بدھ، 1 اکتوبر، 2014

آپریشن واجب البلاگ

با وثوق ذرائع سے علم ہوا ہے کہ کچھ بلاگر احباب چھوٹی موٹی مراعات کے بدلے فیسبک کے ہاتھ بک گئے ہیں۔ یہ غدار بلاگران اب طویل و عریض تحاریر لکھ کر اپنے بلاگ پر شائع کرنے کے بجائے بلاگ کا حق مارتے ہوئے فیسبک کے اندھے کنویں میں پھینک دیتے ہیں۔ جس کے سبب اب ان کے بلاگز کچھ ایسے نظر آنے لگے ہیں۔
یاسر خوامخواہ جاپانی کا بلاگ
محمد سلیم صاحب کا بلاگ
میں "غیر فیسبکی بلاگرز سوسائٹی" کے پلیٹ فارم سے اس غدارانہ طرزِ عمل کی شدید مذمت کرتا ہوں اور غداری کرنے والے بلاگروں سے مطالبہ کرتا ہوں کہ اپنی یہ عادت سدھار کر اپنی تحاریر اپنے بلاگوں پر لگانا شروع کر دیں۔
بصورت دیگر ہماری طرف سے اعلانِ جنگ سمجھا جائے۔ اگر آپ اپنی تحریر اپنے بلاگ پر نہیں لگانا چاہتے تو ایسے کئی "رضاکار" دستیاب ہیں جو آپ کی تحاریر بخوشی اپنے بلاگوں پر شائع کر دیں گے۔
میں فیسبک استعمال کرنے والے اپنے بلاگر احباب سے بھی پرزور اپیل کرتا ہوں کہ اس "مقدس مشن" میں ہمارا ساتھ دیں۔ آپ ہمارا ساتھ ایسی تمام پوسٹس پر احتجاج اور دھرنوں کے ذریعے بھی دے سکتے ہیں اور اگر چاہیں تو ایک قدم آگے بڑھ کر ان تحاریر کو ہائی جیک کرتے ہوئے اپنے بلاگوں پر بھی لگا سکتے ہیں (اصل لکھاری کے حوالے کے ساتھ)۔
اعلان ختم ہوا۔

جمعرات، 4 ستمبر، 2014

آؤ مل کر قدرت کے راز کھوجیں!

