ہفتہ، 2 مارچ، 2013

ووٹ شوٹ

یہ منظر آج کل اکثر دیکھنے کو ملتا ہے۔
کچھ لوگ بیٹھے حکومت وغیرہ کو کوس رہے ہوتے ہیں، حالات کا رونا رو رہے ہوتے ہیں، دوسروں کی بے ایمانیوں کا تذکرہ کر رہے ہوتے ہیں۔ کہ اچانک ان میں سے ایک شخص کسی دوسرے سے پوچھتا ہے۔ "تو پھر تم اس بار کسے ووٹ ڈال رہے ہو؟" اور جواب میں وہ صاحب فرماتے ہیں کہ "کسی کو بھی نہیں۔ سارا نظام ہی بگڑا ہوا ہے۔ صرف میرے ووٹ سے کیا فرق پڑ جائے گا!۔۔" ایسے لوگوں کی یہ منطق کم از کم میری سمجھ میں نہیں آتی۔ کیونکہ اگر ان کو کوئی ایسی تصویر دکھائی جائے جس میں کسی اسرائیلی ٹینک کے سامنے کوئی فلسطینی بچہ ہاتھ میں پتھر اٹھائے کھڑا ہو تو (اگر سب نہیں تو) اکثر اس بچے کی ہمت کی تعریف ہی کریں گے اور اس کے طرزِ عمل کو قابلِ تحسین قرار دیں گے۔ لیکن اس کے باوجود جب اپنی باری آئے گی تو محض دو گھنٹے لگا کر وہ ووٹ ڈالنے کی تکلیف بھی نہیں کریں گے جس پر ان کے مستقبل کا اتنا انحصار ہے۔ فرض کریں کہ آپ کے ووٹ ڈالنے کے باوجود وہ تبدیلی نہیں آتی جس کے لیے آپ نے ووٹ ڈالا تھا، تب بھی کیا یہ بہتر نہیں کہ اپنی سی ایک کوشش کر لی جائے؟ بجائے اس کے کہ صرف رونے دھونے پر ہی اکتفاء کیے رہیں۔۔۔

منگل، 6 نومبر، 2012

ظالمو! تاج نستعلیق آ رہا ہے!

بالآخر انتظار کی گھڑیاں ختم ہوئیں اور نا امیدی کا اندھیرا چھٹا!
ان شاء اللہ ۹ نومبر ۲۰۱۲ء کو بر صغیر کے پہلے آزاد ترسیمہ جاتی لاہوری نستعلیق فانٹ، القلم تاج نستعلیق، کا اجراء کر دیا جائے گا۔
تاج نستعلیق کی ویب سائٹ:

اپنی ویب سائٹ کے لیے تاج نستعلیق کا بینر حاصل کرنے کے لیے یہاں تشریف لے جائیں:

اور یہ رہا ایک عدد بڑے حجم کا بینر شریف:


جمعہ، 2 مارچ، 2012

کیا مسلمانوں کی علمی پسماندگی کے ذمہ دار امام غزالی ہی ہیں؟

چند ہی دن پہلے ایک جگہ کسی کا اعتراض پڑھا جس کا خلاصہ یہ تھا کہ مسلمانوں کے علمی زوال میں امام غزالی کا اہم کردار ہے۔

دو وجوہات نے مجھے اس معاملے کی تہہ میں جانے پر اکسایا۔ ایک تو یہ کہ اس طرح مجھے تاریخ کے متعلق کچھ سیکھنے کو ملے گا۔ دوم یہ کہ اتنی بڑی بات کو بغیر تحقیق قبول کر لینا کوئی علم دوست رویہ نہیں۔

پہلا مرحلہ تھا دعوے کا تجزیہ کرنا جس کے نتیجے میں اپنی آسانی کے لیے میں نے اسے ان دو حصوں میں تقسیم کیا۔
اول یہ کہ امام غزالی نے ریاضی کو ایک شیطانی کھیل قرار دیا۔
دوم یہ کہ امام غزالی کی وجہ سے مسلمان سائنس سے دور ہو گئے۔

پہلے حصے کے متعلق معلومات حاصل کرنے میں اپنی تاریخ سے عدم واقفیت کے باعث کافی محنت کرنی پڑی۔ لیکن آخر کار مجھے کہیں سے امام غزالی کی احیاء العلوم کا اردو ترجمہ مل گیا جس کی پہلی جلد میں مجھے یہ متن ملا۔

