پاکستان لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
پاکستان لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

منگل، 6 جنوری، 2015

اعتزاز حسن کی یاد میں


کچھ زیادہ نہیں، بس ایک سال پہلے کی بات ہے۔ ضلع ہنگو میں 6 جنوری 2014ء کی صبح تھی۔ جب اعتزاز حسن نامی ایک بہادر لڑکے نے اپنے سکول کی طرف بڑھتے ہوئے ایک خودکش حملہ آور کو روکا تھا۔ کئیوں کی جان بچائی اور اپنی جان قربان کر دی۔ اس کی غیرت نے گوارا نہ کیا کہ وہ حملہ آور کسی اور کو نقصان پہنچا دے۔
جان قربان کر دینا۔۔۔ کہنے میں کتنا آسان لگتا ہے۔ لیکن حقیقت میں انتہائی بھاری۔ اس کیفیت کو صحیح معنوں میں وہی سمجھ سکتا ہے جو اس لمحے کے اندر یہ فیصلہ کرتا ہے۔ کہ کوئی مقصد اتنا بڑا ہے جس کی اہمیت اس کی جان سے بھی زیادہ ہے۔
اور مقصد بھی کیا خوب! کسی اور کی زندگی کی حفاظت۔ کہ اسے ایک اور موقع مل جائے جینے کا۔ بچنے والے کے لیے تو یہ ساری کائنات جتنا فرق ہوتا ہے۔ یا شاید اس سے بھی زیادہ۔
اس دنیا میں ہر ذی روح کو اپنی زندگی پیاری ہوتی ہے۔ یہی اس کا سب کچھ ہوتی ہے۔ ایک بار چلی جائے تو یہ نعمت دوبارہ نہیں ملتی۔ ایسی نایاب نعمت کو قربان کر دینا کوئی ایسا فیصلہ نہیں جو ہر کوئی کر سکے۔
 تبھی ایسے شخص کو ہیرو کہتے ہیں۔ اور اس کی سب عزت کرتے ہیں۔ کیونکہ وہ کچھ ایسا کر چکا ہوتا ہے جو عام لوگ نہیں کر سکتے۔ کچھ ایسا جو اسے انسانیت کے اعلیٰ درجوں پر لے جاتا ہے۔
پھر بے شک اس عمل میں اس کی زندگی کا خاتمہ ہو جائے، اس فانی دنیا میں اس کا وجود ختم ہو جائے۔ لیکن اس کی قربانی ہی کئی لوگوں کی زندگی کا، ان کے باقی رہ جانے کا سبب بنتی ہے۔ اور اس کے لیے وہ انتہائی عزت و تکریم کا حق دار ہے۔

ہفتہ، 1 مارچ، 2014

نا-مساعد

یاد نہیں کہ کتنے سال قبل کا واقعہ ہے۔ معمول کے ایک راستے سے گزرتے ہوئے وہاں دو عدد نئے کھمبے گڑے نظر آئے۔ معلوم ہوا کہ وہاں ایک نیا ٹرانسفارمر نصب ہونے لگا ہے۔ چونکہ ہمارے شہر میں بجلی کی ترسیل کے کمزور نظام کے باعث ٹرانسفارمر میں آتش بازیاں ہونا معمول کی بات ہوا کرتی ہے، تو جس کے گھر یا دکان کے سامنے کی جگہ چنی گئی، اس نے پورا زور لگا دیا کہ وہاں یہ "دھماکہ خیز مواد" نصب نہ ہو پائے۔ جب ٹرانسفارمر کو کہیں اور جگہ نہ مل سکی تو ایک ہی آپشن باقی رہ گیا۔ وہ تھا وہاں موجود ایک چھوٹے سے کوچے کا داخلی راستہ۔ چنانچہ کھمبے گاڑ کر کام شروع کر دیا گیا۔ میں وہاں سے گزرتے ہوئے اکثر سوچا کرتا تھا کہ اس چھوٹی سی گلی کے مکینوں کو اس کی وجہ سے کتنی تکلیف ہوا کرتی ہوگی، کبھی کوئی بڑا سامان یہاں سے گزارنا پڑے تو وہ کیا کرتے ہوں گے، بارش میں کتنا پھونک پھونک کر قدم رکھتے ہوں گے، وغیرہ وغیرہ۔۔
کچھ دن قبل دوبارہ وہاں سے گزر ہوا تو ایک نیا منظر میرے سامنے تھا۔ چند من چلوں نے اس ٹرانسفارمر کو ہی ٹرانسفارم کر کے رکھ دیا تھا۔
عرصہ دراز پہلے ایک لطیفہ پڑھا تھا کہ نا ممکن کو ممکن کیسے بنایا جائے؟ جواب تھا، نا ممکن کا "نا" ہٹا کر۔
اس منظر کو دیکھ کر بھی محسوس ہوا کہ گلی کے چند افراد نے اپنی نا مساعد صورت حال کا "نا" ہٹا کر اسے اپنے لیے مساعد بنا لیا ہے۔ وہی راستہ جسے دیکھ کر میرے ذہن میں پہلا تاثر گلی کے مکینوں کی تکلیف کا آتا تھا، اب وہاں ایک خوبصورت دروازہ کسی تقریب کے مہمانوں کا استقبال کرنے کے لیے کھڑا تھا۔
جہاں ایک طرف میں اس راستے کے مسائل پر اپنی تمام تر توجہ مرکوز کیے ہوئے تھا، وہیں چند افراد کی نگاہوں نے اس میں ایک نیا موقع دیکھا، اور اسے اپنے فائدے کے لیے استعمال کیا۔ ایسا نہیں تھا کہ اس طرح اس راستے کے ساتھ منسلک تمام مسائل غائب ہو گئے۔ لیکن اگر وہ بھی اپنی تمام تر توجہ اس کے سبب ہونے والی تکلیف پر ہی مرکوز رکھتے، تو مجھے نہیں لگتا کہ ہمیں ایسا منظر دیکھنے کو ملتا۔
مجھے لگا کہ اس واقعے میں میرے لیے بھی ایک سبق ہے۔ جس طرح چند من چلوں نے اپنے تمام مسائل میں گھرے رہتے ہوئے بھی ایک نیا موقع ڈھونڈ نکالا، اسی طرح ہمیں بھی زندگی میں کئی مواقع ملتے ہیں جنہیں ہم ڈھونڈ سکتے ہیں اگر اپنی تمام تر توجہ مسائل و تکالیف پر مرکوز نہ رکھیں۔ جس طرح انہوں نے نا مساعد کا صرف نا نکال کر اسے مساعد میں بدلا، اسی طرح ہم بھی اپنی زندگی میں بظاہر نا مساعد نظر آنے والی کئی صورتوں کو محض نا نکال کر مساعد میں بدل سکتے ہیں۔ نہ جانے ایسے کتنے مواقع کو میں صرف اپنی توجہ منفی سمت میں مرکوز کرنے کے سبب ضائع کر چکا ہوں گا۔ امید کرتا ہوں کہ اس یاد دہانی کے بعد میری زندگی میں ایسے مواقع کے ضیاع میں کمی آئے گی۔

منگل، 21 جنوری، 2014

سائنسی مواد اردو میں۔ ہاں یا نہیں۔ ایک دھندلا سا نقشہ

اردو زبان میں سائنسی مواد پر جب بات ہو تو دو اہم نکات اکثر سامنے آتے ہیں۔ ایک طرف کسی کا یہ کہنا ہوتا ہے کہ سائنسی مواد کی مقامی زبانوں میں موجودگی اسے عام فہم بنانے کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ دوسری جانب کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ جس سطح پر ہم ہیں، اس حالت میں لوگوں کو اردو میں سائنس پڑھانا انہیں محدود کرنے کے برابر ہے۔ کہ جس سطح پر پہنچ کر انہیں آگے کسی اور زبان کو اختیار کرنے کی ضرورت پڑی، وہاں سے ان کی مشکلات شروع جائیں گی اور آگے بڑھنا انتہائی مشکل ہو جائے گا۔ ان کے مطابق شروع سے دیگر زبانوں میں انہیں تربیت دینے سے وہ زیادہ بلند سطح پر موجود مواد، جو کہ صرف غیر زبان میں ہی دستیاب ہوگا، سے بہتر استفادہ کر سکیں گے۔ وزن دونوں ہی باتوں میں ہے۔ پہلا گروہ جب اپنی زبان میں تعلیم دینے والی ترقی یافتہ قوموں کی جانب اشارہ کرتا ہے تو دوسرے گروہ والے اس حقیقت کی طرف توجہ دلاتے ہیں کہ وہ ممالک اس معاملے میں پہلے ہی سے کافی مستحکم بنیادیں رکھتے ہیں۔
تو کیا اس کا مطلب یہ ہوا کہ اردو میں سائنسی تدریس کی کوششوں کو ترک کر دیا جائے؟
میری رائے میں ایسا نہیں۔
موجودہ صورت حال بھی قابلِ قبول تو نہیں۔ اور تبدیلی لانے کے لیے کچھ نہ کچھ تو ہاتھ پیر چلانے ہی پڑیں گے۔
لیکن جو لوگ فوری طور پر اردو میں سائنس کی تدریس رائج کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں، انہیں بھی اس دلیل کو مد نظر رکھنا ہوگا جس کا ذکر اوپر گزرا۔
تو پھر حل کیا ہے؟
یہ تو عام مشاہدہ ہے کہ پائیدار نوعیت کی بڑی تبدیلی ہمیشہ آہستہ آہستہ ہی آتی ہے۔
میرے خیال میں بہتر طریقہ یہ ہوگا کہ فی الحال رسمی سائنسی تدریس کو اسی طرح انگریزی میں چلنے دیا جائے لیکن ساتھ ساتھ اردو میں مواد کی دستیابی کی کوششیں بھی جاری رکھی جائیں۔ آج اگر میں کچھ بنیادی نوعیت کا مواد اردو میں دستیاب کر دیتا ہوں تو کل کو اگر کوئی اور آ کر اس پر کام کرنا چاہے گا تو آسانی سے اس کے اوپر تھوڑی اور عمارت کھڑی کر دے گا۔ اسی طرح پھر کوئی اور آ کر کچھ اور اینٹیں لگا دے گا۔ یوں ہوتے ہوتے، اگر اللہ نے چاہا تو، ایک دن ایسا آ ہی جائے گا کہ جب ہمارے پاس بنیادی سے لے کر اعلیٰ تعلیم تک کے لیے اردو میں مواد دستیاب ہو۔ بھلے ہی وہ وقت سو سال بعد آئے لیکن اگر چل پڑیں گے تو آہستہ آہستہ ہی سہی، سفر کٹ ضرور جائے گا۔ اور پھر اگلے مرحلے میں دیگر مقامی زبانوں میں یہ سب کام کرنا زیادہ آسان ہو جائے گا۔ اور تب ہم بھی، ان شاء اللہ، اس مقام پر پہنچ جائیں گے کہ جہاں پہنچ کر ہمارے لیے اپنی زبانوں میں سائنس کی تدریس کوئی مسئلہ ہی نہیں رہے گی۔
لیکن ایک بات کا خیال رہے! صرف مواد ہی دستیاب کرنا کافی نہیں ہوگا۔ خود تحقیق کی عادت بھی ڈالنی ہوگی۔ اس تبدیلی کو دیر پا بنانے کے لیے اس سب کے ساتھ ساتھ خود انحصاریت کی طرف بھی بڑھنا ہوگا۔ دوسروں کا جھوٹا استعمال کرنے کی عادت سے جان چھڑانی ہوگی۔
یعنی کہ بیک وقت دو جہتوں میں بڑھنا ہوگا۔ مواد کی دستیابی بھی اور تحقیق بھی۔
اس کے متوازی فی الوقت تو اپنا تدریسی نظام انگریزی میں چلانا پڑے گا۔ لیکن مجھے قوی امید ہے کہ یہ سفر قدم بہ قدم آگے بڑھتا رہا تو ایک دن ہم اس قابل ضرور ہو جائیں گے کہ انگریزی کی انحصاریت سے بہ آسانی جان چھڑا سکیں۔