کیا آپ نے کبھی آرٹسٹوں کو دیکھا ہے؟ ایسی ایسی چیزوں میں خوبصورتی ڈھونڈ نکالتے ہیں کہ انسان دنگ رہ جاتا ہے۔ کسی بھی آرٹسٹ کے ساتھ کچھ وقت گزارنے پر آپ کو محسوس ہوگا کہ یہ لوگ اس حسن کو صرف خود ہی محسوس کر کے مطمئن نہیں رہ پاتے بلکہ وہ اسے سب کے ساتھ بانٹنا چاہتے ہیں۔ ان کی یہی کاوش فن پاروں کی تشکیل کا باعث بنتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ  آج ہمارے پاس وان گوف کی تصاویر سے لے کر جوہان باخ کی دھنیں تک موجود ہیں۔
 ایک سائنس دان بھی کسی  آرٹسٹ سے زیادہ مختلف نہیں ہوتا۔ اس کو بھی قدرت کے مظاہر میں، اس کے رازوں میں، جمال و رعنائی نظر آتی ہے۔ ان رازوں کو کھوجنا اس کے لیے ایک دلچسپ کھیل ہوتا ہے،کیونکہ  رازوں کے اس پار مزید رعنائیاں اس کی منتظر ہوتی ہیں۔ پھر اپنی فطرت سے مجبور ہو کر وہ ان رعنائیوں کو سب کے ساتھ بانٹنا چاہتا ہے۔ اس طرح کتابیں اور تحقیقی مقالے وجود میں آتے ہیں۔ پھر وہ مزید ایسے لوگوں کی تلاش کرتا ہے جو اس منفرد خوبصورتی کی طرف، اسی کی طرح مائل ہوتے ہوں۔ چنانچہ سائنسی انجمنیں اور فورمز وجود میں آتے ہیں۔ 
تجسس سائنس فورم بھی اسی طرح کی ایک کوشش ہے۔ یہ ان لوگوں کے لیے ایک اجتماع گاہ ہے جو قدرت کی خوبصورتی کی قدر کرتے ہیں اور اس کے رازوں کو کھوجنے میں لطف اٹھاتے ہیں۔ 
یوں تو ایسی اجتماع گاہیں اور بھی کئی موجود ہیں لیکن وہاں زبان کی رکاوٹ آڑے آ جایا کرتی ہے۔ جس طرح غالب کی شاعری ہم میں سے اکثر کو انگریزی میں لطف نہیں دے پاتی، اسی طرح سائنس کا ایک اجنبی زبان میں مطالعہ بھی ہمارے لیے قدرت کے حسن کو حقیقتاً قریب سے سمجھنے میں حائل ہو جاتا ہے۔ جب آپ کسی چیز کی خوبصورتی کو ہی نہ سمجھ پائیں تو اس کی جستجو میں ستاروں سے آگے نکلنے کی خواہش کیسے پیدا کر پائیں گے، بے شک اس میں آپ کو معاشی فائدہ یا وہ سب نظر آ رہا ہو جیسا کہ سائنس کی افادیت کے متعلق کسی روایتی مضمون میں آپ کو بتایا جاتا ہے۔ یہ بھی ایک وجہ ہے کہ ہمیں اردو زبان میں سائنسی گفتگو کے لیے ایک مخصوص اجتماع گاہ بنانے کی ضرورت محسوس ہوئی۔ 
تو آئیے! ہم آپ کو دعوت دیتے ہیں کہ تجسس سائنس فورم کے رکن بنیں اور قدرت کی خوبصورتی کو جاننے اور اس کے راز کھوجنے کے اس عمل میں ہمارے ساتھ شریک ہوں۔ کہیے، کیا خیال ہے؟

