ میں آئیں گے۔ مقامی کارخانوں کی ماحول دوستی پر نظر رکھنا بھی زیادہ آسان ہوگا۔


آخر میں حکمرانوں کے توجہ ان احادیث کی طرف دلانا چاہوں گا۔


حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ روایت فرماتے ہیں کہ حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
“جس بندے کو بھی اللہ تعالیٰ عام لوگوں کا محافظ/حاکم بنائے اور وہ ان کی خیر خواہی نہ کرے تو وہ جنت کی خوشبو بھی نہیں سونگھے گا۔" (صحیح البخاری، کتاب الاحکام، حدیث 7150)
نیز ارشاد فرمایا:
“جو حاکم بھی عام مسلمانوں کے معاملات کا ذمہ دار بنے، اور اس حالت میں مرے کہ وہ ان کی حق تلفی کر رہا ہو، تو اللہ اس پر جنت حرام کر دے گا۔" (ایضا، حدیث 7151)

منگل، 23 مارچ، 2010

ماحول کے تحفظ کے تین R۔

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔


کل "ماحولیات گردی" کے دوران ایک عمدہ مضمون ملا۔ سوچا کہ ترجمہ کر کے یہاں لگا دوں۔ پورا سو فیصد مضمون تو ترجمہ نہیں کیا۔ جو نکات مجھ سے رہ گئے ہیں وہ یہاں پر دیکھ لیں۔


http://kids.niehs.nih.gov/recycle.htm


مضمون کچرے کی مقدار کم کر کے ماحول کی حفاظت کے متعلق ہے۔ اس میں ماحول کے تحفظ کے تین "R's" کا ذکر کیا گیا ہے۔


یہ تین R ہیں:


Reduce


Reuse


Recycle


پہلا R۔


Reduce


تھوڑے وسائل استعمال کرنا۔ صرف اتنے جن کی ضرورت ہو۔ نتیجے میں کچرا کم پیدا ہوگا۔


اس پر عمل آپ ان مصنوعات کے انتخاب کے ذریعے کر سکتے ہیں جن میں ناقابلِ استعمال حصہ کم ہو اور وہ زیادہ کچرا پیدا کرنے کا سبب نہ بنیں۔


سب سے پہلے تو مختلف مصنوعات کی خریداری اور استعمال میں کمی لائیں۔ صرف وہی سامان خریدیں جس کی آپ کو ضرورت ہے اور جو سامان خریدیں، اس کو سارے کا سارا استعمال کریں۔ ورنہ کسی اور کی طرف بڑھا دیں جو اس سے فائدہ اٹھا سکے۔ یہ خاص طور پر ان مصنوعات کے معاملے میں بہت اہم ہو جاتا ہے جنکو تلف کرنا مشکل یا ماحول کے لیے نقصان دہ ہوتا ہے، مثلاً پینٹ، کیڑے مار دوائیں اور دیگر کیمیکلز۔


خریداری کے دوران ان مصنوعات کا انتخاب کریں جن کی پیکجنگ میں بہت زیادہ اصراف سے کام نہ لیا گیا ہو۔ کیونکہ پیکجنگ کا کام بس اتنا ہوتا ہے کہ اس چیز کو محفوظ رکھے اور اس کے متعلق کچھ ضروری معلومات فراہم کرے۔ اس کے علاوہ اس کا کوئی اور کام نہیں ہوتا  چنانچہ سامان خریدنے کے بعد اس کی پیکجنگ کچرے کے بڑھتے ہوئے انبار میں جمع ہو جاتی ہے۔ چنانچہ ہمیشہ ایسی اشیاء کو ترجیح دیں جن کی پیکجنگ میں ضرورت سے زیادہ مواد کا استعمال نہ کیا گیا ہو۔


