سائنس لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
سائنس لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

جمعرات، 4 ستمبر، 2014

آؤ مل کر قدرت کے راز کھوجیں!

کیا آپ نے کبھی آرٹسٹوں کو دیکھا ہے؟ ایسی ایسی چیزوں میں خوبصورتی ڈھونڈ نکالتے ہیں کہ انسان دنگ رہ جاتا ہے۔ کسی بھی آرٹسٹ کے ساتھ کچھ وقت گزارنے پر آپ کو محسوس ہوگا کہ یہ لوگ اس حسن کو صرف خود ہی محسوس کر کے مطمئن نہیں رہ پاتے بلکہ وہ اسے سب کے ساتھ بانٹنا چاہتے ہیں۔ ان کی یہی کاوش فن پاروں کی تشکیل کا باعث بنتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ  آج ہمارے پاس وان گوف کی تصاویر سے لے کر جوہان باخ کی دھنیں تک موجود ہیں۔
 ایک سائنس دان بھی کسی  آرٹسٹ سے زیادہ مختلف نہیں ہوتا۔ اس کو بھی قدرت کے مظاہر میں، اس کے رازوں میں، جمال و رعنائی نظر آتی ہے۔ ان رازوں کو کھوجنا اس کے لیے ایک دلچسپ کھیل ہوتا ہے،کیونکہ  رازوں کے اس پار مزید رعنائیاں اس کی منتظر ہوتی ہیں۔ پھر اپنی فطرت سے مجبور ہو کر وہ ان رعنائیوں کو سب کے ساتھ بانٹنا چاہتا ہے۔ اس طرح کتابیں اور تحقیقی مقالے وجود میں آتے ہیں۔ پھر وہ مزید ایسے لوگوں کی تلاش کرتا ہے جو اس منفرد خوبصورتی کی طرف، اسی کی طرح مائل ہوتے ہوں۔ چنانچہ سائنسی انجمنیں اور فورمز وجود میں آتے ہیں۔ 
تجسس سائنس فورم بھی اسی طرح کی ایک کوشش ہے۔ یہ ان لوگوں کے لیے ایک اجتماع گاہ ہے جو قدرت کی خوبصورتی کی قدر کرتے ہیں اور اس کے رازوں کو کھوجنے میں لطف اٹھاتے ہیں۔ 
یوں تو ایسی اجتماع گاہیں اور بھی کئی موجود ہیں لیکن وہاں زبان کی رکاوٹ آڑے آ جایا کرتی ہے۔ جس طرح غالب کی شاعری ہم میں سے اکثر کو انگریزی میں لطف نہیں دے پاتی، اسی طرح سائنس کا ایک اجنبی زبان میں مطالعہ بھی ہمارے لیے قدرت کے حسن کو حقیقتاً قریب سے سمجھنے میں حائل ہو جاتا ہے۔ جب آپ کسی چیز کی خوبصورتی کو ہی نہ سمجھ پائیں تو اس کی جستجو میں ستاروں سے آگے نکلنے کی خواہش کیسے پیدا کر پائیں گے، بے شک اس میں آپ کو معاشی فائدہ یا وہ سب نظر آ رہا ہو جیسا کہ سائنس کی افادیت کے متعلق کسی روایتی مضمون میں آپ کو بتایا جاتا ہے۔ یہ بھی ایک وجہ ہے کہ ہمیں اردو زبان میں سائنسی گفتگو کے لیے ایک مخصوص اجتماع گاہ بنانے کی ضرورت محسوس ہوئی۔ 
تو آئیے! ہم آپ کو دعوت دیتے ہیں کہ تجسس سائنس فورم کے رکن بنیں اور قدرت کی خوبصورتی کو جاننے اور اس کے راز کھوجنے کے اس عمل میں ہمارے ساتھ شریک ہوں۔ کہیے، کیا خیال ہے؟