ہفتہ، 5 اکتوبر، 2013

الٹی منطقِ مقابلہ

ذرا سوچیے کہ ایک جگہ دو فریقوں میں کسی بھی نوعیت کا مقابلہ ہے۔ چاہے وہ مارکیٹ ہو یا جنگ کا میدان۔ ان میں سے ایک فریق مسلسل اپنی صلاحیت کو بڑھاتا رہتا ہے۔ جبکہ دوسرا فریق اس کے جواب میں اپنی صلاحیت مزید گھٹاتا رہتا ہے۔ ان دونوں میں سے کس کی جیت کا امکان زیادہ ہوگا؟
آپ بھی پوچھیں گے کہ یہ کیا احمقانہ سوال پوچھ رہا ہے۔ بھلا اس بات کی بھی کوئی تک بنتی ہے کہ کوئی بندہ اپنے حریف کے مقابلے میں اپنی صلاحیت کو بڑھانے کے بجائے گھٹائے؟ لیکن افسوس کہ یہی احمقانہ سوچ آج کل ہمارے معاشرے پر حاوی ہے۔ خواہ وہ ہمارے کاروباری لوگ ہوں، مذہبی طبقے کے بعض عناصر ہوں یا حکومتی سیکیورٹی ادارے۔ کسی کو یہ فکر ہے کہ ملٹی نیشنل کمپنیاں ملک کی مارکیٹ پر حاوی ہیں تو چلو ان پر ہی پابندی لگا دینی چاہیے (بجائے اس کے کہ مقامی صنعت کو بہتر بنانے پر توجہ دی جائے)۔ کسی کو یہ ٹینشن ہے کہ انٹرنیٹ پر کفر و الحاد کا غلبہ ہے تو چلو بجائے اس کا مقابلہ کرنے کے انٹرنیٹ کو ہی شیطانی چرخہ قرار دے دو۔ اور کسی کی یہ سوچ ہے کہ چونکہ کوئی بھی مواصلاتی نظام دہشت گرد بھی استعمال کر سکتے ہیں تو بنیادی ٹیلیفونی کے علاوہ فوری مواصلات کے تمام ذرائع ہی بند کر دو (بجائے اپنی انٹیلیجنس کا نظام بہتر بنانے کے)۔
ان تمام مثالوں میں یہ رویہ بالکل واضح ہے۔
جن کا کام اپنی صنعت کو بہتر بنانا ہے، وہ اپنی صنعت کو کمزور رکھتے ہوئے ہی ایک طاقت ور حریف کو باہر نکالنا چاہتے ہیں۔ بہتر مصنوعات کے ذریعے گاہک کے دل میں جگہ بنانے کے بجائے وہی گھٹیا چیز اسے زبردستی بیچنا چاہتے ہیں۔
جن کا کام دنیا کے کونے کونے میں دین کا پیغام پہنچانا ہے، وہ اپنا دائرہ محدود کر کے سوچتے ہیں کہ شاید اس طرح کفر و الحاد کا غلبہ کم ہو جائے گا۔ ان کا حریف گھر گھر تک اپنے نظریات کی رسائی پر کام کر رہا ہے جبکہ وہ چاہتے ہیں کہ لوگ ان تک خود چل کر آئیں۔
جن کا کام ملک کی اور ملک کے لوگوں کی حفاظت کرنا ہے، وہ خود آرام سے بیٹھے ہیں جبکہ ان کے حریف مسلسل اپنی استعداد کار میں اضافہ کرتے جا رہے ہیں۔ بجائے اس کے کہ حریف کے مقابلے میں اپنا نظام بہتر بنایا جائے اور اپنی صلاحیت بڑھائی جائے، یہ صرف مواصلاتی نظام بند کر دیتے ہیں جس سے ان کو تو تکلیف ہوتی ہی ہے جن کی حفاظت کے یہ ذمہ دار ہیں، ساتھ ساتھ ان کی اپنی استعداد کار بھی مزید کم ہو جاتی ہے۔ اگر یہی سلسلہ چلتا رہا تو کوئی بعید نہیں کہ ایک دن ہم سب اپنے گھروں تک ہی محدود ہو جائیں اور کرفیو ہر شہر میں روز کا معمول بن جائیں۔
یہ صرف تین مثالیں ہیں۔ اس کے علاوہ بھی اگر آپ غور کریں تو یہ رویہ جا بجا نظر آئے گا۔ ایسے سکول جہاں کمپیوٹر کو کینسر سمجھا جاتا ہے، ایسے والدین جو اپنی اولاد کو باہر کے ماحول کے مقابلے کے قابل بنانے کے بجائے ان کا باہر نکلنا ہی بند کر دیتے ہیں، ایسے دفاتر جہاں کے نیٹ ورکس پر بنیادی ضرورت کی چیزیں بھی بند کر دی جاتی ہیں، غرض اکثر جگہ صاحبِ اختیار شخص کو ہر مسئلے کا حل ایک نئی پابندی کی صورت میں نظر آتا ہے۔ یہ پابندیاں مختصر مدتی پیمانے پر تو شاید تھوڑا بہت فائدہ پہنچانے کا تاثر دیتی ہوں، لیکن طویل مدتی پیمانے پر بے جا پابندیوں کا استعمال نہ صرف غیر مفید، بلکہ اکثر معاملات میں انتہائی نقصان دہ بھی ہوتا ہے۔ اور ویسے بھی، اگر اتنے بڑے ہو کر اور اتنے اختیارات والی جگہ پہنچ کر بھی کسی کو ذمہ داری اٹھانا نہیں آتا، تو اسے یا تو "بڑا ہو جانا" چاہیے، یا پھر وہ ذمہ داری ہی کسی ایسے شخص کے حوالے کر دینی چاہیے جو اس کام کے لیے زیادہ اہل ہو۔

اتوار، 25 اگست، 2013

ایک تھا پاکستان

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک علاقے میں ایک قوم کے لوگ کچھ دوسری قوموں کے زیرِ تسلط رہ رہے تھے۔ جب زندگی گزارنا انتہائی دشوار ہو گیا تو انہوں نے خدا سے ایک ڈیل کی۔ کہ اگر خدا ان کو ایک ٹکڑا زمین پر ایسا دے دے جس پر وہ آزادی سے زندگی گزار سکیں تو وہ لوگ وہاں پر خدا کی مرضی کا نظام قائم کریں گے۔
زمین کا ٹکڑا انہیں مل گیا۔ کچھ عرصہ انہوں نے اپنا وعدہ یاد رکھا۔ خدا کی مرضی کا نظام لاگو کرنے کے لیے خوب محنت کی۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کا جذبہ کم پڑتا گیا۔ اور وہ اپنا وعدہ بھول کر دنیا کی غیر اہم آسائشوں کی دوڑ میں لگ پڑے، جس نے انہیں اتنا مفلس بنا دیا کہ ان کو جان کے لالے پڑ گئے جس سے گھبرا کر انہوں نے نئے خدا بنا لیے اور اپنے حقیقی خدا کو فراموش کر دیا۔
آج وہ اپنے بنائے چھوٹے موٹے خداؤں سے دھکے، ٹھڈے اور ماریں بھی کھاتے ہیں لیکن ذلیل ہونے اور کچھ فائدہ نہ پانے کے باوجود انہی جھوٹے خداؤں کے دروں پر بیٹھے ہیں۔
کیا یہ بہتر نہ ہوگا کہ وہ اپنے حقیقی خدا کی طرف ہی لوٹ آئیں جو اکیلا ہی ان سب چھوٹے چھوٹے جھوٹے خداؤں کے چھکے چھڑا دینے کے لیے کافی ہے، وہ وعدہ پورا کریں جو ایک صدی سے بھی زیادہ پہلے کیا تھا، اور پھر اپنے حقیقی خدا کی مدد و نصرت کے ساتھ ایک پروقار زندگی گزاریں؟

جمعہ، 26 جولائی، 2013

پے بیک ٹائم!