وہ اشیاء خریدیں جن کی پیکجنگ آسانی سے بازیافت (ریسائیکل) ہو سکتی ہو۔ شاندار پیکجنگ عموماً مہنگی پڑتی ہے، گاہک کو کوئی خاص فائدہ نہیں پہنچاتی، اور سب سے بڑی برائی یہ کہ کچرے کی مقدار میں اضافہ کر کے ماحول کو  نقصان پہنچاتی ہے۔ چنانچہ ہمیشہ ایسی مصنوعات کو ترجیح دیں جو سادہ اور آسانی سے بازیافت ہونے کے قابل پیکجنگ استعمال کرتی ہیں۔


صرف ایک بار قابلِ استعمال برتنوں سے حد درجہ گریز کریں (جیسے جوس اور دودھ کے ڈبے ہوتے ہیں)۔ جوس جیسی اشیاء خریدتے وقت آپ ایک بڑی قابلِ بازیافتگی بوتل یا کین میں جوس خرید کر اسے ضرورت کے تحت چھوٹی چھوٹی دوبارہ استعمال کے قابل بوتلوں وغیرہ میں بھر سکتے ہیں۔


بوتلوں میں بکنے والا پانی ضرورت کے بغیر نہ خریدیں۔ عام طور پر شہروں میں ملنے والا پانی صحت کے لیے بوتل کے پانی جتنا ہی اچھا ہوتا ہے، اس سے کہیں زیادہ سستا ملتا ہے، اور بہت سی صورتوں میں تو بوتل کے پانی سے زیادہ محفوظ بھی ہوتا ہے۔


روز مرہ کے استعمال کی اشیاء بڑے بڑے مجموعوں میں خریدنے سے آپ قابلِ استعمال سامان کا تناسب پیکجنگ کے مقابلے میں بڑھا سکتے ہیں۔ چینی، نمک اور مصالحوں جیسی اشیاء تو کھلی بھی بکتی ہیں جس کو آپ جتنی مقدار میں چاہیں، خرید سکتے ہیں۔ اور جو چیزیں صرف ڈبے میں بند ہی ملتی ہیں، مثلاً ٹوتھ پیسٹ، کپڑے دھونے کا پاؤڈر وغیرہ، ان کا سب سے بڑا ڈبہ خرید کر آپ نہ صرف کچرے کی مقدار کم کر کے ماحول کو فائدہ پہنچائیں گے، بلکہ اس طرح آپ کے وہ پیسے بھی بچیں گے جو بصورت دیگر پیکجنگ کی قیمت کے طور پر چلے جاتے۔


دکان کی طرف سے کوئی لفافہ تب تک نہ لیں جب تک ضرورت نہ ہو۔ اگر آپ نے صرف ایک دو اشیاء ہی خریدی ہیں تو انہیں ہاتھوں میں ہی لے جائیں۔ یا پھر گھر سے ہی ایک تھیلا لے کر جائیں جس میں سودا ڈال کر گھر لے آئیں۔ کپڑے کے تھیلے تو یہاں گھروں میں اب بھی ہوتے ہیں جو لوگ سودا خریدنے لے جاتے ہیں۔ پلاسٹک اور کاغذ کے تھیلے جو دکان سے آنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں، انہیں بھی دوبارہ استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اور جو پلاسٹک و کاغذ کے تھیلے اچھی حالت میں نہ رہیں، انہیں بازیافت کرنا نہ بھولیں۔


پائیدار اشیاء کو زیادہ سے زیادہ عرصہ استعمال کریں۔ فرنیچر، سائیکل، برقی آلات اور کھلونوں جیسی چیزیں کئی کئی سالوں تک استعمال ہو سکتی ہیں اور انہیں ہونا بھی چاہیے۔ ان چیزوں میں اگر کوئی خرابی آتی ہے تو انہیں پھینک دینے کے بجائے مرمت کر کے دوبارہ استعمال کے قابل بنائیں۔ یہ ماحول کے ساتھ ساتھ آپ کی جیب کے لیے بھی اچھا ہے۔