منگل، 21 جنوری، 2014

سائنسی مواد اردو میں۔ ہاں یا نہیں۔ ایک دھندلا سا نقشہ

اردو زبان میں سائنسی مواد پر جب بات ہو تو دو اہم نکات اکثر سامنے آتے ہیں۔ ایک طرف کسی کا یہ کہنا ہوتا ہے کہ سائنسی مواد کی مقامی زبانوں میں موجودگی اسے عام فہم بنانے کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ دوسری جانب کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ جس سطح پر ہم ہیں، اس حالت میں لوگوں کو اردو میں سائنس پڑھانا انہیں محدود کرنے کے برابر ہے۔ کہ جس سطح پر پہنچ کر انہیں آگے کسی اور زبان کو اختیار کرنے کی ضرورت پڑی، وہاں سے ان کی مشکلات شروع جائیں گی اور آگے بڑھنا انتہائی مشکل ہو جائے گا۔ ان کے مطابق شروع سے دیگر زبانوں میں انہیں تربیت دینے سے وہ زیادہ بلند سطح پر موجود مواد، جو کہ صرف غیر زبان میں ہی دستیاب ہوگا، سے بہتر استفادہ کر سکیں گے۔ وزن دونوں ہی باتوں میں ہے۔ پہلا گروہ جب اپنی زبان میں تعلیم دینے والی ترقی یافتہ قوموں کی جانب اشارہ کرتا ہے تو دوسرے گروہ والے اس حقیقت کی طرف توجہ دلاتے ہیں کہ وہ ممالک اس معاملے میں پہلے ہی سے کافی مستحکم بنیادیں رکھتے ہیں۔
تو کیا اس کا مطلب یہ ہوا کہ اردو میں سائنسی تدریس کی کوششوں کو ترک کر دیا جائے؟
میری رائے میں ایسا نہیں۔
موجودہ صورت حال بھی قابلِ قبول تو نہیں۔ اور تبدیلی لانے کے لیے کچھ نہ کچھ تو ہاتھ پیر چلانے ہی پڑیں گے۔
لیکن جو لوگ فوری طور پر اردو میں سائنس کی تدریس رائج کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں، انہیں بھی اس دلیل کو مد نظر رکھنا ہوگا جس کا ذکر اوپر گزرا۔
تو پھر حل کیا ہے؟
یہ تو عام مشاہدہ ہے کہ پائیدار نوعیت کی بڑی تبدیلی ہمیشہ آہستہ آہستہ ہی آتی ہے۔
میرے خیال میں بہتر طریقہ یہ ہوگا کہ فی الحال رسمی سائنسی تدریس کو اسی طرح انگریزی میں چلنے دیا جائے لیکن ساتھ ساتھ اردو میں مواد کی دستیابی کی کوششیں بھی جاری رکھی جائیں۔ آج اگر میں کچھ بنیادی نوعیت کا مواد اردو میں دستیاب کر دیتا ہوں تو کل کو اگر کوئی اور آ کر اس پر کام کرنا چاہے گا تو آسانی سے اس کے اوپر تھوڑی اور عمارت کھڑی کر دے گا۔ اسی طرح پھر کوئی اور آ کر کچھ اور اینٹیں لگا دے گا۔ یوں ہوتے ہوتے، اگر اللہ نے چاہا تو، ایک دن ایسا آ ہی جائے گا کہ جب ہمارے پاس بنیادی سے لے کر اعلیٰ تعلیم تک کے لیے اردو میں مواد دستیاب ہو۔ بھلے ہی وہ وقت سو سال بعد آئے لیکن اگر چل پڑیں گے تو آہستہ آہستہ ہی سہی، سفر کٹ ضرور جائے گا۔ اور پھر اگلے مرحلے میں دیگر مقامی زبانوں میں یہ سب کام کرنا زیادہ آسان ہو جائے گا۔ اور تب ہم بھی، ان شاء اللہ، اس مقام پر پہنچ جائیں گے کہ جہاں پہنچ کر ہمارے لیے اپنی زبانوں میں سائنس کی تدریس کوئی مسئلہ ہی نہیں رہے گی۔
لیکن ایک بات کا خیال رہے! صرف مواد ہی دستیاب کرنا کافی نہیں ہوگا۔ خود تحقیق کی عادت بھی ڈالنی ہوگی۔ اس تبدیلی کو دیر پا بنانے کے لیے اس سب کے ساتھ ساتھ خود انحصاریت کی طرف بھی بڑھنا ہوگا۔ دوسروں کا جھوٹا استعمال کرنے کی عادت سے جان چھڑانی ہوگی۔
یعنی کہ بیک وقت دو جہتوں میں بڑھنا ہوگا۔ مواد کی دستیابی بھی اور تحقیق بھی۔
اس کے متوازی فی الوقت تو اپنا تدریسی نظام انگریزی میں چلانا پڑے گا۔ لیکن مجھے قوی امید ہے کہ یہ سفر قدم بہ قدم آگے بڑھتا رہا تو ایک دن ہم اس قابل ضرور ہو جائیں گے کہ انگریزی کی انحصاریت سے بہ آسانی جان چھڑا سکیں۔

جمعہ، 2 مارچ، 2012

کیا مسلمانوں کی علمی پسماندگی کے ذمہ دار امام غزالی ہی ہیں؟

چند ہی دن پہلے ایک جگہ کسی کا اعتراض پڑھا جس کا خلاصہ یہ تھا کہ مسلمانوں کے علمی زوال میں امام غزالی کا اہم کردار ہے۔

دو وجوہات نے مجھے اس معاملے کی تہہ میں جانے پر اکسایا۔ ایک تو یہ کہ اس طرح مجھے تاریخ کے متعلق کچھ سیکھنے کو ملے گا۔ دوم یہ کہ اتنی بڑی بات کو بغیر تحقیق قبول کر لینا کوئی علم دوست رویہ نہیں۔

پہلا مرحلہ تھا دعوے کا تجزیہ کرنا جس کے نتیجے میں اپنی آسانی کے لیے میں نے اسے ان دو حصوں میں تقسیم کیا۔
اول یہ کہ امام غزالی نے ریاضی کو ایک شیطانی کھیل قرار دیا۔
دوم یہ کہ امام غزالی کی وجہ سے مسلمان سائنس سے دور ہو گئے۔