"غیر شرعی علوم:
غیر شرعی علوم کی بھی تین اقسام ہیں
(۱) پسندیدہ علوم
(۲) ناپسندیدہ علوم
(۳) مباح علوم
پسندیدہ علوم وہ ہیں جن سے دنیاوی زندگی کے مصالح وابستہ ہیں جیسے علمِ طب اور علمِ حساب۔ ان میں سے بعض علوم فرضِ کفایہ کی حیثیت رکھتے ہیں اور بعض صرف اچھے ہیں، فرض نہیں ہیں۔ فرضِ کفایہ وہ علوم ہیں جو دنیاوی نظام کے لیے ناگزیر ہیں۔ جیسے طب تندرستی اور صحت کی سلامتی کے لیے ضروری ہے، یا حساب کہ خرید و فروخت کے معاملات، وصیتوں کی تکمیل اور مالِ وراثت کی تقسیم وغیرہ میں لازمی ہے۔ یہ علوم ایسے ہیں کہ اگر شہر میں ان کا کوئی جاننے والا نہ ہو تو تمام اہلِ شہر کو پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ تاہم ان میں سے اگر ایک شخص بھی ان علوم کو حاصل کر لے تو باقی لوگوں کے ذمے سے یہ فرض ساقط ہو جاتا ہے۔
یہاں اس پر تعجب نہ کرنا چاہیے کہ صرف طب اور حساب کو فرضِ کفایہ قرار دیا گیا ہے۔ اس لیے کہ ہم نے جو اصول بیان کیے ہیں، اس کی روشنی میں بنیادی پیشے جیسے پارچہ بافی، زراعت اور سیاست بھی فرضِ کفایہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ بلکہ سینا پرونا اور پچھنے لگانا بھی فرضِ کفایہ ہیں، کہ اگر شہر بھر میں کوئی فاسد خون نکالنے والا نہ ہو تو جانوں کی ہلاکت کا خوف رہتا ہے۔ ہم یہ کہتے ہیں کہ جس نے بیماری دی ہے، اس نے دوا بھی اتاری ہے اور علاج کا طریقہ بھی بتلایا ہے۔ پھر کیوں نہ ہم ان سے فائدہ اٹھائیں؟ بلا وجہ اپنے آپ کو ہلاکت کی نذر کرنا جائز نہیں ہے۔ اس لیے پچھنے لگانے کا علم بھی فرضِ کفایہ ہے۔ یہاں یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ طب اور حساب کا صرف وہ حصہ فرضِ کفایہ کی حیثیت رکھتا ہے جس سے انسانی ضرورتیں پوری ہو جاتی ہیں۔ طب اور حساب کی باریکیوں کا علم محض پسندیدہ ہے، فرضِ کفایہ نہیں ہے۔
غیر شرعی علوم میں ناپسندیدہ علوم یہ ہیں: (۱) جادوگری، (۲) شعبدہ بازی، (۳) وہ علم جس سے دھوکہ ہو وغیرہ۔
مباح علوم یہ ہیں: (۱) شعر و شاعری اگر وہ اخلاق سوز نہ ہو، (۲) تاریخ یا دیگر تاریخی علوم۔
ان صورتوں کی روشنی میں دوسرے ناپسندیدہ یا مباح علوم و فنون کو قیاس کیا جا سکتا ہے۔"

میرے خیال میں اتنا اقتباس کافی ہوگا امام غزالی کے دنیاوی علوم پر نظریات کو سمجھنے کے لیے۔ اس لیے اب اگلے مرحلے کو چلتے ہیں۔