ڈسپوزیبل اشیاء کے بجائے پائیدار اشیاء استعمال کریں۔ مثلاً منہ اور ہاتھ پونچھنے کے لیے ٹشو پیپر کے بجائے (جو صرف ایک ہی بار استعمال کر کے پھینک دیا جاتا ہے) کپڑے کا رومال استعمال کریں۔ اسی طرح پلاسٹک کے ڈسپوزیبل برتنوں کی جگہ پائیدار برتنوں کا استعمال کریں۔


جہاں ممکن ہو،خطوط اور دیگر معلومات کے تبادلے کے لیے کاغذ کے بجائے انٹرنیٹ جیسے ذرائع کا استعمال کریں کیونکہ کاغذ کے زیادہ استعمال سے نہ صرف کچرا بڑھتا ہے، بلکہ کاغذ کی بڑھتی ہوئی مانگ کو پورا کرنے کے لیے درخت بھی زیادہ کاٹے جاتے ہیں۔


اگر آپ کے گھر میں کچھ خالی جگہ ہو تو وہاں ایک باغیچہ بنا لیں جہاں اپنی خوراک کا کچھ حصہ خود اگائیں۔ خود جو خوراک آپ اگائیں گے، اسے نہ تو پراسیس کرنے کی ضرورت پڑے گی، نہ اس کے لیے پیکجنگ کی ضرورت ہوگی اور نہ ہی اسے آپ تک پہنچانے میں رکازی ایندھن کا استعمال ہوگا۔


گھر کے کچرے کا کچھ حصہ آسانی سے گل کر مٹی کا حصہ بن سکتا ہے۔ مثلاً پھلوں اور سبزیوں کے چھلکے، کاغذ، پتے وغیرہ۔ ان اشیاء کو آپ ورمیکلچر کے ذریعے تیزی سے گلا کر اپنے باغیچے کی زرخیزی بڑھانے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔


دوسرا R۔


Reuse


کسی چیز کو استعمال کرنے کے بعد، اگر وہ مناسب حالت میں ہو، تو اسے پھینکنے کے بجائے آپ اسے دوبارہ استعمال کر سکتے ہیں۔ یا کسی اور شخص کو دے دیں جو اس سے فائدہ اٹھا سکے۔ کچھ مثالیں:


ریستوران وغیرہ میں ڈسپوزیبل پیالوں کے استعمال کے بجائے دھلنے کے قابل پیالے اپنے ساتھ لے جائیں۔ بہت سے ریستوران اور سٹور آپ کو خوشی خوشی آپ کے پیالے میں ہی مشروب بھر دیں گے۔


اگر کبھی آپ کو ڈسپوزیبل برتن یا خوراک ذخیرہ کرنے کے تھیلے استعمال کرنے بھی پڑیں تو انہیں پھینکنے کے بجائے دھو کر دوبارہ استعمال کریں۔ ان میں سے زیادہ تر کافی عرصہ تک بار بار استعمال ہو سکیں گے۔ اگرچہ ان اشیاء کو نئے سرے سے بنانے پر زیادہ خرچ نہیں آتا، لیکن ان کو یوں ہی پھینک دینا اتنا ہی دانش مندی کا کام ہوگا جتنا کہ اپنی بائیسکل کو صرف ایک بار استعمال کر کے پھینک دینا۔


اور بائیسکل کی بات ہوئی تو کیوں نہ اس کے (اور واشنگ مشین، ڈرائیر جیسی دیگر پائیدار چیزوں کے) ٹوٹنے یا خراب ہونے پر نئی چیز خریدنے کے بجائے اسی کو مرمت کر کے دوبارہ استعمال کے قابل بنایا جائے؟ نئی چیز ہمیشہ بہتر تو نہیں ہوتی، نہ ہی ہمیشہ ضروری ہوتی ہے۔ اس طرح آپ ماحول کو تو بہتر بنائیں گے ہی، ساتھ ہی آپ کی جیب بھی آپ کی شکر گزار ہوگی۔