پہلے حصے کے متعلق معلومات حاصل کرنے میں اپنی تاریخ سے عدم واقفیت کے باعث کافی محنت کرنی پڑی۔ لیکن آخر کار مجھے کہیں سے امام غزالی کی احیاء العلوم کا اردو ترجمہ مل گیا جس کی پہلی جلد میں مجھے یہ متن ملا۔

"غیر شرعی علوم:
غیر شرعی علوم کی بھی تین اقسام ہیں
(۱) پسندیدہ علوم
(۲) ناپسندیدہ علوم
(۳) مباح علوم
پسندیدہ علوم وہ ہیں جن سے دنیاوی زندگی کے مصالح وابستہ ہیں جیسے علمِ طب اور علمِ حساب۔ ان میں سے بعض علوم فرضِ کفایہ کی حیثیت رکھتے ہیں اور بعض صرف اچھے ہیں، فرض نہیں ہیں۔ فرضِ کفایہ وہ علوم ہیں جو دنیاوی نظام کے لیے ناگزیر ہیں۔ جیسے طب تندرستی اور صحت کی سلامتی کے لیے ضروری ہے، یا حساب کہ خرید و فروخت کے معاملات، وصیتوں کی تکمیل اور مالِ وراثت کی تقسیم وغیرہ میں لازمی ہے۔ یہ علوم ایسے ہیں کہ اگر شہر میں ان کا کوئی جاننے والا نہ ہو تو تمام اہلِ شہر کو پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ تاہم ان میں سے اگر ایک شخص بھی ان علوم کو حاصل کر لے تو باقی لوگوں کے ذمے سے یہ فرض ساقط ہو جاتا ہے۔
یہاں اس پر تعجب نہ کرنا چاہیے کہ صرف طب اور حساب کو فرضِ کفایہ قرار دیا گیا ہے۔ اس لیے کہ ہم نے جو اصول بیان کیے ہیں، اس کی روشنی میں بنیادی پیشے جیسے پارچہ بافی، زراعت اور سیاست بھی فرضِ کفایہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ بلکہ سینا پرونا اور پچھنے لگانا بھی فرضِ کفایہ ہیں، کہ اگر شہر بھر میں کوئی فاسد خون نکالنے والا نہ ہو تو جانوں کی ہلاکت کا خوف رہتا ہے۔ ہم یہ کہتے ہیں کہ جس نے بیماری دی ہے، اس نے دوا بھی اتاری ہے اور علاج کا طریقہ بھی بتلایا ہے۔ پھر کیوں نہ ہم ان سے فائدہ اٹھائیں؟ بلا وجہ اپنے آپ کو ہلاکت کی نذر کرنا جائز نہیں ہے۔ اس لیے پچھنے لگانے کا علم بھی فرضِ کفایہ ہے۔ یہاں یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ طب اور حساب کا صرف وہ حصہ فرضِ کفایہ کی حیثیت رکھتا ہے جس سے انسانی ضرورتیں پوری ہو جاتی ہیں۔ طب اور حساب کی باریکیوں کا علم محض پسندیدہ ہے، فرضِ کفایہ نہیں ہے۔
غیر شرعی علوم میں ناپسندیدہ علوم یہ ہیں: (۱) جادوگری، (۲) شعبدہ بازی، (۳) وہ علم جس سے دھوکہ ہو وغیرہ۔
مباح علوم یہ ہیں: (۱) شعر و شاعری اگر وہ اخلاق سوز نہ ہو، (۲) تاریخ یا دیگر تاریخی علوم۔
ان صورتوں کی روشنی میں دوسرے ناپسندیدہ یا مباح علوم و فنون کو قیاس کیا جا سکتا ہے۔"

میرے خیال میں اتنا اقتباس کافی ہوگا امام غزالی کے دنیاوی علوم پر نظریات کو سمجھنے کے لیے۔ اس لیے اب اگلے مرحلے کو چلتے ہیں۔

اگر مسلمانوں نے سائنسی علوم کو امام غزالی کی وجہ سے چھوڑا تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ امام غزالی کے بعد والے دور میں مسلمانوں میں دو چار ناموں کے علاوہ کوئی بڑا سائنس دان ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملنا چاہیے۔
چنانچہ اس کے لیے میں نے مشہور مسلمان سائنس دانوں کی فہرستیں چھاننی شروع کیں۔ ان میں سے چونکہ وکیپیڈیا والی فہرست کو چھاننا دوسروں کی نسبت زیادہ آسان تھا، اس لیے اسی کا انتخاب کیا۔ اگرچہ دیگر کتب میں ملنے والے کچھ نام مجھے اس فہرست میں نہ مل پائے۔ لیکن یہ سوچتے ہوئے کہ اتنی طویل فہرست کے ہوتے ہوئے ان پانچ چھے ناموں کے ہونے یا نہ ہونے سے کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا، میں نے وکیپیڈیا کی آسانی کو ترجیح دی۔
فہرست کی طوالت کی وجہ سے میں نے اپنی توجہ صرف فلکیات دانوں، ریاضی دانوں، طبیعیات دانوں اور انجنئیروں والے زمروں تک محدود رکھی (شاید اپنے ذاتی شوق کی وجہ سے)۔ اور یہ جاننے کی کوشش کی کہ امام غزالی کی وفات (1111ء) کے بعد ان میں سے کون کون پیدا ہوا تھا۔
امام غزالی پر آنے والے اعتراض کو پڑھنے کے بعد میں توقع کر رہا تھا کہ یہ تعداد انتہائی کم ہوگی جس کی وجہ سے بعض لوگ اس کمی کو امام غزالی سے منسوب کر دیتے ہیں۔ لیکن حیرت انگیز طور پر یہ تعداد میرے اندازے سے کافی زیادہ نکلی۔ چھانٹی کے بعد بچ جانے والوں میں سے بیس سائنس دانوں کے نام (بمع وکیپیڈیا ربط) یہاں پیش کر رہا ہوں۔