یہ پاکستان میں ایک عام مسئلہ ہے کہ شریف خواتین، جنہوں نے اپنی ضروریات کے لیے موبائل فون رکھے ہوتے ہیں، کو ایک دن اچانک اوباش قسم کے نوجوانوں کی طرف سے فضول پیغامات آنا شروع ہو جاتے ہیں۔ بعض [سینسدڑ اسمائے صفت] لڑکے تو کال کرنے سے بھی نہیں چوکتے۔ اکثر ایسے مسائل کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے یا الٹا اس خاتون پر غصہ نکالا جاتا ہے کہ تمہیں موبائل کی ضرورت ہی کیا ہے۔ کوئی جوابی کارروائی کرے تو زیادہ سے زیادہ بھائی صاحب کے ذریعے تڑی لگا دی جاتی ہے کہ اب نہ آئے کال۔ کسی کے تعلقات ہوں تو وہ اس نمبر کے مالک کا پورا شجرۂ نصب بھی نکال لیا کرتے ہیں لیکن یہ عیاشی ہر کسی کو میسر نہیں ہوتی۔ مہذب معاشروں میں ایسے کام کے لیے پولیس ہوا کرتی ہے لیکن یہاں پولیس کے عمومی رویے کی وجہ سے لوگ ایسے مسائل کی رپورٹ درج کرانے سے بھی کتراتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ نامعلوم والدین کے جنے یہ نامعلوم افراد بلا خوف و خطر دندناتے پھرتے ہیں۔
ایک شریف آدمی کا دل ایسی صورت حال کو دیکھ کر بہت کڑھتا ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ ان کے خلاف کچھ کارروائی ہونی چاہیے لیکن قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ترجیحات میں قانون کا نفاذ شامل نہ ہونا دیکھ کر خود کو بے بس و لاچار محسوس کرتا ہے۔
ایسے میں مجھے ایک خیال آیا۔ کیوں نہ ان لوگوں کے ساتھ وہی (یا حسبِ توفیق اس سے بھی "بڑھیا") سلوک کیا جائے جس طرح یہ لوگ شریف خواتین کو تکلیف پہنچاتے ہیں؟ ایک ویب سائٹ بنائی جائے جہاں ایسے لوگوں کے نمبر اکٹھے کیے جائیں جس طرح یہ لوگ لڑکیوں کے نمبر ویب سائٹس پر جمع کرتے ہیں۔ اور منادی لگا دی جائے کہ اب سب لوگ ان [سینسرڈ اسمائے صفت] لڑکوں کا حسبِ توفیق بلاتکار کریں۔
بہت سے لوگوں کو ان کے اندر کی اچھائی اپنی حدود کے اندر رکھتی ہے۔ لیکن بہت سے ایسے بھی ہوتے ہیں جنہیں ڈنڈے کے زور سے سیدھا رکھنا پڑتا ہے۔
آپ کی اس بارے میں کیا رائے ہے؟ کیا ایسا کیا جانا چاہیے یا ہمارے پاس کوئی اس سے بہتر متبادل موجود ہے؟

ہفتہ، 2 مارچ، 2013

ووٹ شوٹ

یہ منظر آج کل اکثر دیکھنے کو ملتا ہے۔
کچھ لوگ بیٹھے حکومت وغیرہ کو کوس رہے ہوتے ہیں، حالات کا رونا رو رہے ہوتے ہیں، دوسروں کی بے ایمانیوں کا تذکرہ کر رہے ہوتے ہیں۔ کہ اچانک ان میں سے ایک شخص کسی دوسرے سے پوچھتا ہے۔ "تو پھر تم اس بار کسے ووٹ ڈال رہے ہو؟" اور جواب میں وہ صاحب فرماتے ہیں کہ "کسی کو بھی نہیں۔ سارا نظام ہی بگڑا ہوا ہے۔ صرف میرے ووٹ سے کیا فرق پڑ جائے گا!۔۔" ایسے لوگوں کی یہ منطق کم از کم میری سمجھ میں نہیں آتی۔ کیونکہ اگر ان کو کوئی ایسی تصویر دکھائی جائے جس میں کسی اسرائیلی ٹینک کے سامنے کوئی فلسطینی بچہ ہاتھ میں پتھر اٹھائے کھڑا ہو تو (اگر سب نہیں تو) اکثر اس بچے کی ہمت کی تعریف ہی کریں گے اور اس کے طرزِ عمل کو قابلِ تحسین قرار دیں گے۔ لیکن اس کے باوجود جب اپنی باری آئے گی تو محض دو گھنٹے لگا کر وہ ووٹ ڈالنے کی تکلیف بھی نہیں کریں گے جس پر ان کے مستقبل کا اتنا انحصار ہے۔ فرض کریں کہ آپ کے ووٹ ڈالنے کے باوجود وہ تبدیلی نہیں آتی جس کے لیے آپ نے ووٹ ڈالا تھا، تب بھی کیا یہ بہتر نہیں کہ اپنی سی ایک کوشش کر لی جائے؟ بجائے اس کے کہ صرف رونے دھونے پر ہی اکتفاء کیے رہیں۔۔۔

جمعرات، 3 نومبر، 2011

کرکٹی انتہا پسندی

پرسوں "بولتا پاکستان" کے فیسبک صفحے پر ایک سوال دیکھا۔
سوال تھا، "لندن کی عدالت نے پاکستانی کرکٹرز کو سزا دے دی۔ پاکستان کو کیا کرنا چاہیے؟"
نیچے کیے گئے تبصروں کے درمیان کچھ عجیب و غریب سے تبصرے دیکھنے کو ملے۔
کسی کا کہنا ہے کہ تاحیات پابندی لگا دی جائے۔ کسی نے کہا کہ تاحیات پابندی کے ساتھ پانچ کروڑ جرمانہ بھی ہونا چاہیے۔ جبکہ کوئی اتنے کم جرمانے پر خوش نہیں اور چاہتا ہے کہ ان کے تمام اثاثے ہی منجمد کر دیے جائیں۔ کوئی چاہتا ہے کہ ان کی پاکستانی قومیت ہی ختم کر دی جائے جبکہ کسی کو یہ اعتراض ہے کہ پاکستان کو اتنا بدنام کرنے پر انہیں پھانسی کیوں نہیں دے دی گئی۔
یہ کہتے کسی کو بھی نہیں دیکھا کہ اگر واقعی یہ لوگ مجرم ہیں تو بس قانون کے مطابق سزا دو اور جان چھوڑو۔

ہے نا عجیب منطق؟
ملکی دولت لوٹنے والے لٹیروں کو اگلی بار ووٹ دیکر پھر سے سارے وطن کے سیاہ و سفید کا مالک بنا دو اور ایک نو بال کروانے پر لوگوں کو پھانسی چڑھا دو۔
وطن عزیز میں معاشرے میں موجود برائی اور کرپشن کلچر کا الزام ملا پر۔ شدت پسندی، بم دھماکے، قتل و غارت گری اور دہشت گردی کا ذمہ دار مولوی ہے۔ لیکن ایک نو بال پر پھانسی کی سزا یقینا عین اعتدال پسندی ہے۔
پاکستان کھپے! ملکانہ لاجک زندہ باد! (ملک ساب کو تو جانتے ہی ہوں گے آپ سب)

پیر، 28 مارچ، 2011

ہر اک شخص کو ورلڈ کپ ہو گیا ہے

بچپن میں، بچوں کے ایک رسالے میں، "ورلڈ کپ" کے عنوان سے یہ نظم دیکھی تھی۔ شاعر کا نام یاد نہیں۔ شاید "انوکھی کہانیاں" کا 1992ء یا 1996ء کا شمارہ تھا۔ بس نظم ہی یاد ہے، چنانچہ اسی پر گزارہ کیجیے۔


ورلڈ کپ

جو کل تک الل تھا وہ ٹپ ہو گیا ہے
جو مرغا تھا پورا ہڑپ ہو گیا ہے
جو اوور ملا تھا وہ اپ ہو گیا ہے
ہر اک شخص کو ورلڈ کپ ہو گیا ہے

جو افسر تھا جا بیٹھا ٹی وی کے آگے
تو ماتحت چھٹی سے پہلے ہی بھاگے
کہ تھے صبح دم نو بجے کے وہ جاگے
سو دفتر کا دفتر ہی ٹھپ ہو گیا ہے
ہر اک شخص کو ورلڈ کپ ہو گیا ہے

جو گاہک نے پوچھا ٹماٹر کا بھاؤ
تو بوڑھا پکارا ارے جاؤ جاؤ!
ابھی ایک دو روز کچھ مت پکاؤ
کہ سبزی کو بھی ورلڈ کپ ہو گیا ہے

جو ٹیچر نے پوچھا کہاں پر ہے یکہ
تو شاگرد بولا کہ چھکے پہ چھکا
نہ یوں مفت میں آپ ہوں ہکا بکا
پڑھائی کا اوور بھی اپ ہو گیا ہے
ہر اک شخص کو ورلڈ کپ ہو گیا ہے

بدھ، 26 جنوری، 2011

فیسبکیوں کے نام ایک پیغام، ایک تجویز

میرے عزیز فیسبکیے دوستو! السلام علیکم۔

تم کو یاد ہوگا جب فیسبک انتظامیہ کے ڈرا محمد پیج کو ہٹانے سے انکار پر فیسبک کے بائیکاٹ کی باتیں ہو رہی تھیں تو تم میں سے کچھ نے کہا تھا کہ مسلمانوں کے فیسبک سے بالکل غائب ہونے پر ان کی نمائندگی ختم ہو جائے گی جس سے ایسی حرکات کا راستہ روکنا اور بھی مشکل ہو جائے گا۔ تب مجھے اس بات میں وزن نظر آیا چنانچہ میں اپنا کھاتہ حذف کرنے سے رک گیا۔ صرف استعمال بند کر دیا کہ بعد میں جو صورتِ حال پیدا ہوگی، اس کی مناسبت سے فیصلہ کروں گا۔