اور اگر کبھی آپ کو کسی دوبارہ قابلِ استعمال چیز کی ضرورت نہیں رہتی یا آپ اس کی جگہ نئی چیز لانے کا فیصلہ کر ہی لیتے ہیں تو اسے یوں ہی پھینک دینے کے بجائے ضروری مرمت کر کے خیرات میں بھی دیا جا سکتا ہے۔


اگر گھر میں بہت سی غیر مستعمل چیزیں پڑی ہوں تو ان کی سیل بھی لگائی جا سکتی ہے۔ اور اگر ممکن ہو تو ہمسایوں کو بھی ساتھ شرکت کی دعوت دیں۔ اس سے نہ صرف کام کا بوجھ تقسیم ہوگا بلکہ ایسی غیر مستعمل چیزوں کی تعداد بھی بڑھے گی جو اس سیل کے ذریعے دوبارہ کسی کے استعمال میں لائی جا سکیں گی۔


جب کوئی سامان خریدنے کی ضرورت پڑے تو نئی چیز خریدنے سے پہلے دیکھیں کہ شاید کہیں پر استعمال شدہ چیزوں کی دکانوں یا کسی ایسی ہی سیل میں آپ کے مطلب کی چیز دستیاب ہو۔


تحائف دینے کے لیے کپڑے کے بنے ہوئے تھیلے استعمال کریں اور تحائف پر جو سجاوٹ کا کاغذ لگا ہوتا ہے، اسے پھاڑیں نہیں۔ اگر آپ اسے احتیاط سے اتاریں تو اسے دوبارہ بھی استعمال کیا جا سکتا ہے اور اس میں کوئی برائی نہیں ہے۔ اور خریداری کے لیے جاتے وقت کپڑے یا کینوس کے تھیلے ساتھ لینا نہ بھولیں تاکہ آپ کو دکان پر سے ایک اور پلاسٹک یا کاغذ کا تھیلا نہ لانا پڑے۔


کاغذی نیپکن کے بجائے کپڑے کے بنے نیپکن استعمال کریں جو کہ دھو کر دوبارہ استعمال کیے جا سکتے ہیں۔


بچوں کے لیے ڈسپوزیبل ڈائپر کے بجائے دھلنے کے قابل کپڑے سے بنے ہوئے ڈائپر استعمال کریں۔ اگر ان پر ویلکرو (چپک پٹی) لگا ہو تو یہ بھی ڈسپوزیبل ڈائپر جتنے ہی باسہولت اور اس سے کہیں زیادہ سستے پڑیں گے۔


تیسرا R۔


Recycle


بازیافتگی کے عمل میں آپ دوبارہ استعمال کے قابل کسی چیز کو یوں ہی پھینک دینے کے بجائے کسی ایسی جگہ بھیجتے ہیں جہاں اس سے یا تو ویسی ہی یا کسی اور نوعیت کی نئی اشیاء بنائی جاتی ہیں۔ اس طرح نئی اشیاء کی تیاری میں کم توانائی اور دیگر وسائل کا استعمال ہوتا ہے بنسبت ان کو بالکل نئے سرے سے بنانے کے۔