أبو الوليد محمد بن احمد بن رشد‎
فقيه، فلسفی، ماہرِ قانون، طبیب، فلکیات دان، جغرافیہ دان، ریاضی دان، طبیعیات دان
(1126–1198)
http://en.wikipedia.org/wiki/Averroes

السموأل بن يحيى المغربي‎
ریاضی دان، فلکیات دان اور طبیب
(1130–1180)
http://en.wikipedia.org/wiki/Al-Samawal

نور الدین البتروجی
فلکیات دان اور قاضی
(وفات: 1204)
http://en.wikipedia.org/wiki/Nur_Ed-Din_Al_Betrugi

بديع الزمان أَبُو اَلْعِزِ بْنُ إسْماعِيلِ بْنُ الرِّزاز الجزري
عالمِ دین، موجد، ریاضی دان، انجنئیر
(1136–1206)
http://en.wikipedia.org/wiki/Al-Jazari

شرف الدین طوسی
ریاضی دان اور فلکیات دان
(وفات: 1213 یا 1214)
http://en.wikipedia.org/wiki/Sharaf_al-D%C4%ABn_al-T%C5%ABs%C4%AB

محمد بن محمد بن الحسن طوسی (المعروف نصیر الدین طوسی‎)
فلکیات دان، حیاتیات دان، کیمیا دان، ریاضی دان، فلسفی، طبیب، طبیعیات دان
(1201–1274)
http://en.wikipedia.org/wiki/Nasir_al-Din_Tusi

محي الدين المغربي
ریاضی دان اور فلکیات دان
(1220–1283)
http://en.wikipedia.org/wiki/Mu%E1%B8%A5yi_al-D%C4%ABn_al-Maghrib%C4%AB

معید الدین الاردی
ریاضی دان، فلکیات دان، انجنئیر
(وفات: 1266)
http://en.wikipedia.org/wiki/Mo%27ayyeduddin_Urdi

قطب‌الدین محمود بن مسعود شیرازی
شاعر، فلکیات دان، ریاضی دان، طبیب، طبیعیات دان، فلسفی
(1236 – 1311)
http://en.wikipedia.org/wiki/Qutb_al-Din_al-Shirazi

شمس الدین السمرقندی
ریاضی دان اور فلکیات دان
(1250–1310)
http://en.wikipedia.org/wiki/Shams_al-D%C4%ABn_al-Samarqand%C4%AB

ابن البناء المراکشی
ریاضی دان اور فلکیات دان
(1256–1321)
http://en.wikipedia.org/wiki/Ibn_al-Banna%27_al-Marrakushi

کمال الدین فارسی
ریاضی دان، فلکیات دان
(1267–1319)
http://en.wikipedia.org/wiki/Kam%C4%81l_al-D%C4%ABn_al-F%C4%81ris%C4%AB

ابن الشاطر
فلکیات دان، ریاضی دان، انجنئیر اور موجد
مسجد میں موقت (ٹائم کیپر) کے طور پر کام کرتے تھے
(1304–1375)
http://en.wikipedia.org/wiki/Ibn_al-Shatir

شمس الدین ابو عبداللہ الخلیلی
فلکیات دان
(1320–1380)
http://en.wikipedia.org/wiki/Al-Khalili

قاضی زادہ الرومی
ریاضی دان اور فلکیات دان
(1364–1436)
http://en.wikipedia.org/wiki/Q%C4%81%E1%B8%8D%C4%AB_Z%C4%81da_al-R%C5%ABm%C4%AB

غیاث‌الدین جمشید کاشانی
ریاضی دان اور فلکیات دان
(1380–1429)
http://en.wikipedia.org/wiki/Jamsh%C4%ABd_al-K%C4%81sh%C4%AB

میرزا محمد طارق بن شاہرخ الغ بیگ
ریاضی دان، فلکیات دان اور سلطان
(1394–1449)
http://en.wikipedia.org/wiki/Ulugh_Beg

أبو الحسن علي القلصادي
ریاضی دان
(1412–1486)
http://en.wikipedia.org/wiki/Ab%C5%AB_al-Hasan_ibn_Al%C4%AB_al-Qalas%C4%81d%C4%AB