ہفتہ، 1 مارچ، 2014

نا-مساعد

یاد نہیں کہ کتنے سال قبل کا واقعہ ہے۔ معمول کے ایک راستے سے گزرتے ہوئے وہاں دو عدد نئے کھمبے گڑے نظر آئے۔ معلوم ہوا کہ وہاں ایک نیا ٹرانسفارمر نصب ہونے لگا ہے۔ چونکہ ہمارے شہر میں بجلی کی ترسیل کے کمزور نظام کے باعث ٹرانسفارمر میں آتش بازیاں ہونا معمول کی بات ہوا کرتی ہے، تو جس کے گھر یا دکان کے سامنے کی جگہ چنی گئی، اس نے پورا زور لگا دیا کہ وہاں یہ "دھماکہ خیز مواد" نصب نہ ہو پائے۔ جب ٹرانسفارمر کو کہیں اور جگہ نہ مل سکی تو ایک ہی آپشن باقی رہ گیا۔ وہ تھا وہاں موجود ایک چھوٹے سے کوچے کا داخلی راستہ۔ چنانچہ کھمبے گاڑ کر کام شروع کر دیا گیا۔ میں وہاں سے گزرتے ہوئے اکثر سوچا کرتا تھا کہ اس چھوٹی سی گلی کے مکینوں کو اس کی وجہ سے کتنی تکلیف ہوا کرتی ہوگی، کبھی کوئی بڑا سامان یہاں سے گزارنا پڑے تو وہ کیا کرتے ہوں گے، بارش میں کتنا پھونک پھونک کر قدم رکھتے ہوں گے، وغیرہ وغیرہ۔۔
کچھ دن قبل دوبارہ وہاں سے گزر ہوا تو ایک نیا منظر میرے سامنے تھا۔ چند من چلوں نے اس ٹرانسفارمر کو ہی ٹرانسفارم کر کے رکھ دیا تھا۔
عرصہ دراز پہلے ایک لطیفہ پڑھا تھا کہ نا ممکن کو ممکن کیسے بنایا جائے؟ جواب تھا، نا ممکن کا "نا" ہٹا کر۔
اس منظر کو دیکھ کر بھی محسوس ہوا کہ گلی کے چند افراد نے اپنی نا مساعد صورت حال کا "نا" ہٹا کر اسے اپنے لیے مساعد بنا لیا ہے۔ وہی راستہ جسے دیکھ کر میرے ذہن میں پہلا تاثر گلی کے مکینوں کی تکلیف کا آتا تھا، اب وہاں ایک خوبصورت دروازہ کسی تقریب کے مہمانوں کا استقبال کرنے کے لیے کھڑا تھا۔
جہاں ایک طرف میں اس راستے کے مسائل پر اپنی تمام تر توجہ مرکوز کیے ہوئے تھا، وہیں چند افراد کی نگاہوں نے اس میں ایک نیا موقع دیکھا، اور اسے اپنے فائدے کے لیے استعمال کیا۔ ایسا نہیں تھا کہ اس طرح اس راستے کے ساتھ منسلک تمام مسائل غائب ہو گئے۔ لیکن اگر وہ بھی اپنی تمام تر توجہ اس کے سبب ہونے والی تکلیف پر ہی مرکوز رکھتے، تو مجھے نہیں لگتا کہ ہمیں ایسا منظر دیکھنے کو ملتا۔
مجھے لگا کہ اس واقعے میں میرے لیے بھی ایک سبق ہے۔ جس طرح چند من چلوں نے اپنے تمام مسائل میں گھرے رہتے ہوئے بھی ایک نیا موقع ڈھونڈ نکالا، اسی طرح ہمیں بھی زندگی میں کئی مواقع ملتے ہیں جنہیں ہم ڈھونڈ سکتے ہیں اگر اپنی تمام تر توجہ مسائل و تکالیف پر مرکوز نہ رکھیں۔ جس طرح انہوں نے نا مساعد کا صرف نا نکال کر اسے مساعد میں بدلا، اسی طرح ہم بھی اپنی زندگی میں بظاہر نا مساعد نظر آنے والی کئی صورتوں کو محض نا نکال کر مساعد میں بدل سکتے ہیں۔ نہ جانے ایسے کتنے مواقع کو میں صرف اپنی توجہ منفی سمت میں مرکوز کرنے کے سبب ضائع کر چکا ہوں گا۔ امید کرتا ہوں کہ اس یاد دہانی کے بعد میری زندگی میں ایسے مواقع کے ضیاع میں کمی آئے گی۔