آپ کے گھر میں موجود تقریباً ہر ایسی چیز کو، جو اسی شکل میں دوبارہ استعمال نہیں ہو سکتی، بازیافتگی کے ذریعے کسی اور چیز میں ڈھالا جا سکتا ہے۔ آپ اگر غور کریں تو حیران رہ جائیں گے کہ بازیافت شدہ مواد سے کیا کیا بنایا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر ایک پلاسٹک کی بوتل سے حاصل ہونے والا مواد ٹی شرٹ، کنگھی اور پلاسٹک کی کئی دوسری اشیاء میں استعمال ہو سکتا ہے جو کہ پھر کئی کئی سالوں تک چل سکتی ہیں۔ یہاں تک کہ آپ کا بالکل نیا اور شان دار کمپیوٹر کیس بھی عام بازیافت شدہ پلاسٹک کا بنا ہوا ہو سکتا ہے۔ اور اسی طرح کاغذ کی مصنوعات بھی مختلف اشکال اختیار کر سکتی ہیں۔ کوئی پرانی فون بک بازیافت ہو کر آپ کی نوٹ بک بن سکتی ہے یا وہ بازیافت شدہ کاغذ کسی اور کتاب میں استعمال ہو سکتا ہے۔


آپ کا کام سادہ ہے۔
کوئی بھی ایسی چیز بے کار نہ پھینکیں جس کی بازیافتگی ممکن ہے۔




یہ کچھ ایسی چیزوں کی فہرست ہے جنہیں ہمیشہ بازیافت (یا دوبارہ استعمال) کرنا چاہیے۔


تیزاب پر مشتمل بیٹریاں، ایلومینیم کے کین، تعمیراتی سامان، گتا، کیمیکلز، برقی آلات، شیشہ (خصوصاً بوتلیں اور مرتبان)، سیسہ، رسائل، دھات، اخبار، تیل، پینٹ، کاغذ، پلاسٹک کے تھیلے، پلاسٹک کی بوتلیں، سٹیل کے کین، ٹائر، لکڑی، گھر کا کچرا۔


ان میں سے کچھ اشیاء کی بازیافتگی میں خصوصی احتیاط اور مخصوص مقامات کی ضرورت ہوگی۔ ان معلومات کے لیے اپنے مقامی بازیافتگی کے مرکز سے رابطہ کریں (کاش پاکستان میں بھی ایسے مراکز ہوتے)۔


تو آپ نے دیکھا کہ یہ کتنا آسان ہے۔ اتنی کم محنت میں آپ اپنے ماحول کی حفاظت کے لیے اتنا کچھ کر سکتے ہیں۔ اور زبردست بات یہ کہ اس عمل کے دوران آپ بہت سی رقم بھی بچا لیں گے۔

اتوار، 28 فروری، 2010

چیونٹی نامہ

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔


چیونٹی سے ہمارا واسطہ تقریبا ہر روز پڑتا رہتا ہے لیکن عام طور پر لوگ اسے نظر انداز کر دیا کرتے ہیں۔ آئیے آج ہم چیونٹیوں کی دنیا کی سیر کو چلتے ہیں اور ان سے کچھ سیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔


ابتداء کرتے ہیں اس چیونٹی سے جو سامنے فرش پر دوڑ رہی ہے۔ ذرا غور کیجیے گا کہ کیسے اس نے اپنی جسامت سے کہیں بڑا دانہ اٹھا رکھا ہے اور اتنے بوجھ کو اٹھا کر بھی اس کی رفتار قابلِ دید ہے۔ (اپنے حجم کے لحاظ سے) اتنی رفتار سے تو کوئی انسان پاگل کتے سے بچنے کے لیے بھی شاید ہی دوڑ لگاتا ہو، چہ جائیکہ اپنی ذمہ داریوں کے معاملے میں اتنی لگن دکھائے۔ جبکہ اس چیونٹی کی کام کی لگن کا یہ عالم ہے کہ جتنی تیزی سے دوڑ سکتی ہے، دوڑے جا رہی ہے۔
اب ذرا اس کے راستے میں ایک رکاوٹ رکھ دیجیے۔ دیکھیے، کیسے یہ بے چینی سے اس کے پار جانے کا راستہ ڈھونڈتی ہے۔ رکاوٹ کو کام چوری کا بہانہ نہیں بناتی۔ ذرا سی دیر کو بھی رکے بغیر، اپنے سے سینکڑوں گنا بڑی رکاوٹ کو دیکھ کر ہمت ہارے بغیر، رکاوٹ کو عبور کرنے میں لگ جاتی ہے۔ اگر رکاوٹ کو پار نہیں کر پاتی تو پھر سے کوشش کرتی ہے۔ بار بار کوشش کرتی رہتی ہے جب تک کہ اس رکاوٹ کو عبور نہ کر لے۔ اور اس مشقت کے بعد بھی اپنی ساتھی چیونٹیوں کا اتنا خیال کہ رکاوٹ کے پار جانے کے راستے کو نشان زد کر دیتی ہے تاکہ ان کو اس مشقت سے نہ گزرنا پڑے جس سے اس کو گزرنا پڑا۔
Calvin and Hobbes look at ants
Calvin and Hobbes looking at ants. Image credits: Bill Watterson.