تقي الدين محمد بن معروف الشامي
فلکیات دان، انجنئیر، ریاضی دان، طبیعیات دان
(1526–1585)
http://en.wikipedia.org/wiki/Taqi_al-Din_Muhammad_ibn_Ma%27ruf

محمد باقر یزدی
ریاضی دان
(سولہویں صدی)
http://en.wikipedia.org/wiki/Muhammad_Baqir_Yazdi


اس تمام ڈیٹا کی موجودگی میں مجھے تو یہی سمجھ آتی ہے کہ مسلمانوں نے جو سائنس کو چھوڑا تو امام غزالی کی وجہ سے نہیں چھوڑا بلکہ اس کے اسباب کچھ اور تھے۔
یعنی کہ میرے ساتھ "کھودا پہاڑ، نکلا چوہا" والی واردات ہو گئی۔ حق تو یہ بنتا ہے کہ جس کے حقائق کی تصدیق کے معاملے میں کاہلی برتنے کی وجہ سے مجھے اتنی خواری کرنی پڑی (یعنی جس نے تصدیق کیے بغیر ہی الزام کو آگے بڑھا دیا)، اس سے جرمانے میں بریانی کی دیگ وصولی جائے۔ لیکن افسوس کہ فی الحال یہ کام انٹرنیٹ پر ممکن نہیں ہیں۔
چلو بخش دیا۔ کیا یاد کرو گے!۔۔

جمعرات، 22 اپریل، 2010

22 اپریل - زمین کا دن

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔
دنیا بھر میں 22 اپریل کو زمین کے دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اس کا مقصد لوگوں میں زمین کے ماحول اور وسائل کے تحفظ کی اہمیت کا شعور پیدا کرنا ہے۔ اس اہم موقعے پر میں نے بھی ایک عدد مضمون لکھنے کا ارادہ تو کر رکھا تھا لیکن غیر متوقع حالات کی وجہ سے بروقت اطلاع بھی نہ دے پایا۔
جن لوگوں تک یہ اطلاع وقت پر پہنچ جائے، ان سے گزارش ہے کہ آج کا دن جیو اور ایکسپریس جیسے چینلوں کے بجائے نیشنل جیوگرافک اور ڈسکوری جیسے چینل دیکھتے ہوئے گزاریں کیونکہ ان پر اس موقعے کے لیے خصوصی پروگرام نشر کیے جائیں گے۔
اور جو صاحبِ اولاد ہیں، ان سے گزارش کروں گا کہ آپ کے بچوں کو اچھے مستقبل کے لیے صرف ڈھیر سارے پیسوں اور جائیداد کی ہی ضرورت نہیں ہے بلکہ پرسکون زندگی گزارنے کے لیے انہیں ایک صاف ستھری اور قابلِ رہائش زمین کی بھی ضرورت پڑے گی۔ لہٰذا خدا کے لیے ماحولیاتی آلودگی کے مسئلے کو کوئی اہمیت دیں۔
اگر آپ کو یہ اطلاع دیر سے ملتی ہے تو کیمیائی آنٹی کے اس مضمون پر گزارا کر لیں جو میں نے ان سے منتیں کر کے لکھوایا تھا۔
اور اگر آپ کو ایک تیز رفتار انٹرنیٹ کنکشن دستیاب ہے تو جہاں بٹ ٹورنٹ سے درجنوں کی تعداد میں دیگر فلمیں ڈاؤن لوڈ کر کے دیکھتے رہتے ہیں، وہیں An Inconvenient Truth کو بھی ایک بار دیکھ لیں۔

منگل، 23 مارچ، 2010

ماحول کے تحفظ کے تین R۔

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔


کل "ماحولیات گردی" کے دوران ایک عمدہ مضمون ملا۔ سوچا کہ ترجمہ کر کے یہاں لگا دوں۔ پورا سو فیصد مضمون تو ترجمہ نہیں کیا۔ جو نکات مجھ سے رہ گئے ہیں وہ یہاں پر دیکھ لیں۔


http://kids.niehs.nih.gov/recycle.htm


مضمون کچرے کی مقدار کم کر کے ماحول کی حفاظت کے متعلق ہے۔ اس میں ماحول کے تحفظ کے تین "R's" کا ذکر کیا گیا ہے۔


یہ تین R ہیں:


Reduce


Reuse


Recycle


پہلا R۔


Reduce


تھوڑے وسائل استعمال کرنا۔ صرف اتنے جن کی ضرورت ہو۔ نتیجے میں کچرا کم پیدا ہوگا۔


اس پر عمل آپ ان مصنوعات کے انتخاب کے ذریعے کر سکتے ہیں جن میں ناقابلِ استعمال حصہ کم ہو اور وہ زیادہ کچرا پیدا کرنے کا سبب نہ بنیں۔