منگل، 21 جنوری، 2014

سائنسی مواد اردو میں۔ ہاں یا نہیں۔ ایک دھندلا سا نقشہ

اردو زبان میں سائنسی مواد پر جب بات ہو تو دو اہم نکات اکثر سامنے آتے ہیں۔ ایک طرف کسی کا یہ کہنا ہوتا ہے کہ سائنسی مواد کی مقامی زبانوں میں موجودگی اسے عام فہم بنانے کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ دوسری جانب کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ جس سطح پر ہم ہیں، اس حالت میں لوگوں کو اردو میں سائنس پڑھانا انہیں محدود کرنے کے برابر ہے۔ کہ جس سطح پر پہنچ کر انہیں آگے کسی اور زبان کو اختیار کرنے کی ضرورت پڑی، وہاں سے ان کی مشکلات شروع جائیں گی اور آگے بڑھنا انتہائی مشکل ہو جائے گا۔ ان کے مطابق شروع سے دیگر زبانوں میں انہیں تربیت دینے سے وہ زیادہ بلند سطح پر موجود مواد، جو کہ صرف غیر زبان میں ہی دستیاب ہوگا، سے بہتر استفادہ کر سکیں گے۔ وزن دونوں ہی باتوں میں ہے۔ پہلا گروہ جب اپنی زبان میں تعلیم دینے والی ترقی یافتہ قوموں کی جانب اشارہ کرتا ہے تو دوسرے گروہ والے اس حقیقت کی طرف توجہ دلاتے ہیں کہ وہ ممالک اس معاملے میں پہلے ہی سے کافی مستحکم بنیادیں رکھتے ہیں۔
تو کیا اس کا مطلب یہ ہوا کہ اردو میں سائنسی تدریس کی کوششوں کو ترک کر دیا جائے؟
میری رائے میں ایسا نہیں۔
موجودہ صورت حال بھی قابلِ قبول تو نہیں۔ اور تبدیلی لانے کے لیے کچھ نہ کچھ تو ہاتھ پیر چلانے ہی پڑیں گے۔
لیکن جو لوگ فوری طور پر اردو میں سائنس کی تدریس رائج کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں، انہیں بھی اس دلیل کو مد نظر رکھنا ہوگا جس کا ذکر اوپر گزرا۔
تو پھر حل کیا ہے؟
یہ تو عام مشاہدہ ہے کہ پائیدار نوعیت کی بڑی تبدیلی ہمیشہ آہستہ آہستہ ہی آتی ہے۔
میرے خیال میں بہتر طریقہ یہ ہوگا کہ فی الحال رسمی سائنسی تدریس کو اسی طرح انگریزی میں چلنے دیا جائے لیکن ساتھ ساتھ اردو میں مواد کی دستیابی کی کوششیں بھی جاری رکھی جائیں۔ آج اگر میں کچھ بنیادی نوعیت کا مواد اردو میں دستیاب کر دیتا ہوں تو کل کو اگر کوئی اور آ کر اس پر کام کرنا چاہے گا تو آسانی سے اس کے اوپر تھوڑی اور عمارت کھڑی کر دے گا۔ اسی طرح پھر کوئی اور آ کر کچھ اور اینٹیں لگا دے گا۔ یوں ہوتے ہوتے، اگر اللہ نے چاہا تو، ایک دن ایسا آ ہی جائے گا کہ جب ہمارے پاس بنیادی سے لے کر اعلیٰ تعلیم تک کے لیے اردو میں مواد دستیاب ہو۔ بھلے ہی وہ وقت سو سال بعد آئے لیکن اگر چل پڑیں گے تو آہستہ آہستہ ہی سہی، سفر کٹ ضرور جائے گا۔ اور پھر اگلے مرحلے میں دیگر مقامی زبانوں میں یہ سب کام کرنا زیادہ آسان ہو جائے گا۔ اور تب ہم بھی، ان شاء اللہ، اس مقام پر پہنچ جائیں گے کہ جہاں پہنچ کر ہمارے لیے اپنی زبانوں میں سائنس کی تدریس کوئی مسئلہ ہی نہیں رہے گی۔
لیکن ایک بات کا خیال رہے! صرف مواد ہی دستیاب کرنا کافی نہیں ہوگا۔ خود تحقیق کی عادت بھی ڈالنی ہوگی۔ اس تبدیلی کو دیر پا بنانے کے لیے اس سب کے ساتھ ساتھ خود انحصاریت کی طرف بھی بڑھنا ہوگا۔ دوسروں کا جھوٹا استعمال کرنے کی عادت سے جان چھڑانی ہوگی۔
یعنی کہ بیک وقت دو جہتوں میں بڑھنا ہوگا۔ مواد کی دستیابی بھی اور تحقیق بھی۔
اس کے متوازی فی الوقت تو اپنا تدریسی نظام انگریزی میں چلانا پڑے گا۔ لیکن مجھے قوی امید ہے کہ یہ سفر قدم بہ قدم آگے بڑھتا رہا تو ایک دن ہم اس قابل ضرور ہو جائیں گے کہ انگریزی کی انحصاریت سے بہ آسانی جان چھڑا سکیں۔