جب بائیکاٹ والی بات کو کچھ عرصہ گزر گیا تو میں نے دیکھنے کا فیصلہ کیا کہ کیا صورتِ حال ہے۔ اور مجھے یہ دیکھ کر بہت مایوسی ہوئی کہ جو لوگ "مسلمانوں کی نمائندگی" کے نام پر فیسبک پر رہ گئے تھے (اور جو صبر کا دامن چھوڑ کر واپس آ گئے تھے)، ان کی اکثریت کوئی بھی ایسا کام نہیں کر رہی تھی جس سے واقعی مسلمانوں کی نمائندگی ہو۔ بلکہ ایک بڑی تعداد تو اس کا بالکل متضاد کرتی نظر آئی۔ یہ دیکھ کر مجھے بہت مایوسی ہوئی۔ لیکن ابھی بھی میں کھاتہ مستقل طور پر حذف کرنے کے بارے میں تذبذب کا شکار تھا۔

پھر کچھ مزید دن گزرے اور میں نے یہ ویڈیو دیکھی جس میں ایک نومسلم اپنے مسلمان ہونے کا قصہ سنانے کے بعد اپنے اڑوس پڑوس میں رہنے والے مسلمانوں سے اس بات کا شکوہ کر رہا تھا کہ ان کے پاس اس کے سوال کا جواب تھا لیکن انہوں نے کبھی اسے اس کی بھنک بھی نہیں پڑنے دی۔

http://www.youtube.com/watch?v=IYMKQKSV0bY

اسے دیکھنے کے بعد مجھے خیال آیا کہ ہم لوگ سوشل نیٹورکنگ کو تبلیغ، یا کم از کم غیر مسلموں کی اسلام میں دلچسپی پیدا کرنے کے لیے تو استعمال کر سکتے ہیں۔

لیکن فی الحال میں نے جن لوگوں کو اس کام کی کوشش کرتے دیکھا ہے، ان میں اکثر کوئی خاص کامیاب ہوتے نظر نہیں آئے۔ کچھ لوگ غیر مسلموں کو خوش کرنے کے چکر میں اسلام کا حلیہ ہی توڑ مروڑ کر کچھ اس انداز میں پیش کرتے ہیں کہ ان کے لیے اس کے بارے میں مزید جاننے کی کوئی وجہ نہیں رہ جاتی۔ کچھ لوگ معذرت خواہانہ رویہ استعمال کرتے ہیں جیسے ان کا مسلمان ہونا کوئی بڑی غلطی ہو۔ جبکہ کچھ لوگ ان سے بات بات پر مناظرے شروع کر دیتے ہیں جس سے غیر مسلم دفاعی رویہ اختیار کرتے ہوئے اپنے مؤقف پر اس سختی سے جم جاتے ہیں کہ ان کی کسی بھی بات کو توجہ سے نہیں سنتے۔ ان کی یہ کوشش ہو جاتی ہے کہ کسی بھی قیمت پر مخالف کی ہر بات کو رد کیا جائے۔

میرے ذہن میں کچھ اس قسم کا نقشہ ہے۔

مثال کے طور پر جو لوگ فیس بک استعمال کرتے ہیں، ایک یا ایک سے زائد غیر مسلموں کو اپنے دوستوں میں شامل کر لیں۔  ہر ہفتہ ڈیڑھ ہفتہ بعد کوئی آیت یا کوئی حدیث ایسی چن کر اپنے سٹیٹس میں لگا دیں جس کا تعلق بنیادی اخلاق سے ہو۔ چونکہ ہم یہ ان لوگوں کو دکھانے کے لیے لگا رہے ہیں جن کو اسلام کے متعلق کچھ بھی معلوم نہیں، اس لیے بنیادی باتوں سے ابتداء کرنا ہی درست ہوگا (اور اس میں لمبی بحث چھڑنے کا خطرہ بھی کم ہوگا)۔ مثلاً جو آیات یا احادیث معاشرتی معاملات کے متعلق ہیں، خوش اخلاقی کا درس، جھوٹ سے پرہیز وغیرہ۔ میں فل ٹائم مبلغ بننے کی بات نہیں کر رہا۔ بس اپنی معمول کی سرگرمیوں کے دوران تھوڑا سا وقت ادھر لگا دیا کریں۔ اس طرح انہیں یہ بھی محسوس نہیں ہوگا کہ "اوہو! یہ تو تبلیغی پیچھے پڑ گئے"۔ :)

کبھی کبھار ایسا موقع بھی آئے گا کہ وہ کسی بات پر اعتراض کریں گے اور اسلام کے متعلق اپنی کسی غلط فہمی کی بنیاد پر کوئی اوٹ پٹانگ قسم کی بات کریں گے۔ ایسے مواقع پر معذرت خواہانہ رویے اور دین کو توڑنے مروڑنے سے الٹا نقصان ہوگا چاہے آپ یہ تبلیغ کے لیے کر رہے ہیں یا صرف مسلمانوں کے امیج کے لیے۔ اکثر اوقات جواب دینا بہت آسان ہوگا اگر آپ ٹھنڈے دماغ سے کام لیتے ہیں۔ اگر مناسب لگے تو ان کو یہ دعوت بھی دے دیا کریں کہ وہ قرآن مجید کو ایک بار پورا پڑھ کر دیکھ لیں۔ بعض مواقع پر ڈاکٹر ذاکر نائیک کی اسلام کے متعلق عام پوچھے جانے والے سوالات پر لکھی گئی کتاب بھی مفید رہے گی(یہ آپ کو irf.net پر مل جائے گی)۔ اور یاد رکھیں کہ ہمیشہ اپنا مزاج ٹھنڈا رکھیں۔ غصہ اچھے بھلے کام بگاڑ دیتا ہے۔ یہ بھی کبھی نہ بھولیں کہ یہ کام آپ اپنی ذات کے لیے نہیں بلکہ اللہ کے لیے کر رہے ہیں۔

یہ بھی یاد رکھیں کہ اسلام دنیا میں پھیلا کیسے تھا۔ بہت سے علاقوں میں اسلام، مسلمان تاجروں کی وجہ سے پھیلا تھا۔ جب وہ وہاں جاتے تو وہاں کے رنگ میں نہیں ڈھلتے تھے۔ دوسروں کی دیکھا دیکھی اپنے اخلاق کے معیارات نہیں بدلتے تھے۔ نہ مقامی لوگوں کے پاس جا کر مسلمانوں کے کچھ مخصوص گروہوں کی برائیاں کر کے کہتے تھے کہ اصل اسلام پر تو میں ہوں۔ نہ ہی اسلام کے متعلق ان کا رویہ معذرت خواہانہ ہوتا تھا۔ اپنی مرضی سے اسلام کو سیکولر یا کمیونسٹ وغیرہ نہیں بنا ڈالتے تھے بلکہ اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کے بتائے ہوئے طریقوں پر قائم رہتے تھے۔ چنانچہ جب وہاں کے مقامی لوگ ان کے اعلیٰ اخلاق کو دیکھتے تو خود متوجہ ہوتے کہ آخر اس کے اتنے اعلیٰ اخلاق کی وجہ کیا ہے۔ پھر ان میں سے بہت سے لوگ اس دین سے متاثر ہو کر اسے اختیار بھی کر لیتے۔

ہمیں بھی ویسا ہی اچھا مسلمان بننا ہوگا اور اپنے ساتھیوں کی بھی اچھے مسلمان بننے میں مدد کرنی ہوگی۔ اور ایسا بھی نہ ہو کہ غیر مسلموں کی تو ہمیں فکر ہو اور اپنے مسلمان بھائیوں کو ہم بھول جائیں۔ دونوں طرف توجہ دینی ہے۔ دونوں کا ہم پر حق ہے۔ میرے اس نسخے کا ایک ضمنی فائدہ یہ بھی ہے کہ غیر مسلم چاہے اسلام کی طرف متوجہ ہو یا نہ ہو، لیکن اس بہانے ہمیں خود اور دیگر مسلمان دوستوں کو ان اسباق کی یاد دہانی ہوتی رہے گی جو ہم کافی عرصہ پہلے پڑھ کر بھول گئے ہیں۔

چنانچہ آج سے کوشش کریں کہ خود بھی اچھے مسلمان بنیں، اپنے عزیزوں اور دوستوں کی بھی مدد کریں، اور اللہ کا پیغام ان تک بھی پہنچائیں جن تک ابھی نہیں پہنچا۔ یہ سب سے زیادہ ہمارے اپنے لیے ہی مفید ہے۔

دنیاوی فائدہ اور کوئی نہیں تو کم از کم آپ کے پاس فیسبک استعمال کرتے رہنے کا جواز تو پیدا ہو ہی جائے گا اور ساتھ ہی مسلمانوں کی نمائندگی کا طریقہ بھی درست ہو جائے گا۔ :p

اضافہ (2 فروری 2011): اگر میری تجویز پر عمل نہ کرنا چاہیں تو کم از کم ایک کام تو کر ہی سکتے ہیں۔ کہ فیس بک پر آنے والے اشتہارات پر کلک نہ کریں جن کے ذریعے فیس بک کمائی کرتا ہے۔

اتوار، 31 اکتوبر، 2010

فیسبکیوں کی ہجو میں ایک نظم

کسی زمانے میں سنا تھا کہ غم اچھے بھلے انسان کو شاعر بنا دیتا ہے۔ تب تو یقین نہیں آیا لیکن آج جب میں نے خود ایک نظم پوری کی تو مجھے یقین آ گیا کہ واقعی غم مجھ جیسے نمونوں کو بھی شاعر بنا سکتا ہے۔

یہ بے قاعدہ اور بے ہنگم نظم میں اپنے ان تمام دوستوں کے نام کرتا ہوں جن کی وجہ سے ہمارا فیسبک کے بائیکاٹ کا منصوبہ ناکام ہوا۔ اس نظم کی بنیاد میں دھوکہ، فراڈ اور میرے ارمانوں کا خون شامل ہے۔ تو پڑھیے اور لطف اندوز ہوئیے۔

ٹوٹ بٹوٹ اور فیسبک

ایک تھا لڑکا ٹوٹ بٹوٹ
باپ تھا اس کا میر سلوٹ
پیتا تھا وہ سوڈا واٹر
کھاتا تھا بادام اخروٹ