سب سے پہلے تو مختلف مصنوعات کی خریداری اور استعمال میں کمی لائیں۔ صرف وہی سامان خریدیں جس کی آپ کو ضرورت ہے اور جو سامان خریدیں، اس کو سارے کا سارا استعمال کریں۔ ورنہ کسی اور کی طرف بڑھا دیں جو اس سے فائدہ اٹھا سکے۔ یہ خاص طور پر ان مصنوعات کے معاملے میں بہت اہم ہو جاتا ہے جنکو تلف کرنا مشکل یا ماحول کے لیے نقصان دہ ہوتا ہے، مثلاً پینٹ، کیڑے مار دوائیں اور دیگر کیمیکلز۔


خریداری کے دوران ان مصنوعات کا انتخاب کریں جن کی پیکجنگ میں بہت زیادہ اصراف سے کام نہ لیا گیا ہو۔ کیونکہ پیکجنگ کا کام بس اتنا ہوتا ہے کہ اس چیز کو محفوظ رکھے اور اس کے متعلق کچھ ضروری معلومات فراہم کرے۔ اس کے علاوہ اس کا کوئی اور کام نہیں ہوتا  چنانچہ سامان خریدنے کے بعد اس کی پیکجنگ کچرے کے بڑھتے ہوئے انبار میں جمع ہو جاتی ہے۔ چنانچہ ہمیشہ ایسی اشیاء کو ترجیح دیں جن کی پیکجنگ میں ضرورت سے زیادہ مواد کا استعمال نہ کیا گیا ہو۔


وہ اشیاء خریدیں جن کی پیکجنگ آسانی سے بازیافت (ریسائیکل) ہو سکتی ہو۔ شاندار پیکجنگ عموماً مہنگی پڑتی ہے، گاہک کو کوئی خاص فائدہ نہیں پہنچاتی، اور سب سے بڑی برائی یہ کہ کچرے کی مقدار میں اضافہ کر کے ماحول کو  نقصان پہنچاتی ہے۔ چنانچہ ہمیشہ ایسی مصنوعات کو ترجیح دیں جو سادہ اور آسانی سے بازیافت ہونے کے قابل پیکجنگ استعمال کرتی ہیں۔


صرف ایک بار قابلِ استعمال برتنوں سے حد درجہ گریز کریں (جیسے جوس اور دودھ کے ڈبے ہوتے ہیں)۔ جوس جیسی اشیاء خریدتے وقت آپ ایک بڑی قابلِ بازیافتگی بوتل یا کین میں جوس خرید کر اسے ضرورت کے تحت چھوٹی چھوٹی دوبارہ استعمال کے قابل بوتلوں وغیرہ میں بھر سکتے ہیں۔


بوتلوں میں بکنے والا پانی ضرورت کے بغیر نہ خریدیں۔ عام طور پر شہروں میں ملنے والا پانی صحت کے لیے بوتل کے پانی جتنا ہی اچھا ہوتا ہے، اس سے کہیں زیادہ سستا ملتا ہے، اور بہت سی صورتوں میں تو بوتل کے پانی سے زیادہ محفوظ بھی ہوتا ہے۔


روز مرہ کے استعمال کی اشیاء بڑے بڑے مجموعوں میں خریدنے سے آپ قابلِ استعمال سامان کا تناسب پیکجنگ کے مقابلے میں بڑھا سکتے ہیں۔ چینی، نمک اور مصالحوں جیسی اشیاء تو کھلی بھی بکتی ہیں جس کو آپ جتنی مقدار میں چاہیں، خرید سکتے ہیں۔ اور جو چیزیں صرف ڈبے میں بند ہی ملتی ہیں، مثلاً ٹوتھ پیسٹ، کپڑے دھونے کا پاؤڈر وغیرہ، ان کا سب سے بڑا ڈبہ خرید کر آپ نہ صرف کچرے کی مقدار کم کر کے ماحول کو فائدہ پہنچائیں گے، بلکہ اس طرح آپ کے وہ پیسے بھی بچیں گے جو بصورت دیگر پیکجنگ کی قیمت کے طور پر چلے جاتے۔


دکان کی طرف سے کوئی لفافہ تب تک نہ لیں جب تک ضرورت نہ ہو۔ اگر آپ نے صرف ایک دو اشیاء ہی خریدی ہیں تو انہیں ہاتھوں میں ہی لے جائیں۔ یا پھر گھر سے ہی ایک تھیلا لے کر جائیں جس میں سودا ڈال کر گھر لے آئیں۔ کپڑے کے تھیلے تو یہاں گھروں میں اب بھی ہوتے ہیں جو لوگ سودا خریدنے لے جاتے ہیں۔ پلاسٹک اور کاغذ کے تھیلے جو دکان سے آنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں، انہیں بھی دوبارہ استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اور جو پلاسٹک و کاغذ کے تھیلے اچھی حالت میں نہ رہیں، انہیں بازیافت کرنا نہ بھولیں۔


پائیدار اشیاء کو زیادہ سے زیادہ عرصہ استعمال کریں۔ فرنیچر، سائیکل، برقی آلات اور کھلونوں جیسی چیزیں کئی کئی سالوں تک استعمال ہو سکتی ہیں اور انہیں ہونا بھی چاہیے۔ ان چیزوں میں اگر کوئی خرابی آتی ہے تو انہیں پھینک دینے کے بجائے مرمت کر کے دوبارہ استعمال کے قابل بنائیں۔ یہ ماحول کے ساتھ ساتھ آپ کی جیب کے لیے بھی اچھا ہے۔