اگر مسلمانوں نے سائنسی علوم کو امام غزالی کی وجہ سے چھوڑا تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ امام غزالی کے بعد والے دور میں مسلمانوں میں دو چار ناموں کے علاوہ کوئی بڑا سائنس دان ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملنا چاہیے۔
چنانچہ اس کے لیے میں نے مشہور مسلمان سائنس دانوں کی فہرستیں چھاننی شروع کیں۔ ان میں سے چونکہ وکیپیڈیا والی فہرست کو چھاننا دوسروں کی نسبت زیادہ آسان تھا، اس لیے اسی کا انتخاب کیا۔ اگرچہ دیگر کتب میں ملنے والے کچھ نام مجھے اس فہرست میں نہ مل پائے۔ لیکن یہ سوچتے ہوئے کہ اتنی طویل فہرست کے ہوتے ہوئے ان پانچ چھے ناموں کے ہونے یا نہ ہونے سے کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا، میں نے وکیپیڈیا کی آسانی کو ترجیح دی۔
فہرست کی طوالت کی وجہ سے میں نے اپنی توجہ صرف فلکیات دانوں، ریاضی دانوں، طبیعیات دانوں اور انجنئیروں والے زمروں تک محدود رکھی (شاید اپنے ذاتی شوق کی وجہ سے)۔ اور یہ جاننے کی کوشش کی کہ امام غزالی کی وفات (1111ء) کے بعد ان میں سے کون کون پیدا ہوا تھا۔
امام غزالی پر آنے والے اعتراض کو پڑھنے کے بعد میں توقع کر رہا تھا کہ یہ تعداد انتہائی کم ہوگی جس کی وجہ سے بعض لوگ اس کمی کو امام غزالی سے منسوب کر دیتے ہیں۔ لیکن حیرت انگیز طور پر یہ تعداد میرے اندازے سے کافی زیادہ نکلی۔ چھانٹی کے بعد بچ جانے والوں میں سے بیس سائنس دانوں کے نام (بمع وکیپیڈیا ربط) یہاں پیش کر رہا ہوں۔

أبو الوليد محمد بن احمد بن رشد‎
فقيه، فلسفی، ماہرِ قانون، طبیب، فلکیات دان، جغرافیہ دان، ریاضی دان، طبیعیات دان
(1126–1198)
http://en.wikipedia.org/wiki/Averroes

السموأل بن يحيى المغربي‎
ریاضی دان، فلکیات دان اور طبیب
(1130–1180)
http://en.wikipedia.org/wiki/Al-Samawal

نور الدین البتروجی
فلکیات دان اور قاضی
(وفات: 1204)
http://en.wikipedia.org/wiki/Nur_Ed-Din_Al_Betrugi

بديع الزمان أَبُو اَلْعِزِ بْنُ إسْماعِيلِ بْنُ الرِّزاز الجزري
عالمِ دین، موجد، ریاضی دان، انجنئیر
(1136–1206)
http://en.wikipedia.org/wiki/Al-Jazari

شرف الدین طوسی
ریاضی دان اور فلکیات دان
(وفات: 1213 یا 1214)
http://en.wikipedia.org/wiki/Sharaf_al-D%C4%ABn_al-T%C5%ABs%C4%AB

محمد بن محمد بن الحسن طوسی (المعروف نصیر الدین طوسی‎)
فلکیات دان، حیاتیات دان، کیمیا دان، ریاضی دان، فلسفی، طبیب، طبیعیات دان
(1201–1274)
http://en.wikipedia.org/wiki/Nasir_al-Din_Tusi

محي الدين المغربي
ریاضی دان اور فلکیات دان
(1220–1283)
http://en.wikipedia.org/wiki/Mu%E1%B8%A5yi_al-D%C4%ABn_al-Maghrib%C4%AB

معید الدین الاردی
ریاضی دان، فلکیات دان، انجنئیر
(وفات: 1266)
http://en.wikipedia.org/wiki/Mo%27ayyeduddin_Urdi

قطب‌الدین محمود بن مسعود شیرازی
شاعر، فلکیات دان، ریاضی دان، طبیب، طبیعیات دان، فلسفی
(1236 – 1311)
http://en.wikipedia.org/wiki/Qutb_al-Din_al-Shirazi

شمس الدین السمرقندی
ریاضی دان اور فلکیات دان
(1250–1310)
http://en.wikipedia.org/wiki/Shams_al-D%C4%ABn_al-Samarqand%C4%AB

ابن البناء المراکشی
ریاضی دان اور فلکیات دان
(1256–1321)
http://en.wikipedia.org/wiki/Ibn_al-Banna%27_al-Marrakushi

کمال الدین فارسی
ریاضی دان، فلکیات دان
(1267–1319)
http://en.wikipedia.org/wiki/Kam%C4%81l_al-D%C4%ABn_al-F%C4%81ris%C4%AB

ابن الشاطر
فلکیات دان، ریاضی دان، انجنئیر اور موجد
مسجد میں موقت (ٹائم کیپر) کے طور پر کام کرتے تھے
(1304–1375)
http://en.wikipedia.org/wiki/Ibn_al-Shatir