اک دن اس کی شامت آئی
فیسبک پر نظر دوڑائی

جھٹ سے اک کھاتہ کھلوایا
کئی لوگوں کو دوست بنایا

پھر تو اس کو جب بھی دیکھا
فیسبک پر مصروف ہی پایا

زندگی کٹ رہی تھی یوں ہی
اک دن دوست نے چٹھی بھیجی

فیسبک نے کیا کام برا تھا
اس پر کچھ تو کرنا ہی تھا

گستاخانِ رسول کی جو
اس نے سرپرستی کی تھی

اس پر کسی طرح کی تو
کارروائی کرنی ہی تھی

دوست بولا کرو بائیکاٹ
فیسبک سے لو تعلق کاٹ

گر سب اس سے رشتہ توڑیں
پھر نہ کریں گے ہمت ایسی

ٹریفک ہوگی اتنی کم کہ
ہو جائے گی ایسی تیسی

ٹوٹ بٹوٹ نے یہ سوچا کہ
بات تو ہے یہ بڑے پتے کی

سب مسلم جو متحد ہو گئے
نہ کرے گا کوئی ہمت ایسی

فوراً اس نے فیسبک چھوڑی
یاروں کو بھی دعوت ٹوری

گر ہوتا کامیاب بائیکاٹ
فیسبک کی لگ جاتی واٹ

قوم گر متحد ہو جاتی
گستاخوں کو عقل آ جاتی

لیکن حقیقت میں جو ہوا
ٹوٹ بٹوٹ نے سوچا نہ تھا

کچھ ہی روز ابھی گزرے تھے
اکثر لوگ صبر کھو بیٹھے

کچھ ہی رہے میداں میں ڈٹ کر
باقی سب واپس کو بھاگے

مہم ہو گئی ناکام ساری
کئی لوگوں نے ڈنڈی ماری

ٹوٹ بٹوٹ اب بیٹھا سوچے
دھیرے دھیرے خود سے بولے
سوچا کیا تھا، کیا ہو گیا رے
تیرے ساتھ تو فراڈ ہو گیا رے

"ہمیں اپنوں نے لوٹا، غیروں میں کہاں دم تھا
میری کشتی وہاں ڈوبی جہاں پانی کم تھا"

پیر، 12 اپریل، 2010

ناقابلِ یقین کہانی

ناقابلِ یقین کہانی۔ مصنف: امر جلیل


کچھ روز پہلے کسی نے پوچھا ”اگر بینظیر بھٹو زندہ ہوتیں تو آصف زرداری آج کہاں ہوتے؟“
”یہ بھی کوئی پوچھنے کی بات ہے“ میں نے کہا۔
”بے نظیر بھٹو جب زندہ تھیں آصف زرداری چلنے پھرنے اور آنے جانے کے قابل نہیں تھے“۔
”کیوں؟“ اس نے پوچھا ”ان کے پیروں میں کیا مہندی لگی تھی؟“
مجھے غصہ آگیا۔ میں نے کہا ”وہ سخت بیمار تھے۔ ان کی کمر اور ریڑھ کی ہڈی میں تکلیف تھی ۔ وہ چل پھر نہیں سکتے تھے۔ دبئی اور نیویارک میں ان کا علاج چل رہا تھا“۔
شرارتی مسکراہٹ چہرے پر لاتے ہوئے اس نے کہا ”اور بینظیر کے فوت ہوتے ہی زرداری صاحب ٹھیک ہوگئے“!
”دیکھو“ میں نے اس سے کہا ”تم ایک ایسے شخص کے بارے میں اوٹ پٹانگ باتیں کر رہے ہو جن کو ہر طرح کا آئینی تحفظ ملا ہوا ہے“۔
”ناراض کیوں ہوتے ہو بھائی۔“ اس نے کہا ”میں صرف اتنا جاننا چاہتا ہوں کہ بینظیر صاحبہ اگر آج زندہ ہوتیں تو پھر آصف زرداری صاحب کا پاکستان کی سیاست میں کوئی عمل دخل ہوتا؟؟“
میں آصف زرداری کا جانثار چکرا کر گر پڑا، بیہوش ہوگیا۔ ہوش میں آیا تو ایک اسپتال میں تھا۔ میں نے ادھر ادھر دیکھا۔ ایک نرس مسکرا کر میری طرف دیکھ رہی تھی۔ میں نے نرس سے پوچھا ”اگر بینظیر صاحبہ آج زندہ ہوتیں تو پھر زرداری صاحب کہاں ہوتے؟؟“
نرس نے سوال سنا۔ مسکراہٹ اس کے چہرے سے غائب ہو گئی اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے وہ چکرا کر گر پڑی اور بیہوش ہوگئی۔ نرس دھم سے گری تھی۔ اس کے گرنے کی آواز سن کر دو تین ڈاکٹر اور کچھ وارڈ بوائے دوڑتے ہوئے آئے۔ نرس کو فرش پر بیہوش پڑا ہوا دیکھ کر حیران ہوئے۔ ایک ڈاکٹر نے مجھ سے پوچھا۔ ”سسٹر سلونی کو کیا ہوا، کیسے گر پڑیں؟“
”میں نے ان سے ایک سوال پوچھا تھا“ میں نے کہا ”سوال سنتے ہی وہ چکرا کر گر پڑی اور بیہوش ہو گئی“۔
ڈاکٹر نے کہا ” تم نے سسٹر سلونی سے کیا پوچھا تھا؟“
میں نے کہا ”سسٹر سلونی سے میں نے پوچھا تھا ، بینظیر صاحبہ اگر آج زندہ ہوتیں تو زرداری صاحب کہاں ہوتے؟“
ڈاکٹروں اور وارڈ بوائز کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں وہ ٹکٹکی باندھے میری طرف دیکھتے رہے میں نے حیرت زدہ ڈاکٹروں اور وارڈ بوائز سے پوچھا ”اچھا آپ لوگ بتا سکتے ہیں کہ بینظیر صاحبہ اگر آج زندہ ہوتیں تو آصف علی صاحب کہاں ہوتے اور کیا کر رہے ہوتے“؟
ڈاکٹر اور وارڈ بوائے چکرا گئے میرے دیکھتے ہی دیکھتے وہ چکرا کر گر پڑے اور بیہوش ہو گئے اور اس کے بعد میں نے جس جس خدا کے بندے سے پوچھا کہ محترمہ بینظیر صاحبہ اگر زندہ ہوتیں تو آصف زرداری سیاست میں دکھائی دیتے؟ وہ تمام کے تمام خدا کے نیک بندے سوال سن کرگر پڑے اور بیہوش ہو گئے۔
اس ماجرے سے گھبرا کر میں نے پیروں فقیروں کا رخ کیا۔ میرا سوال سن کر پیر فقیر چکرا کر گر پڑے اور بیہوش ہوگئے، صورت حال تشویش ناک ہوتی جا رہی تھی سنا تھا کہ جوگی، سنیاسی اور بھکشو گھنے برگدوں کے سایے میں چلہ کاٹتے تھے اس لحاظ سے برگد معتبر درخت ہے میں نے ایک گھنے اور تناور درخت سے پوچھا ”بینظیر صاحبہ اگر زندہ ہوتیں تو کیا زرداری صاحب پاکستانی سیاست میں نظر آتے یا اپنی درد میں مبتلا کمر اور ریڑھ کی ہڈی کا بیرون ملک علاج کرا رہے ہوتے؟“
میں نے سنسناہٹ کی آواز سنی برگد لرزنے لگا۔ دیکھتے ہی دیکھتے برگد پرخزاں چھانے لگی پتے پیلے ہو کر ٹہینوں سے گرنے لگے۔ آناً فاناً ہرا بھرا برگد سوکھ گیا۔
میں پریشانی کے عالم میں کھڑا ہوا تھا کہ مجھے غیب سے آواز سنائی دی۔ ”گڑھی خدا بخش جاؤ اور یہ سوال جا کر ذوالفقار علی بھٹو سے پوچھو“۔
میں نے گھبرا کر ادھر ادھر دیکھا۔ ”سوچتے کیا ہو بونگے بھائی، جاؤ۔ گڑھی خدا بخش جاؤ اور یہ سوال جا کر ذوالفقار علی بھٹو سے پوچھو۔ وہ آصف علی زرداری کے سسر لگتے ہیں وہی اس سوال کا جواب تمہیں دیں گے“۔
دیگر پاکستانیوں کی طرح میں پیروں مرشدوں کا مارا ہوا رخت سفر باندھ کر اسی سمت نکل پڑا جو میرے لئے انجانی تھی۔ میں نے زندگی میں نہ تو لاڑکانہ دیکھا تھا اور نہ رتو ڈیرو دیکھا تھا۔ سنا تھا وہیں سے ایک راستہ نکلتا تھا جو کہ سیدھے گڑھی خدا بخش پہنچتا تھا۔ میں نے پیر و مرشد کے بعد اللہ کا نام لیا اور سفر پر نکل پڑا۔ جب تک ذوالفقار علی بھٹو کا جسد خاکی وہاں دفن نہیں ہوا تھا کسی نے بھی گڑھی خدا بخش کا نام نہیں سنا تھا۔ اب تو وہاں ذوالفقار علی بھٹو کے بغل میں ان کی جواں سال بیٹی اور دو جواں سال بیٹے ابدی نیند سو رہے ہیں۔ پچھلے تیس بتیس برسوں میں ہم پیر و مرشد اور قبر پرستی کے مارے ہوئے پاکستانیوں نے ذوالفقار علی بھٹو کو پیر سائیں بنا کر رکھ دیا ہے۔ بیمار ان سے شفا مانگتے ہیں، بیروزگار ان سے روزگار مانگتے ہیں۔ بے اولاد ان سے اولاد مانگتے ہیں۔ معطل افسر ان سے بحالی کی دعا مانگتے ہیں۔ مظلوم بہو ان سے ساس کے بدن میں کیڑے پڑنے کی دعائیں مانگتی ہے۔ طالب علم امتحان میں پاس ہونے کے لئے ان کی قبر پر آکر گڑ گڑاتے ہیں۔ میرے کہنے کا مطلب ہے کہ شاید ہی کوئی شخص ہو جو گڑھی خدا بخش کے بارے میں کچھ نہ جانتا ہو۔
لاڑکانہ سے رتو ڈیرو پہنچنے میں مجھے زیادہ دقت پیش نہیں آئی لیکن گڑھی خدا بخش تک پہنچنا مجھے ناممکن محسوس ہوا چپے چپے پر رینجرز کے کمانڈوز اور پولیس کی بھاری نفری موجود تھی۔ مجھے تعجب ہوا گڑھی خدا بخش جانے والی سڑک پر لوگوں کا جم غفیر موجود تھا۔ ان میں بچے تھے، جوان تھے، بوڑھے تھے، عورتیں تھیں، مرد تھے۔
ہاتھوں میں آٹو میٹک رائفلیں اور روالور تھامے سیکورٹی اہلکار عقاب کی طرح ایک ایک شخص پر نظر رکھے ہوئے تھے، کڑی جانچ پڑتال کے بعد وہ ایک ایک آدمی کو آگے جانے دے رہے تھے، میں نے ایک ریڑھی والے سے پوچھا ”یہاں کیا روزانہ اسی طرح بھیڑ لگی رہتی ہے؟“
”نہیں“ ریڑھی والے نے کہا ”آج شہید بابا کی برسی ہے۔ سائیں زرداری شہید بابا کی مزار پر چادر چڑھانے آرہے ہیں۔“ شہید بابا سے اس کی مراد ذوالفقار علی بھٹو تھی۔
مجھے سیکورٹی اہلکاروں سے ہوتے ہوئے آگے نکل جانا ناممکن لگ رہا تھا۔ میرے پاس شناختی کارڈ نہیں ہے۔ شناختی کارڈ ان کے پاس ہوتے ہیں جن کی کوئی شناخت ہوتی ہے میری کوئی شناخت نہیں ہے۔ میں اپنے ہی وطن میں بے وطن ہوں۔ سیکورٹی والوں سے نظر بچا کر سڑک کی دائیں جانب گھنی جھاڑیوں میں داخل ہوگیا۔ میں ہر حال میں گڑھی خدا بخش پہنچنا چاہتا تھا۔ میں شہید بابا سے پوچھنا چاہتا تھا کہ بینظیر صاحبہ اگر آج زندہ ہوتیں تو زرداری صاحب کہاں ہوتے اورکیا کر رہے ہوتے۔ کیا وہ پاکستان کی سیاست میں کہیں نظر آسکتے تھے؟ وہی میرے سوال کا جواب دے سکتے تھے جسے سن کر ان کے غریب عوام چکرا کر گر پڑتے ہیں اور بیہوش ہوجاتے ہیں۔
سیکورٹی اہلکاروں سے بچتا بچاتا میں آگے بڑھ رہا تھا کہ گھنی جھاڑیوں میں کسی سے ٹکرا کر گر پڑا۔ ایک شخص درخت کے تنے سے ٹیک لگا کر بیٹھا ہوا تھا۔ اس نے شاہ لطیف کی طرح گھٹنوں پر سر رکھا ہوا تھا وہ مجھے شناسا شناسا محسوس ہوا۔ مجھے لگا جیسے میں جانتا ہوں۔ میں اسے پہلے بھی دیکھ چکا تھا لیکن مجھے یاد نہیں آرہا تھا کہ کب اور کہاں میں نے اسے دیکھا تھا۔ میں اس کے قریب بیٹھ گیا اور پوچھا ”کیا آپ بھی میری طرح چھپتے چھپاتے ذوالفقار علی بھٹو کی مزار پر جا رہے ہیں؟“
انہوں نے سر اٹھا کر میری طرف دیکھا اور کہا ”نہیں۔“
”تو آپ گڑھی خدا بخش نہیں جا رہے؟؟میں نے پوچھا ۔
انہوں نے سر گھٹنوں پر رکھ دیا اور کہا ”سیکورٹی والوں نے مجھے گڑھی خدا بخش سے نکال دیا ہے“۔
میں نے تعجب سے پوچھا۔ ”مگر کیوں؟“
انہوں نے میری طرف دیکھا۔ ایک نحیف سی مسکراہٹ ان کے اداس چہرے پر پھیل گئی۔ انہوں نے کہا ”سیکورٹی حکام کو یقین ہے کہ میں زرداری کو مار ڈالوں گا“۔
مجھے تعجب ہوا۔ میں نے پوچھا ”مگر آپ ہیں کون“؟
نحیف سی مسکراہٹ سے میری طرف دیکھتے ہوئے انہوں نے کہا ”میں ذوالفقار علی بھٹو ہوں“۔

