با وثوق ذرائع سے علم ہوا ہے کہ کچھ بلاگر احباب چھوٹی موٹی مراعات کے بدلے فیسبک کے ہاتھ بک گئے ہیں۔ یہ غدار بلاگران اب طویل و عریض تحاریر لکھ کر اپنے بلاگ پر شائع کرنے کے بجائے بلاگ کا حق مارتے ہوئے فیسبک کے اندھے کنویں میں پھینک دیتے ہیں۔ جس کے سبب اب ان کے بلاگز کچھ ایسے نظر آنے لگے ہیں۔
![]() |
یاسر خوامخواہ جاپانی کا بلاگ |
![]() |
محمد سلیم صاحب کا بلاگ |
میں "غیر فیسبکی بلاگرز سوسائٹی" کے پلیٹ فارم سے اس غدارانہ طرزِ عمل کی شدید مذمت کرتا ہوں اور غداری کرنے والے بلاگروں سے مطالبہ کرتا ہوں کہ اپنی یہ عادت سدھار کر اپنی تحاریر اپنے بلاگوں پر لگانا شروع کر دیں۔
بصورت دیگر ہماری طرف سے اعلانِ جنگ سمجھا جائے۔ اگر آپ اپنی تحریر اپنے بلاگ پر نہیں لگانا چاہتے تو ایسے کئی "رضاکار" دستیاب ہیں جو آپ کی تحاریر بخوشی اپنے بلاگوں پر شائع کر دیں گے۔
میں فیسبک استعمال کرنے والے اپنے بلاگر احباب سے بھی پرزور اپیل کرتا ہوں کہ اس "مقدس مشن" میں ہمارا ساتھ دیں۔ آپ ہمارا ساتھ ایسی تمام پوسٹس پر احتجاج اور دھرنوں کے ذریعے بھی دے سکتے ہیں اور اگر چاہیں تو ایک قدم آگے بڑھ کر ان تحاریر کو ہائی جیک کرتے ہوئے اپنے بلاگوں پر بھی لگا سکتے ہیں (اصل لکھاری کے حوالے کے ساتھ)۔
اعلان ختم ہوا۔
ہاہاہاہا
جواب دیںحذف کریںکوئی ہم جیسے اندھا دھند لکھنے والوں کے لیے سزا؟؟
آپ ایک اور کتاب لکھ ڈالیں۔ :)
حذف کریںیس یور آنر۔ میں یہ فرد جرم قبول کرتا ہوں، اور عہد کرتا ہوں کہ آئندہ کوشش کرونگا کہ یہ جرم نا دہراؤں۔
جواب دیںحذف کریںمبارک ہو! سلیم صاحب مان گئے! :D
حذف کریں"احقر" بھی اسی فوبیا کا شکار ہے۔ اس کا کوئی تسلی بخش حل سوچنا چاہیے جملہ بلاگڑان و بلونگڑان کو !
جواب دیںحذف کریںلوبیا کھائیں، فوبیا کو دور بھگائیں!
حذف کریںمیں نے تو یہ پہلے ہی یہ رسم جاری کر رکھی ہے کہ دو پیرے یا زیادہ کی تحریر کو بلاگ اور فیس بک دونوں پر شائع کر دیتا ہوں ۔
جواب دیںحذف کریںاور مائکرو بلاگنگ کو ، کٹ پیس کے نام سے جب کبھی جی جاہے بلاگ کی ایک پوسٹ بنا کر جاری کر دیتا ہوں ۔
کیونکہ میں جانتا ہوں کہ اصل جگہ بلاگ ہی ہے ، فیس بک تو پانی کا بلبلہ ہے جی پانی کا بلبلہ ۔
یہ بات چاچا خوامخواہ کو بھی سمجھائیں نا۔ آپ تو بوقت ضرورت ان کے گھر کے باہر پہنچ کر دھرنا بھی دے سکتے ہیں۔
حذف کریںیار ۔۔۔۔۔۔۔۔۔فیس بک تو میری نوٹ بک ہے، میں بڑا بلاگر بننے کیلے اس میں مشق کیلئے لکھتا ہوں۔۔جب میں بڑا لکھاری بن جاؤں گانا ، پھر دیکھنا ورلڈ ریکارڈ ہلڈر بلاگ لکھا کروں گا :D
جواب دیںحذف کریںاور تب تک آپ کی پوسٹیں میں اپنے بلاگ پر دھڑا دھڑ شائع کرتا روں گا۔
حذف کریںگو نواز شریف گو۔ فیر
بڑے لکھاریوں کی نوٹ بک بھی بہت قیمتی ہوا کرتی ہے۔ اردو کی درسی کتاب میں چاچا غالب کے ذاتی خطوط "خوامخواہ" تو نہیں ڈالے جاتے۔
حذف کریںراجہ صاحب زندہ باد! بس غداروں کی پوسٹیں اپنے بلاگوں پر پوسٹتے جائیں، جب تک یہ اپنی غداری سے توبہ نہیں کر لیتے۔
کون لائے گا انقلاب؟ راجہ صاحب! راجہ صاحب!
ہم بھی متفق ہیں ڈاکٹر صیب کے ساتھ۔
جواب دیںحذف کریںوزیر خارجہ صاحب آپکی یہ کاوش اچھی اور قابل تعریف ہے۔
جواب دیںحذف کریںاسی طرح کا ایک پلان تبصروں کے بارے میں بھی ہوجائے،تو کیا اچھا ہے۔
تبصروں کے مسئلے کو آپریشن واجب البلاگ کے آئندہ مراحل میں نمٹایا جائے گا۔
حذف کریںبہت خوب ۔ ۔۔ سلیم بھائی نے تو جرم قبول کیا ۔ ۔ ۔
جواب دیںحذف کریںمگر یاسر صاحب ۔ ۔ تو ۔ ۔ ۔ ۔
انتظار کرنا ہوگا ۔ ۔
میری طرف سے بھی یہی گلہ ۔۔۔۔۔۔خواہ مخواہ کا ہی سہی ۔۔
جواب دیںحذف کریںیار سعد کہا آوروں کو ہے لیکن شرم مجھے آرہی ہے قسمے
جواب دیںحذف کریںاس کا مطلب کہ بات آپ کے دل کو لگی ہے۔ اپنی عادت سدھارنے کا یہ موقع ضائع نہ کریں۔ ;)
حذف کریں