شمس الدین ابو عبداللہ الخلیلی
فلکیات دان
(1320–1380)
http://en.wikipedia.org/wiki/Al-Khalili

قاضی زادہ الرومی
ریاضی دان اور فلکیات دان
(1364–1436)
http://en.wikipedia.org/wiki/Q%C4%81%E1%B8%8D%C4%AB_Z%C4%81da_al-R%C5%ABm%C4%AB

غیاث‌الدین جمشید کاشانی
ریاضی دان اور فلکیات دان
(1380–1429)
http://en.wikipedia.org/wiki/Jamsh%C4%ABd_al-K%C4%81sh%C4%AB

میرزا محمد طارق بن شاہرخ الغ بیگ
ریاضی دان، فلکیات دان اور سلطان
(1394–1449)
http://en.wikipedia.org/wiki/Ulugh_Beg

أبو الحسن علي القلصادي
ریاضی دان
(1412–1486)
http://en.wikipedia.org/wiki/Ab%C5%AB_al-Hasan_ibn_Al%C4%AB_al-Qalas%C4%81d%C4%AB

تقي الدين محمد بن معروف الشامي
فلکیات دان، انجنئیر، ریاضی دان، طبیعیات دان
(1526–1585)
http://en.wikipedia.org/wiki/Taqi_al-Din_Muhammad_ibn_Ma%27ruf

محمد باقر یزدی
ریاضی دان
(سولہویں صدی)
http://en.wikipedia.org/wiki/Muhammad_Baqir_Yazdi


اس تمام ڈیٹا کی موجودگی میں مجھے تو یہی سمجھ آتی ہے کہ مسلمانوں نے جو سائنس کو چھوڑا تو امام غزالی کی وجہ سے نہیں چھوڑا بلکہ اس کے اسباب کچھ اور تھے۔
یعنی کہ میرے ساتھ "کھودا پہاڑ، نکلا چوہا" والی واردات ہو گئی۔ حق تو یہ بنتا ہے کہ جس کے حقائق کی تصدیق کے معاملے میں کاہلی برتنے کی وجہ سے مجھے اتنی خواری کرنی پڑی (یعنی جس نے تصدیق کیے بغیر ہی الزام کو آگے بڑھا دیا)، اس سے جرمانے میں بریانی کی دیگ وصولی جائے۔ لیکن افسوس کہ فی الحال یہ کام انٹرنیٹ پر ممکن نہیں ہیں۔
چلو بخش دیا۔ کیا یاد کرو گے!۔۔

ہفتہ، 5 نومبر، 2011

نکاح کا مذاق

ایک دفعہ جمعہ کے خطاب کے دوران نکاح کا موضوع آیا تو خطیب صاحب نے بڑی دلچسپ بات کہی۔
کہا کہ اذان سنت ہے۔ اگر کوئی شخص اذان کے دوران آ کر گانا بجانا شروع کر دے تو آپ کو کیسا لگے گا؟ یقیناً سب اسے روکیں گے کہ یہ کیا اذان کا مذاق اڑا رہا ہے۔ نکاح بھی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی سنت ہے۔ لیکن اس میں لوگ خوب شوق سے گانے بجانے کا اہتمام کرتے ہیں۔ اگر کوئی روکے تو طرح طرح کے طعنے سننے کو ملتے ہیں۔ اکثریت کو یہ احساس تک نہیں ہوتا کہ اس طرح سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی سنت کا مذاق اڑایا جا رہا ہے۔
براہِ مہربانی اس چیز کا خیال رکھیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی سنت کا مذاق نہ بنائیں۔ اور کوشش کریں کہ اوروں کو بھی اس طرح نکاح کی سنت کا مذاق بنانے سے روکیں۔