بدھ، 25 دسمبر، 2013

ہماری منطق، یہ پیاری منطق

کل چھت پر دھوپ سینکتے ہوئے مطالعہ کر رہا تھا کہ پاس کھڑے کچھ لڑکوں کی گفتگو کی طرف توجہ گئی جو کہ پرسوں طالبات کی جانب سے کی جانے والی ہڑتال پر اپنی ماہرانہ رائے کا تبادلہ کر رہے تھے۔ یوں تو ہڑتال کی وجہ بننے والے مسائل اور بھی تھے لیکن میں نے ہر طرف لوگوں کو صرف ایک ہی نکتہ پکڑ کر اس کی حمایت کرتے پایا جو کہ تھا پانچ بجے کے بعد ہاسٹل سے باہر نکلنے پر پابندی والا۔ شاید یہ "اسلامی" کہلوانے کے شوقینوں کا پسندیدہ نکتہ تھا، اس لیے۔ یہاں بھی وہی صورت حال تھی۔ فرمانے لگے کہ لڑکیوں کو پانچ بجے کے بعد باہر جانے کی ضرورت ہی کیا ہے؟ کون سے کام کرنے ہوتے ہیں انہوں نے؟ میں خاموشی سے سنتا رہا کیونکہ مجھے اپنا سکون سے مطالعہ کرنا زیادہ عزیز تھا۔ ابھی کچھ ہی دیر گزری تھی کہ ان کی گفتگو کا رخ کل چہلم پر لاگو ہونے والی موبائل فون بندش کی جانب مڑ گیا۔ اچانک کہنے لگے کہ پابندی تو مسئلے کا حل نہیں ہے۔ ہیں جی؟ کیا کہا؟ پابندیاں مسائل کا حل نہیں؟ لیکن کچھ دیر پہلے تو آپ حضرات کچھ اور ہی فرما رہے تھے۔ یہ اچانک یوٹرن میرے سادہ سے دماغ کے لیے اتنا پیچیدہ معمہ تھا کہ اس کے بعد آدھا گھنٹہ میں اسی کو سمجھنے کی کوشش کرتا رہا کہ یہ کیا کہہ کر گئے ہیں، اور ایسی کون سی منطق ہوتی ہے کہ جس کے تحت دوسروں کے معاملے میں ہر قسم کے مسئلے کا حل ایک نئی پابندی ہو جبکہ اپنے معاملے میں پابندی کسی بھی مسئلے کا حل نہ ہو۔ کہیں یہ وہی منطق تو نہیں جسے منافقت کہتے ہیں؟ o_O

ہفتہ، 9 نومبر، 2013

کوئک ریبوٹ

آپ کی خواہش ہوتی ہے سب سے اوپر جانے کی۔ دنیا کا بہترین اور عظیم ترین انسان بننے کی۔ اس کے لیے آپ خود پر کئی جبر کرتے ہیں۔ اپنی چھوٹی بڑی خواہشات کا گلا گھونٹتے ہیں۔ کئی طرح کی تکالیف خوشی خوشی اٹھا لیتے ہیں۔ آپ خوش ہوتے ہیں کہ یہ تمام سختی برداشت کرنا آپ کو اپنی منزل کے قریب تر کر رہا ہے۔
لیکن یہ سلسلہ ہمیشہ ایسا ہی تو نہیں چل سکتا۔ کبھی کبھار پچھتاوا آپ کو ہر طرف سے گھیرنے لگتا ہے۔ خود کو محروم رکھنے کا پچھتاوا۔ خود کو تکلیف میں ڈالنے کا پچھتاوا۔ اتنا زیادہ بوجھ اٹھانے کا پچھتاوا۔ آپ خود سے سوال کرنے لگتے ہیں کہ آخر اس سب کا فائدہ کیا ہے؟ ایک ہدف جو نہ جانے حاصل ہو بھی سکتا ہے یا نہیں، کیا اس قابل ہے کہ اس کے لیے اپنی جھولی کو کنکروں سے بھر لیا جائے؟ آپ کو افسوس ہونے لگتا ہے بہت کچھ کھو دینے کا۔۔۔ ان چھوٹی چھوٹی خوشیوں کا جنہیں آپ کبھی محسوس نہ کر پائے۔ ان ہنستے مسکراتے لمحات کا جو آپ کو چھوئے بغیر گزر گئے۔ اس وقت کا جو آپ دوسروں کی طرح زندگی کا مزا لیتے گزار سکتے تھے لیکن آپ نے کھو دیا۔
لیکن کیا کیا جائے۔ جو سودا کیا تھا، اس کی قیمت تو ادا کرنی ہی پڑے گی۔ چنانچہ آپ خود کو تسلی دیتے ہیں۔ یہ سوچتے ہوئے کہ ایک عام زندگی تو بہت سے لوگ گزار کر چلے جاتے ہیں۔ مزا تو تب آئے جب اپنی زندگی کو خاص بنایا جائے۔ کوئی شمع جلائی جائے، کوئی خوشیاں بکھیری جائیں، کوئی اچھا فرق پیدا کیا جائے۔ اب ایسی خاص زندگی مفت میں تو حاصل ہونے سے رہی۔
چنانچہ اپنے مزاج کو "ریبوٹ" کر کے آپ ایک بار پھر سے اپنی زندگی کو خاص بنانے کے سفر پر چل پڑتے ہیں، ایک بھاری قیمت چکانے کے لیے خود کو تیار کرتے ہوئے۔۔۔