جمعرات، 25 مارچ، 2010

حکومت "کمپیوٹر شیڈنگ" کی تیاری میں

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔


کچھ دنوں سے خبر گردش میں ہے کہ حکومت استعمال شدہ کمپیوٹرز کی درآمد پر پابندی لگانا چاہتی ہے۔ سائنس کے ایک طالبِ علم کی حیثیت سے میں اس فیصلے کی پرزور مخالفت کرتا ہوں کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ اس سے لوگ حصولِ علم کے ایک سستے ذریعے سے محروم ہو جائیں گے۔ چنانچہ تعلیم کی شرح بری طرح متاثر ہوگی اور ملک کو بہت سخت نقصان پہنچے گا۔


Image: A banner in Karachi


اس موضوع پر اردو محفل میں بھی کچھ بحث ہو چکی ہے۔
http://www.urduweb.org/mehfil/showthread.php?t=29128


میں نے سوچا کہ اب تک کے تمام نکات کو یہاں ایک جگہ پر جمع کر دوں۔


کمپیوٹر ساز کمپنیوں کے دلائل اور ان کے جوابات۔


1۔ ان پرانے کمپیوٹروں کو بازیافت (ریسائیکل) نہیں کیا جا سکتا اس لیے آلودگی پھیلتی ہے۔


جواب۔ اول تو یہ سراسر جھوٹ ہے کہ انہیں بازیافت نہیں کیا جا سکتا۔ اور اگر اسے سچ فرض کر بھی لیں تو زمین کے ماحول کو مزید آلودگی سے بچانے کا یہی بہتر طریقہ ہے کہ جو چیز بازیافت نہیں ہو سکتی، اسے زیادہ سے زیادہ مدت تک کام میں لائے جانے کے طریقے ڈھونڈے جائیں۔ کیونکہ خود ہی سوچیں، ان کے بقول یہ بازیافت نہیں ہو سکتے تو استعمال نہ کرنے کی صورت میں یہی طریقہ ممکن ہے کہ ان کو پھینک دیا جائے جو کہ زمین کی مجموعی آلودگی کو بڑھانے کا سبب بنے گا (اور ایسا کچرا چاہے کسی بھی ملک میں پھینکا جائے، متاثر ہم سب ہی لوگ ہوں گے)۔ ساتھ ساتھ ان کی کمی کو پورا کرنے کے لیے مزید نئے کمپیوٹرز موجودہ ضرورت کی نسبت کہیں زیادہ تعداد میں تیار کرنے پڑیں گے جو کہ اب تک چاہے جتنے بھی ماحول دوست ہو گئے ہوں، اتنے نہیں ہوئے کہ پرانے تمام کمپیوٹروں کو ضائع کرنے کے ساتھ ساتھ نئے کمپیوٹر بھی اسی تعداد میں بنائے جانے کو "ماحول دوستی" قرار دیا جا سکے۔
حقیقت تو یہ ہے کہ تمام ماحولیات دان استعمال شدہ چیزوں کو دوبارہ استعمال میں لانے کی نصیحت کرتے ہیں کیونکہ یہ ماحول کے لیے اچھا ہے۔


دلچسپ بات یہ ہے کہ میں جو لینکس آپریٹنگ سسٹم استعمال کرتا ہوں، اس کی سب سے مقبول خوبیوں میں اس خوبی کا بھی اکثر ذکر کیا جاتا ہے کہ یہ پرانے کمپیوٹروں کو نئے سرے سے قابلِ استعمال بناتا ہے چنانچہ دیگر نظاموں کی نسبت زیادہ ماحول دوست ہے۔ اگر ترقی یافتہ ممالک والے خود بھی استعمال شدہ کمپیوٹروں کو دوبارہ استعمال میں لانے کو ایک خوبی اور "ماحول دوستی" قرار دیتے ہیں تو پھر ہمارے ان کمپیوٹروں کو استعمال کرنے میں کیا برائی ہے؟


اب ذرا بازار میں بکنے والے ایک عام کمپیوٹر پر نظر ڈالتے ہیں۔ سٹیل اور پلاسٹک کا ایک فریم، تانبے کے تار، پلاسٹک کے کچھ سرکٹ بورڈ، جن پر دھاتی تار اور چھوٹے چھوٹے کچھ برقی آلات ہیں۔ مانیٹر اگر سستا ہے تو کیتھوڈ رے ٹیوب والا، اور اگر مہنگا ہے تو ایل سی ڈی۔ سلیکان یا کسی اور نیم موصل مادے پر مبنی انٹگریٹڈ سرکٹس، ایک دو مقناطیسی حصے (ہارڈ ڈسک اور سپیکر) جو کہ ظاہری بات ہے کہ دھاتوں پر ہی مبنی ہیں، وغیرہ وغیرہ۔ اگر بازیافتگی کے کارخانے لگائے جاتے ہیں تو اس کا کم از کم نوے فیصد حصہ نہایت آرام سے بازیافت کیا جا سکتا ہے۔ لیکن کارخانے تو لگائے جائیں ورنہ دوسری صورت میں تو نئے کمپیوٹرز کا بھی یہی مسئلہ ہوگا جو پرانے کمپیوٹرز کا بتایا جا رہا ہے۔


2۔ پاکستان کو ضائع شدہ کمپیوٹرز کے لیے ڈمپنگ کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، اس سے پاکستان میں ماحولیاتی آلودگی پھیل رہی ہے اور ایک بار استعمال کیے ہوئے کمپیوٹرز کو دوبارہ استعمال کرنے سے مزید آلودگی پھیلنے کا خدشہ ہے۔