جمعرات، 3 نومبر، 2011

کرکٹی انتہا پسندی

پرسوں "بولتا پاکستان" کے فیسبک صفحے پر ایک سوال دیکھا۔
سوال تھا، "لندن کی عدالت نے پاکستانی کرکٹرز کو سزا دے دی۔ پاکستان کو کیا کرنا چاہیے؟"
نیچے کیے گئے تبصروں کے درمیان کچھ عجیب و غریب سے تبصرے دیکھنے کو ملے۔
کسی کا کہنا ہے کہ تاحیات پابندی لگا دی جائے۔ کسی نے کہا کہ تاحیات پابندی کے ساتھ پانچ کروڑ جرمانہ بھی ہونا چاہیے۔ جبکہ کوئی اتنے کم جرمانے پر خوش نہیں اور چاہتا ہے کہ ان کے تمام اثاثے ہی منجمد کر دیے جائیں۔ کوئی چاہتا ہے کہ ان کی پاکستانی قومیت ہی ختم کر دی جائے جبکہ کسی کو یہ اعتراض ہے کہ پاکستان کو اتنا بدنام کرنے پر انہیں پھانسی کیوں نہیں دے دی گئی۔
یہ کہتے کسی کو بھی نہیں دیکھا کہ اگر واقعی یہ لوگ مجرم ہیں تو بس قانون کے مطابق سزا دو اور جان چھوڑو۔

ہے نا عجیب منطق؟
ملکی دولت لوٹنے والے لٹیروں کو اگلی بار ووٹ دیکر پھر سے سارے وطن کے سیاہ و سفید کا مالک بنا دو اور ایک نو بال کروانے پر لوگوں کو پھانسی چڑھا دو۔
وطن عزیز میں معاشرے میں موجود برائی اور کرپشن کلچر کا الزام ملا پر۔ شدت پسندی، بم دھماکے، قتل و غارت گری اور دہشت گردی کا ذمہ دار مولوی ہے۔ لیکن ایک نو بال پر پھانسی کی سزا یقینا عین اعتدال پسندی ہے۔
پاکستان کھپے! ملکانہ لاجک زندہ باد! (ملک ساب کو تو جانتے ہی ہوں گے آپ سب)

پیر، 28 مارچ، 2011

ہر اک شخص کو ورلڈ کپ ہو گیا ہے

بچپن میں، بچوں کے ایک رسالے میں، "ورلڈ کپ" کے عنوان سے یہ نظم دیکھی تھی۔ شاعر کا نام یاد نہیں۔ شاید "انوکھی کہانیاں" کا 1992ء یا 1996ء کا شمارہ تھا۔ بس نظم ہی یاد ہے، چنانچہ اسی پر گزارہ کیجیے۔


ورلڈ کپ

جو کل تک الل تھا وہ ٹپ ہو گیا ہے
جو مرغا تھا پورا ہڑپ ہو گیا ہے
جو اوور ملا تھا وہ اپ ہو گیا ہے
ہر اک شخص کو ورلڈ کپ ہو گیا ہے

جو افسر تھا جا بیٹھا ٹی وی کے آگے
تو ماتحت چھٹی سے پہلے ہی بھاگے
کہ تھے صبح دم نو بجے کے وہ جاگے
سو دفتر کا دفتر ہی ٹھپ ہو گیا ہے
ہر اک شخص کو ورلڈ کپ ہو گیا ہے

جو گاہک نے پوچھا ٹماٹر کا بھاؤ
تو بوڑھا پکارا ارے جاؤ جاؤ!
ابھی ایک دو روز کچھ مت پکاؤ
کہ سبزی کو بھی ورلڈ کپ ہو گیا ہے

جو ٹیچر نے پوچھا کہاں پر ہے یکہ
تو شاگرد بولا کہ چھکے پہ چھکا
نہ یوں مفت میں آپ ہوں ہکا بکا
پڑھائی کا اوور بھی اپ ہو گیا ہے
ہر اک شخص کو ورلڈ کپ ہو گیا ہے