یہاں پر، اگر آپ کو معلوم نہیں تو، بتاتا چلوں کہ چیونٹیوں کا خوراک کا انتظام کرنے کا کیا طریقہ کار ہوتا ہے۔ پہلے چیونٹیاں الگ الگ خوراک کے ذخائر کی تلاش میں مختلف سمتوں میں پھیل جاتی ہیں۔ پھر جب کسی چیونٹی کو کوئی ذخیرہ ملتا ہے تو وہ وہاں سے واپسی پر اس تک رسائی کے راستے کو مخصوص کیمیائی مادوں کے ذریعے نشان زد کر آتی ہے۔ ان کیمیائی مادوں کی مدد سے دوسری چیونٹیاں وہاں تک پہنچتی ہیں اور وہ بھی واپسی پر راستے کو نشان زد کرتی ہیں جس سے نشان مزید گہرا ہو جاتا ہے۔ یہ کیمیائی نشانات آہستہ آہستہ منتشر ہو جاتے ہیں چنانچہ گہرا نشان پیچھے آنے والی چیونٹیوں کے لیے ایک طرح کا پیغام ہے کہ اس راستے پر خوراک کا ایک بڑا ذخیرہ موجود ہے۔
تو ہم چیونٹی کا مشاہدہ کر رہے تھے۔ جوں جوں چیونٹی بل کے زیادہ قریب پہنچتی جاتی ہے، ہمیں مزید چیونٹیاں بھی راستے میں ملتی ہیں جو کہ سب کی سب اپنے کام میں مگن ہیں۔ کوئی بھی فارغ کھڑی ہوئی نہیں ملتی حتیٰ کہ دو لمحوں کو بھی کوئی نہیں رکتی۔ ہر ایک پر کام کا بھوت سوار ہے۔ «کام، کام اور بس کام» کا نعرہ تو ہم لگاتے ہیں لیکن عمل اس پر یہ ننھی ننھی چیونٹیاں کر رہی ہیں۔ ایک طرف ہم انسان خود کو بس اشرف المخلوقات کہہ کر دل خوش کر لیتے ہیں لیکن حقیقت میں ایسا کوئی بھی کام کرنے کو تیار نہیں کہ خود کو اس خطاب کا اہل ثابت کر سکیں۔ جبکہ دوسری طرف یہ ننھی ننھی چیونٹیاں نہ نعرے لگاتی ہیں اور نہ ہی اپنی صلاحیتوں پر کسی قسم کا کوئی غرور کرتی ہیں۔ لیکن ہر چیز سے بے نیاز محنت و مشقت میں لگی ہوئی ہیں تاکہ اپنی کالونی کو زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچا سکیں۔
کام کے دوران کبھی کبھار کوئی چیونٹی کسی حادثے کا شکار ہو کر زخمی ہو جاتی ہے تو دوسری چیونٹیاں نہ تو یہ سوچ کر اس کو نظر انداز کرتی ہیں کہ «شکر ہے میں بچ گیا/گئی۔ جان عزیز ہے تو اسے دفع کرو اور پتلی گلی سے نکل لو!» اور نہ ہی اس کے گرد تماشہ دیکھنے کھڑی ہو جاتی ہیں۔ بلکہ فورا قریب سے گزرنے والی کوئی چیونٹی مدد کو پہنچتی ہے اور اسے اٹھا کر کالونی کی طرف لے جاتی ہے۔