ڈسپوزیبل اشیاء کے بجائے پائیدار اشیاء استعمال کریں۔ مثلاً منہ اور ہاتھ پونچھنے کے لیے ٹشو پیپر کے بجائے (جو صرف ایک ہی بار استعمال کر کے پھینک دیا جاتا ہے) کپڑے کا رومال استعمال کریں۔ اسی طرح پلاسٹک کے ڈسپوزیبل برتنوں کی جگہ پائیدار برتنوں کا استعمال کریں۔


جہاں ممکن ہو،خطوط اور دیگر معلومات کے تبادلے کے لیے کاغذ کے بجائے انٹرنیٹ جیسے ذرائع کا استعمال کریں کیونکہ کاغذ کے زیادہ استعمال سے نہ صرف کچرا بڑھتا ہے، بلکہ کاغذ کی بڑھتی ہوئی مانگ کو پورا کرنے کے لیے درخت بھی زیادہ کاٹے جاتے ہیں۔


اگر آپ کے گھر میں کچھ خالی جگہ ہو تو وہاں ایک باغیچہ بنا لیں جہاں اپنی خوراک کا کچھ حصہ خود اگائیں۔ خود جو خوراک آپ اگائیں گے، اسے نہ تو پراسیس کرنے کی ضرورت پڑے گی، نہ اس کے لیے پیکجنگ کی ضرورت ہوگی اور نہ ہی اسے آپ تک پہنچانے میں رکازی ایندھن کا استعمال ہوگا۔


گھر کے کچرے کا کچھ حصہ آسانی سے گل کر مٹی کا حصہ بن سکتا ہے۔ مثلاً پھلوں اور سبزیوں کے چھلکے، کاغذ، پتے وغیرہ۔ ان اشیاء کو آپ ورمیکلچر کے ذریعے تیزی سے گلا کر اپنے باغیچے کی زرخیزی بڑھانے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔


دوسرا R۔


Reuse


کسی چیز کو استعمال کرنے کے بعد، اگر وہ مناسب حالت میں ہو، تو اسے پھینکنے کے بجائے آپ اسے دوبارہ استعمال کر سکتے ہیں۔ یا کسی اور شخص کو دے دیں جو اس سے فائدہ اٹھا سکے۔ کچھ مثالیں:


ریستوران وغیرہ میں ڈسپوزیبل پیالوں کے استعمال کے بجائے دھلنے کے قابل پیالے اپنے ساتھ لے جائیں۔ بہت سے ریستوران اور سٹور آپ کو خوشی خوشی آپ کے پیالے میں ہی مشروب بھر دیں گے۔


اگر کبھی آپ کو ڈسپوزیبل برتن یا خوراک ذخیرہ کرنے کے تھیلے استعمال کرنے بھی پڑیں تو انہیں پھینکنے کے بجائے دھو کر دوبارہ استعمال کریں۔ ان میں سے زیادہ تر کافی عرصہ تک بار بار استعمال ہو سکیں گے۔ اگرچہ ان اشیاء کو نئے سرے سے بنانے پر زیادہ خرچ نہیں آتا، لیکن ان کو یوں ہی پھینک دینا اتنا ہی دانش مندی کا کام ہوگا جتنا کہ اپنی بائیسکل کو صرف ایک بار استعمال کر کے پھینک دینا۔


اور بائیسکل کی بات ہوئی تو کیوں نہ اس کے (اور واشنگ مشین، ڈرائیر جیسی دیگر پائیدار چیزوں کے) ٹوٹنے یا خراب ہونے پر نئی چیز خریدنے کے بجائے اسی کو مرمت کر کے دوبارہ استعمال کے قابل بنایا جائے؟ نئی چیز ہمیشہ بہتر تو نہیں ہوتی، نہ ہی ہمیشہ ضروری ہوتی ہے۔ اس طرح آپ ماحول کو تو بہتر بنائیں گے ہی، ساتھ ہی آپ کی جیب بھی آپ کی شکر گزار ہوگی۔


اور اگر کبھی آپ کو کسی دوبارہ قابلِ استعمال چیز کی ضرورت نہیں رہتی یا آپ اس کی جگہ نئی چیز لانے کا فیصلہ کر ہی لیتے ہیں تو اسے یوں ہی پھینک دینے کے بجائے ضروری مرمت کر کے خیرات میں بھی دیا جا سکتا ہے۔


اگر گھر میں بہت سی غیر مستعمل چیزیں پڑی ہوں تو ان کی سیل بھی لگائی جا سکتی ہے۔ اور اگر ممکن ہو تو ہمسایوں کو بھی ساتھ شرکت کی دعوت دیں۔ اس سے نہ صرف کام کا بوجھ تقسیم ہوگا بلکہ ایسی غیر مستعمل چیزوں کی تعداد بھی بڑھے گی جو اس سیل کے ذریعے دوبارہ کسی کے استعمال میں لائی جا سکیں گی۔