اتوار، 6 فروری، 2011

کوشش: خواہش کی شدت کو ناپنے کا ایک پیمانہ

دو چار دن پہلے کی بات ہے۔ چھوٹا بھائی فیس بک چلا کر بیٹھا تھا اور میں بھی کمپیوٹر کے فارغ ہونے کے انتظار میں پاس ہی کھڑا تھا۔ اچانک ایک گروپ کے نام پر نظر پڑی۔
We want change for Pakistan
دیکھتے ہی اگلا جملہ جو میرے ذہن میں آیا، وہ یہ تھا۔
But we won’t change for Pakistan.
اور بے اختیار ہنسی آ گئی۔ کہنے کو تو یہ محض ایک اتفاق تھا لیکن مجھے بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر گیا۔
اگر غور کیا جائے تو یہ جملہ انقلاب انقلاب کے خالی خولی نعرے لگانے والوں کی حقیقی عکاسی کرتا ہے۔ بظاہر تو یہ اور اس جیسے درجنوں گروپس تبدیلی کی خواہش کا اظہار کرتے ہیں لیکن لگتا نہیں کہ ان لوگوں میں واقعی تبدیلی کی خواہش موجود ہے۔ یا کم از کم اتنی شدید خواہش نہیں جس کا یہ اظہار کرتے ہیں۔
کیونکہ جس شخص میں اتنی شدید خواہش ہو، وہ اس خواہش کو پورا کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرتا ہے۔ کسی رکاوٹ یا مشکل کی پروا نہیں کرتا۔ اس کے لیے کسی بہانے کی کوئی حیثیت نہیں رہ جاتی۔ اس کے لیے منزل کی طرف جانے والا ہر قدم اہم ہوتا ہے چاہے چھوٹا ہو یا بڑا۔ وہ یہ نہیں کہتا کہ “چھوٹے قدم سے کیا ہوگا؟ میں تو صرف بڑے بڑے قدم ہی اٹھاؤں گا۔” گرے تو دوبارہ اٹھتا ہے۔ پھر سے قدم بڑھاتا ہے۔ ایسا نہیں کہتا کہ “سارا سسٹم ہی خراب ہے۔ یہاں کیسے تبدیلی آئے گی!” وہ جانتا ہے کہ سسٹم خراب ہے تبھی تو اس میں تبدیلی ناگزیر ہے۔ وہ کسی کا انتظار بھی نہیں کرتا کہ وہ آ کر سب ٹھیک کرے گا۔ اس کے دل میں جو شدید خواہش ہوتی ہے، وہ اسے انتظار کرنے ہی نہیں دیتی۔
ایسا شخص نعرے نہیں لگایا کرتا۔ اس کے پاس لمبی چوڑی تقاریر کے لیے وقت نہیں ہوتا۔ وہ فیس بک پر ایسے گروپ بنا کر فضول بحث میں الجھے رہنے کو وقت کا ضیاع سمجھتا ہے۔ جہاں سے جتنا بھی وقت ملتا ہے، اسے منزل کی طرف ایک اور قدم بڑھانے میں استعمال کرتا ہے۔
ایسے گروپس وغیرہ میں الجھے رہنے والوں سے گزارش ہے کہ کچھ دیر کو اپنا تجزیہ کریں اور خود سے پوچھیں کہ کیا واقعی ان کے دل میں تبدیلی کے لیے اتنی خواہش ہے جس کا وہ دعویٰ کرتے ہیں؟
میں یہ نہیں کہتا کہ ان گروپس کا سرے سے کوئی فائدہ ہی نہیں ہے۔ فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ وہ یوں کہ ان پر خالی خولی اشعار، ویڈیوز اور تقاریر پوسٹ کرنے کے بجائے عملی کاموں کی منصوبہ بندی کے لیے ان کا استعمال کیا جائے۔ کل میں یہ ویب سائٹ دیکھ رہا تھا جہاں طلبائے علم اپنے لیے کوئی مشن چنتے ہیں اور پھر اس کام کو ریکارڈ کر کے دوسروں کے لیے پیش کرتے ہیں۔
اس طرح کا کوئی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ یا کوئی ایسا مفید کام جس میں ایک سے زائد لوگوں کی ضرورت پڑتی ہو، اس کے لیے لوگوں کو منظم کرنے کا کام لیا جا سکتا ہے۔
اصل نکتہ یہ ہے کہ باتیں کم، اور کام زیادہ کیا جائے۔ اور ٹیکنالوجی کو صرف وقت گزاری کے بجائے کسی مفید کام کے لیے استعمال کیا جائے۔ تبھی تبدیلی آ سکتی ہے۔ ورنہ صرف تبدیلی کی خواہش کا اظہار کرتے رہنا اور اسے پورا کرنے کے لیے چھوٹا سا قدم بھی نہ اٹھانا تو اس بات کی علامت ہے کہ یا آپ میں تبدیلی کی خواہش ہے ہی نہیں، یا پھر اتنی کمزور ہے کہ تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے۔ یعنی آپ جھوٹ بول رہے ہیں اور نہ صرف دوسروں کے ساتھ، بلکہ شاید خود اپنے ساتھ بھی دھوکہ کر رہے ہیں۔