جواب۔ ترقی یافتہ ممالک میں عموماً امیر اور متوسط طبقے کے لوگ ہر دوسرے یا تیسرے سال اپنی بڑھتی ہوئی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے نیا اور زیادہ طاقت ور کمپیوٹر خریدتے ہیں۔ ان کے لیے جگہ بنانے کے لیے پرانے کمپیوٹرز کو "جائیداد سے عاق" کر دیا جاتا ہے حالانکہ ان میں سے بیشتر پوری طرح قابلِ استعمال ہوتے ہیں۔ ان میں سے جو کمپیوٹر کسی خرابی کی وجہ سے قابلِ استعمال نہیں رہتے، ان کو بازیافتگی کے لیے بھیج دیا جاتا ہے جہاں پارے جیسے خطرناک مرکبات پر مشتمل اشیاء کے لیے الگ سے بازیافتگی کا انتظام کیا ہوا ہوتا ہے۔ میرے خیال میں اگر چیک کیا جائے تو وہاں کے قانون میں بھی مضرِ صحت اشیاء کی تیاری، فروخت اور برآمدات پر پابندیاں ملیں گی۔ اگر کمپیوٹرز کے حوالے سے ایسی پابندیاں نہ ہوں تو بھی فروخت تو صرف وہی کمپیوٹر ہوں گے جو ابھی تک اچھی حالت میں ہوں کیونکہ وہی چیز بکے گی جس کا کوئی گاہک ملے گا۔ جس چیز کا (اس کی خراب حالت کی وجہ سے) کوئی گاہک ہی نہ ہو، اسے بیچا کس کو جائے گا کہ وہ یہاں تک پہنچ بھی پائے؟
ان قابلِ استعمال کمپیوٹروں میں سے کچھ تو وہیں کے غریب شہری خرید لیتے ہیں۔۔۔
Image: Computing Outdoors


جبکہ بیشتر پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں آ جاتے ہیں جہاں کے لوگ نئے کمپیوٹر خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ یہ کمپیوٹر نہ صرف یہاں پر کافی عرصہ تک چلتے ہیں بلکہ (غربت کی وجہ سے) ایک شخص کے استعمال کے بعد دوسرے کے استعمال میں آتے رہتے ہیں یہاں تک کہ جل جائیں یا کسی اور وجہ سے ناقابلِ استعمال ہو جائیں۔ اور جب ان کی عمر ختم ہو جاتی ہے تو حکومت کی جانب سے ان کو ٹھکانے لگانے کا کوئی بندوبست ہی نہیں ہے ورنہ نوے فیصد حصہ تو آرام سے بازیافت ہو سکتا ہے۔
بلکہ بازیافتگی کے کارخانے تو لازمی ہیں چاہے ہم نئے کمپیوٹر استعمال کرتے ہوں یا پرانے کیونکہ بنیادی طور پر تو سب کی ساخت ایک جیسی ہی ہوتی ہے۔ کیا نئے کمپیوٹر کسی دور میں خراب نہیں ہوں گے؟ کیا انہوں نے آبِ حیات پی رکھا ہے؟ جب ایسا ہوگا تو اس کے لیے ہم نے کتنی تیاری کر رکھی ہے؟


یہ عجیب منطق ہے کہ کمپیوٹر ایک بار استعمال ہو جائے تو مضرِ صحت ہو جاتا ہے۔ کمپیوٹر ہے کہ ٹائلٹ پیپر؟ یا اسے خود ہی پتا چل جاتا ہے کہ اب میں ایک بار استعمال ہو چکا ہوں چنانچہ زہریلا ہو جاتا ہے؟
ہاں کچھ کمپیوٹر ایسے آ جاتے ہیں جو واقعی بہت زیادہ بگڑی ہوئی حالت میں ہوتے ہیں اور ماحول کے لیے نقصان دہ ہوتے ہیں۔ لیکن ایسے میں ان کمپیوٹروں کو فلٹر کرنا چاہیے نہ کہ تمام استعمال شدہ کمپیوٹروں پر ہی پابندی لگا دی جائے۔


مجموعی طور پر دیکھا جائے تو ماحولیاتی آلودگی پرانے کمپیوٹروں سے نہیں بلکہ کچرا بازیافت کرنے کے کارخانے نہ ہونے کی وجہ سے پھیل رہی ہے۔ ہمیں پرانے کمپیوٹروں پر پابندی کی نہیں، بازیافتگی کے کارخانوں کی ضرورت ہے۔ صرف کمپیوٹروں کے لیے ہی نہیں بلکہ ان تمام برقی آلات کے لیے جو کہ گھروں میں عام استعمال ہوتے ہیں اور کمپیوٹر کی نسبت کہیں بڑی تعداد میں پائے جاتے ہیں۔ چاہے نئے ہوں یا پرانے۔


یہاں پر ایک مثال دینا چاہوں گا۔ پولیتھین کے لفافے اگر یوں ہی پھینک دیے جائیں تو ماحول کے لیے نقصان دہ ہوتے ہیں۔ فرض کریں کہ ایک بار استعمال ہو جانے والے پولیتھین کے تھیلوں پر پابندی لگا دی جاتی ہے۔ ایسی صورت میں کیا ہوگا؟ لفافوں کی بازیافتگی کے کارخانے تو ہیں ہی نہیں (اگر ہیں تو ضرورت سے انتہائی کم) چنانچہ ایک بار استعمال ہو جانے والے لفافوں کو لوگ یوں ہی پھینک دینے پر مجبور ہو جائیں گے جبکہ دوسری طرف ضرورت تو برقرار رہے گی ہی کیونکہ کاغذ اور کپڑے کے تھیلے ہر صورت میں استعمال نہیں ہو سکتے۔ چنانچہ ایک بار استعمال ہو جانے والے لفافوں کا کچرا الگ اور ساتھ ساتھ ضرورت کو پورا کرنے کے لیے نئے لفافے بنانے کا عمل بھی جاری رہے گا جس کی وجہ سے تھیلوں کی تعداد مزید بڑھے گی جنہیں ٹھکانے لگانے والا کوئی نہیں ہوگا۔ کیا یہ ماحول کے لیے اچھا ہوگا؟ یا یہ اچھا ہوگا کہ بازیافتگی کے کارخانوں کی تعداد بڑھائی جائے؟ یہ معاملہ بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ ضرورت بازیافتگی کے کارخانوں کی ہے جبکہ پابندی پرانے کمپیوٹروں پر لگائی جا رہی ہے۔


3۔ پاکستان کا امیج خراب ہوتا ہے کہ "پاکستان کچرا خرید رہا ہے"۔


جواب۔ جیسا کہ میں پہلے ہی واضح کر چکا ہوں، استعمال شدہ اشیاء کو دوبارہ استعمال میں لانا کوئی برائی نہیں بلکہ ماحول کے لیے فائدہ مند ہے۔ تو ایسے میں اگر لوگ باتیں کرتے ہیں (حالانکہ حقیقت میں کسی کو پروا نہیں کہ پاکستان کیا خریدتا ہے) تو ہمیں کوئی پروا نہیں ہونی چاہیے۔


4۔ پرانے کمپیوٹر بجلی زیادہ استعمال کرتے ہیں۔


جواب۔ آج کل مارکیٹ میں دستیاب نئے کمپیوٹروں کا پرانے کمپیوٹروں کے ساتھ موازنہ کیا جائے تو میرے خیال میں نئے کمپیوٹروں میں بجلی کی بچت کی اوسط شرح 10 سے 20 فیصد کے درمیان ہی ہوگی۔ ایسے میں اگر پرانے کمپیوٹروں پر پابندی لگائی جاتی ہے تو بجلی کی صورتِ حال پر کوئی قابلِ ذکر فرق نہیں پڑنے والا کیونکہ کمپیوٹرز کی نسبت کہیں زیادہ بجلی دوسرے آلات میں خرچ ہو جاتی ہے۔ چنانچہ یہ فرق اتنا کم ہو جاتا ہے کہ اسے بحفاظت نظر انداز کیا جا سکتا ہے۔ یہ کوئی اتنی بڑی چیز نہیں ہے جس کے لیے ہم پوری قوم کو تعلیم سے ہی محروم کر دیں اور انہیں مزید جہالت اور نتیجتاً مزید غربت کی طرف دھکیل دیں۔
ویسے آپس کی بات ہے، بجلی کی بچت اور ماحول کے تحفظ کے لیے بھی عوام میں وسائل کو بہتر طور پر استعمال کرنے کا شعور پیدا کرنے کی ضرورت ہوگی جو کہ تعلیم کی عدم موجودگی میں ناممکن ہے۔


5۔ استعمال شدہ کمپیوٹرز کی کھپت بڑھنے کی وجہ سے مقامی طور پر اسمبل ہونے والے کمپیوٹرز کی صنعت اور مارکیٹ بہت متاثر ہو رہی ہے۔