جب کوئی سامان خریدنے کی ضرورت پڑے تو نئی چیز خریدنے سے پہلے دیکھیں کہ شاید کہیں پر استعمال شدہ چیزوں کی دکانوں یا کسی ایسی ہی سیل میں آپ کے مطلب کی چیز دستیاب ہو۔


تحائف دینے کے لیے کپڑے کے بنے ہوئے تھیلے استعمال کریں اور تحائف پر جو سجاوٹ کا کاغذ لگا ہوتا ہے، اسے پھاڑیں نہیں۔ اگر آپ اسے احتیاط سے اتاریں تو اسے دوبارہ بھی استعمال کیا جا سکتا ہے اور اس میں کوئی برائی نہیں ہے۔ اور خریداری کے لیے جاتے وقت کپڑے یا کینوس کے تھیلے ساتھ لینا نہ بھولیں تاکہ آپ کو دکان پر سے ایک اور پلاسٹک یا کاغذ کا تھیلا نہ لانا پڑے۔


کاغذی نیپکن کے بجائے کپڑے کے بنے نیپکن استعمال کریں جو کہ دھو کر دوبارہ استعمال کیے جا سکتے ہیں۔


بچوں کے لیے ڈسپوزیبل ڈائپر کے بجائے دھلنے کے قابل کپڑے سے بنے ہوئے ڈائپر استعمال کریں۔ اگر ان پر ویلکرو (چپک پٹی) لگا ہو تو یہ بھی ڈسپوزیبل ڈائپر جتنے ہی باسہولت اور اس سے کہیں زیادہ سستے پڑیں گے۔


تیسرا R۔


Recycle


بازیافتگی کے عمل میں آپ دوبارہ استعمال کے قابل کسی چیز کو یوں ہی پھینک دینے کے بجائے کسی ایسی جگہ بھیجتے ہیں جہاں اس سے یا تو ویسی ہی یا کسی اور نوعیت کی نئی اشیاء بنائی جاتی ہیں۔ اس طرح نئی اشیاء کی تیاری میں کم توانائی اور دیگر وسائل کا استعمال ہوتا ہے بنسبت ان کو بالکل نئے سرے سے بنانے کے۔


آپ کے گھر میں موجود تقریباً ہر ایسی چیز کو، جو اسی شکل میں دوبارہ استعمال نہیں ہو سکتی، بازیافتگی کے ذریعے کسی اور چیز میں ڈھالا جا سکتا ہے۔ آپ اگر غور کریں تو حیران رہ جائیں گے کہ بازیافت شدہ مواد سے کیا کیا بنایا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر ایک پلاسٹک کی بوتل سے حاصل ہونے والا مواد ٹی شرٹ، کنگھی اور پلاسٹک کی کئی دوسری اشیاء میں استعمال ہو سکتا ہے جو کہ پھر کئی کئی سالوں تک چل سکتی ہیں۔ یہاں تک کہ آپ کا بالکل نیا اور شان دار کمپیوٹر کیس بھی عام بازیافت شدہ پلاسٹک کا بنا ہوا ہو سکتا ہے۔ اور اسی طرح کاغذ کی مصنوعات بھی مختلف اشکال اختیار کر سکتی ہیں۔ کوئی پرانی فون بک بازیافت ہو کر آپ کی نوٹ بک بن سکتی ہے یا وہ بازیافت شدہ کاغذ کسی اور کتاب میں استعمال ہو سکتا ہے۔


آپ کا کام سادہ ہے۔
کوئی بھی ایسی چیز بے کار نہ پھینکیں جس کی بازیافتگی ممکن ہے۔




یہ کچھ ایسی چیزوں کی فہرست ہے جنہیں ہمیشہ بازیافت (یا دوبارہ استعمال) کرنا چاہیے۔


تیزاب پر مشتمل بیٹریاں، ایلومینیم کے کین، تعمیراتی سامان، گتا، کیمیکلز، برقی آلات، شیشہ (خصوصاً بوتلیں اور مرتبان)، سیسہ، رسائل، دھات، اخبار، تیل، پینٹ، کاغذ، پلاسٹک کے تھیلے، پلاسٹک کی بوتلیں، سٹیل کے کین، ٹائر، لکڑی، گھر کا کچرا۔


ان میں سے کچھ اشیاء کی بازیافتگی میں خصوصی احتیاط اور مخصوص مقامات کی ضرورت ہوگی۔ ان معلومات کے لیے اپنے مقامی بازیافتگی کے مرکز سے رابطہ کریں (کاش پاکستان میں بھی ایسے مراکز ہوتے)۔


تو آپ نے دیکھا کہ یہ کتنا آسان ہے۔ اتنی کم محنت میں آپ اپنے ماحول کی حفاظت کے لیے اتنا کچھ کر سکتے ہیں۔ اور زبردست بات یہ کہ اس عمل کے دوران آپ بہت سی رقم بھی بچا لیں گے۔