اب ہم کالونی کی حدود میں داخل ہو رہے ہیں۔ بل کے اندر داخل ہوتے ہی ہمیں ایک عظیم الشان انتظامی ڈھانچہ نظر آتا ہے۔ چھوٹی بڑی بے شمار چیونٹیاں اپنے اپنے کام میں مصروف ہیں۔ کچھ خوراک جمع کرنے کا کام کر رہی ہیں، کچھ ملکہ کا خیال رکھنے میں مصروف ہیں، کسی کے ذمے کالونی کو صاف ستھرا رکھنے کی ذمہ داری ہے، کوئی خوراک کو کارکنوں تک پہنچانے میں مصروف ہے تو کوئی کالونی کی حفاظت پر مامور ہے۔ طرح طرح کی چیونٹیاں، مختلف ذمہ داریاں، لیکن مقصد ایک ہی کہ کالونی کو مضبوط سے مضبوط تر بنانا ہے۔ ان کے نزدیک نہ کوئی کام بڑا ہے اور نہ کوئی کام چھوٹا۔ یہ خیال کسی کے ذہن میں نہیں آتا کہ میں جو کام کر رہا/رہی ہوں، وہ تو میرے شایانِ شان نہیں۔ نہ ہی کام کی زیادتی کی کوئی شکایت کسی کے لبوں پر آتی ہے۔ سب ہی بس اپنی اپنی استطاعت کے مطابق اپنی صلاحیتوں کا استعمال کرتے ہوئے کالونی کو طاقت ور اور مضبوط تر بنانے میں لگے ہوئے ہیں۔


یوں تو چیونٹیوں کی اس دنیا میں اور بھی کئی چیزیں قابلِ دید اور قابلِ غور ہیں لیکن ان سب کا احاطہ اس مختصر سی سیر میں ممکن نہیں۔ چنانچہ آج کی اپنی سیر کو یہیں پر ختم کرتے ہیں، اس نصیحت کے ساتھ کہ اپنے آس پاس کی دنیا پر غور و فکر کیا کریں کیونکہ ایک تو اللہ تعالیٰ کو اس کی نشانیوں پر غور و فکر کرنے والے بندے پسند ہیں اور دوسرا یہ کہ بعض اوقات بظاہر چھوٹی چھوٹی اور معمولی سی چیزوں میں ہمارے لیے بہت بڑے بڑے اسباق پوشیدہ ہوتے ہیں جن کی مدد سے ہم اپنی دنیا اور آخرت سنوار سکتے ہیں۔


بلا شبہ تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں۔

ہفتہ، 27 فروری، 2010

جب اللہ اور اس کا رسول فیصلہ کر دیں


بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ


وَ مَا کَانَ لِمُؤۡمِنٍ وَّ لَا مُؤۡمِنَۃٍ اِذَا قَضَی اللّٰہُ وَ رَسُوۡلُہٗۤ اَمۡرًا اَنۡ یَّکُوۡنَ لَہُمُ الۡخِیَرَۃُ مِنۡ اَمۡرِھِمۡ ؕ وَ مَنۡ یَّعۡصِ اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗ فَقَدۡ ضَلَّ ضَلٰلًا مُّبِیۡنًا [الاحزاب (33)، آیت نمبر 36)]


ترجمہ: اور کسی مومن مرد اور مومن عورت کو حق نہیں ہے کہ جب اللہ اور اس کا رسول کوئی امر مقرر کردیں تو وہ اس کام میں اپنا بھی کچھ اختیار سمجھیں۔ اور جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے وہ صریح گمراہ ہو گیا۔