جواب۔ اس تمام فساد کی اصل جڑ تو یہی ہے۔ ڈالر کی پجاری امریکی کمپیوٹر ساز کمپنیوں کو یہ بات ہضم نہیں ہوتی کہ ہمارے ملک سے انہیں اربوں ڈالر کی آمدنی کیوں نہیں ہو رہی۔ لالچ کی کوئی حد بھی ہوتی ہے کہ نہیں؟
ہاں پرانے کمپیوٹرز کے کاروبار کی وجہ سے پاکستان میں مقامی کمپیوٹر اسمبلنگ کی صنعت تھوڑی کم منافع بخش ہو گئی ہے لیکن اگر ترقی کرنی ہے تو بڑے فوائد کے لیے چھوٹے منافع کی قربانی دینی ہوگی۔ کمپیوٹر آج کے دور میں تعلیم کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ تعلیم عام ہوگی تو خوشحالی آئے گی اور تب پھر لوگ نئے کمپیوٹر خریدنے کے قابل بھی ہو جائیں گے۔
پرانے کمپیوٹرز پر پابندی کے نتیجے میں اسمبلنگ والوں کے منافع میں تو کوئی خاص اضافہ نہیں ہوگا (کیونکہ بیشتر لوگ فاقوں سے مرنے کے بجائے کمپیوٹر نہ خریدنے کو ترجیح دیں گے)، البتہ اس کے نتیجے میں تعلیم جو غریب کی پہنچ سے مزید دور ہوگی، اس سے صرف غریب طبقہ ہی متاثر نہیں ہوگا بلکہ طویل المیعاد طور پر مقامی اسمبلر بھی متاثر ہوں گے۔ کیونکہ تعلیم کی کمی سے غربت کی شرح مزید بڑھے گی اور نئے کمپیوٹر خریدنا مزید لوگوں کے بس سے باہر ہوتا جائے گا۔ تو یہ اسمبلر مجھے یہ بتائیں کہ جب ہوتے ہوتے ہر کوئی غریب ہو جائے گا اور کوئی بھی ان کے کمپیوٹر نہیں خرید پائے گا، تب یہ لوگ کیا کریں گے؟
لہٰذا بہتر یہی ہے کہ یہ لوگ اپنی صنعت کے مستحکم ہونے کے لیے تھوڑا سا انتظار کر لیں۔ اور اگر حکومت کو ان سے واقعی اتنی ہمدردی ہے تو پہلے غربت کو دور کرنے کا کوئی انتظام کرے تاکہ ان کی مصنوعات لوگوں کی پہنچ میں آئیں۔ ورنہ کمپیوٹر ساز کمپنیوں کو اپنے پرزہ جات کی تیاری کے کارخانے یہیں لگانے پر مجبور کرے تاکہ نئے کمپیوٹرز کی قیمت میں کمی آئے۔ اس طرح وہ ایندھن بھی بچے گا جو ان پرزہ جات کو یہاں تک پہنچانے میں خرچ ہوتا ہے یعنی ماحول کو بھی کچھ فائدہ ہو جائے گا۔


اب ایسی پابندی لگنے کی صورت میں ملک کو پہنچنے والے نقصان کا جائزہ لیتے ہیں۔


1۔ تعلیم لوگوں کی پہنچ سے مزید دور ہوگی۔


ایسی پابندی کی صورت میں سب سے زیادہ نقصان طالبِ علم کا ہوگا جس پر قوم کے مستقبل کا دار و مدار ہے۔ تعلیم کی مجموعی حالت تو پہلے ہی خراب ہے، یہ فیصلہ ہمیں تعلیم کے معاملے میں مزید پستیوں کی طرف دھکیل دے گا۔ پاکستانی طلبائے علم میں سے زیادہ تر غریب اور متوسط طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ کاغذ پر چھپنے والی کتابیں تو آج کل اتنی مہنگی ہیں کہ مجھ جیسا کوئی طالبِ علم پورے سال میں تین چار بڑی کتابیں بھی نہ خرید پائے حالانکہ میں تو غریب کے زمرے میں بھی نہیں آتا۔ ایسے میں کمپیوٹر ہمارے لیے علم کے ذخائر تک رسائی کا بہترین ذریعہ ہے۔ ایک کھٹارے کمپیوٹر اور ایک کچھوے جیسے رینگتے انٹرنیٹ کنکشن کی بدولت طلبائے علم کی ایک بڑی تعداد سال بھر میں درجنوں کتابیں پڑھ لیتی ہے۔


حصولِ عبرت کے لیے ایک نظر میرے کھٹارے کو دیکھیے گا۔
Image: My Dear Khatara PC


یہ ہمارے گھر میں چار سال پہلے آیا تھا اور سائنسی علوم میں میں نے اپنی پوری زندگی میں جو کچھ بھی سیکھا ہے، اس کا سب سے زیادہ حصہ میں نے انہی چار سالوں کے دوران سیکھا ہے۔


اگر یہ ذریعہ بھی ہم طلبائے علم سے چھن گیا تو قوم کے مستقبل کا کیا ہوگا؟ بازار میں ایک اچھا سا استعمال شدہ کمپیوٹر 6 ہزار سے 8 ہزار میں مل جاتا ہے جبکہ بالکل نیا 25 ہزار سے 45 ہزار کا ملتا ہے۔ غریب کو چھوڑیں، کیا ایک متوسط طبقے کا طالبِ علم بھی اتنا مہنگا سامان خرید سکتا ہے؟ ایسے میں تو صرف ایک ہی نتیجہ آئے گا کہ تعلیم لوگوں کی پہنچ سے مزید دور ہوتی جائے گی اور جہالت و غربت مزید بڑھتی جائے گی۔


ساتھ ساتھ چونکہ سکولوں میں بھی کمپیوٹر کی تعلیم رواج پاتی جا رہی ہے، چنانچہ انہیں کمپیوٹر کا خرچ پورا کرنے کے لیے اپنی فیسیں بڑھانی پڑیں گی۔ یعنی طالبِ علم کی دونوں طرف سے خوب دھلائی ہوگی۔


2۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کی صنعت تباہ ہو جائے گی۔


اس فیصلے کے نتیجے میں چونکہ کمپیوٹر لوگوں کی پہنچ سے مزید دور ہو جائیں گے، اس لیے انفارمیشن ٹیکنالوجی کی صنعت میں جو پاکستان میں ترقی ہوئی ہے، وہ بھی الٹے قدموں واپس صفر پر پہنچ جائے گی۔


3۔ حکومت کا خرچہ بڑھے گا۔


آج کل تمام دفاتر میں کمپیوٹر ایک بنیادی ضرورت بن چکا ہے جن میں سرکاری دفاتر بھی شامل ہیں۔ پرانے کمپیوٹروں پر پابندی کی صورت میں حکومت کو سرکاری دفاتر میں کمپیوٹروں کے انتظام کے لیے موجودہ مقدار سے کئی گنا زیادہ رقم خرچ کرنی پڑے گی۔ سرکاری سکولوں میں تو کمپیوٹر کا انتظام کیا ہی نہیں جاتا۔ لیکن اگر سکولوں پر ایمانداری سے کام کرنا پڑ گیا تو لگ پتہ جائے گا۔


4۔ لاکھوں افراد کی بے روزگاری۔


اور جیسا کہ پہلے بھی کئی بار آپ ذکر سن چکے ہوں گے، اس سے استعمال شدہ کمپیوٹرز کی تجارت سے وابستہ لاکھوں افراد بے روزگار ہو جائیں گے۔


5۔ اسمگلنگ کا رجحان بڑھے گا۔


اس پابندی سے اسمگلنگ کا رجحان بڑھے گا کیونکہ جب لوگوں کو اپنی جائز ضروریات جائز طریقے سے پوری نہیں کرنے دی جائیں گی تو وہ ٹیڑھی انگلی سے گھی نکالنے پر مجبور ہو جائیں گے۔ اس سے پاکستان کے خزانے کو شدید نقصان پہنچے گا۔


تو اس طویل مضمون سے کیا نتیجہ حاصل ہوا؟


میرے خیال میں تو اس سے یہی نتیجہ حاصل ہوتا ہے کہ اس پابندی کے نفاذ کے لیے جو دلائل پیش کیے جا رہے ہیں، وہ سب انتہائی کمزور ہیں۔ بلکہ ماحول کی حفاظت کی بات کرنے والی کمپنیاں خود اس قدم کے ذریعے ماحول کو مزید نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ اور پاکستان کو پہنچنے والا شدید نقصان تو اس کے علاوہ ہے۔ ہمارا اصل مسئلہ بازیافتگی کے کارخانوں کی عدم دستیابی ہے جن کی ضرورت ہر حال میں ہوگی چاہے ہم پرانے کمپیوٹر استعمال کریں یا نئے۔


کچھ تجاویز:


1۔ میرے نزدیک اس سلسلے میں سب سے اہم کام تو یہ ہے کہ کچرا بازیافت کرنے کے کارخانے لگائے جائیں جہاں صرف کمپیوٹر ہی نہیں بلکہ ہر قسم کے کچرے کو بازیافت کیا جائے۔ یہ ماحول کے لیے تو مفید ہوں گے ہی۔ ساتھ ساتھ مختلف دھاتوں اور پولیمرز وغیرہ کی درآمد پر خرچ ہونے والی رقم میں کافی بچت کا ذریعہ بھی بنیں گے۔ اور کچھ لوگوں کو روزگار بھی مل جائے گا۔


2۔ نئے اور پرانے دونوں اقسام کے کمپیوٹرز میں چھانٹی کا انتظام کیا جائے اور جو آلات ماحول کے لیے بہت نقصان دہ ہوں، انہیں روک لیا جائے اور باقیوں کو آنے دیا جائے۔ مثلاً 14 یا 15 انچ سے بڑے کیتھوڈ رے ٹیوب مانیٹر کی عموماً ضرورت بھی نہیں ہوتی اور یہ بجلی بھی زیادہ استعمال کرتے ہیں۔ ان پر پابندی لگائی جا سکتی ہے۔


3۔ کمپیوٹر ساز کمپنیوں کے یہاں صرف اسمبلنگ کے کارخانے ہیں جہاں صرف درآمد شدہ پرزہ جات کو جوڑ کر کمپیوٹر بنا دیا جاتا ہے۔ ان کے پرزہ جات کی یہاں مقامی طور پر تیاری کا انتظام کروایا جائے جیسے ہندوستان میں انٹیل کے کمپیوٹر مقامی طور پر تیار ہوتے ہیں۔ اس سے قیمتیں کم ہوں گی اور نئے کمپیوٹر لوگوں کی پہنچ میں آئیں گے۔ مقامی کارخانوں کی ماحول دوستی پر نظر رکھنا بھی زیادہ آسان ہوگا۔


آخر میں حکمرانوں کے توجہ ان احادیث کی طرف دلانا چاہوں گا۔


حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ روایت فرماتے ہیں کہ حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
“جس بندے کو بھی اللہ تعالیٰ عام لوگوں کا محافظ/حاکم بنائے اور وہ ان کی خیر خواہی نہ کرے تو وہ جنت کی خوشبو بھی نہیں سونگھے گا۔" (صحیح البخاری، کتاب الاحکام، حدیث 7150)
نیز ارشاد فرمایا:
“جو حاکم بھی عام مسلمانوں کے معاملات کا ذمہ دار بنے، اور اس حالت میں مرے کہ وہ ان کی حق تلفی کر رہا ہو، تو اللہ اس پر جنت حرام کر دے گا۔" (ایضا، حدیث 7151)