ہفتہ، 5 اکتوبر، 2013

الٹی منطقِ مقابلہ

ذرا سوچیے کہ ایک جگہ دو فریقوں میں کسی بھی نوعیت کا مقابلہ ہے۔ چاہے وہ مارکیٹ ہو یا جنگ کا میدان۔ ان میں سے ایک فریق مسلسل اپنی صلاحیت کو بڑھاتا رہتا ہے۔ جبکہ دوسرا فریق اس کے جواب میں اپنی صلاحیت مزید گھٹاتا رہتا ہے۔ ان دونوں میں سے کس کی جیت کا امکان زیادہ ہوگا؟
آپ بھی پوچھیں گے کہ یہ کیا احمقانہ سوال پوچھ رہا ہے۔ بھلا اس بات کی بھی کوئی تک بنتی ہے کہ کوئی بندہ اپنے حریف کے مقابلے میں اپنی صلاحیت کو بڑھانے کے بجائے گھٹائے؟ لیکن افسوس کہ یہی احمقانہ سوچ آج کل ہمارے معاشرے پر حاوی ہے۔ خواہ وہ ہمارے کاروباری لوگ ہوں، مذہبی طبقے کے بعض عناصر ہوں یا حکومتی سیکیورٹی ادارے۔ کسی کو یہ فکر ہے کہ ملٹی نیشنل کمپنیاں ملک کی مارکیٹ پر حاوی ہیں تو چلو ان پر ہی پابندی لگا دینی چاہیے (بجائے اس کے کہ مقامی صنعت کو بہتر بنانے پر توجہ دی جائے)۔ کسی کو یہ ٹینشن ہے کہ انٹرنیٹ پر کفر و الحاد کا غلبہ ہے تو چلو بجائے اس کا مقابلہ کرنے کے انٹرنیٹ کو ہی شیطانی چرخہ قرار دے دو۔ اور کسی کی یہ سوچ ہے کہ چونکہ کوئی بھی مواصلاتی نظام دہشت گرد بھی استعمال کر سکتے ہیں تو بنیادی ٹیلیفونی کے علاوہ فوری مواصلات کے تمام ذرائع ہی بند کر دو (بجائے اپنی انٹیلیجنس کا نظام بہتر بنانے کے)۔
ان تمام مثالوں میں یہ رویہ بالکل واضح ہے۔
جن کا کام اپنی صنعت کو بہتر بنانا ہے، وہ اپنی صنعت کو کمزور رکھتے ہوئے ہی ایک طاقت ور حریف کو باہر نکالنا چاہتے ہیں۔ بہتر مصنوعات کے ذریعے گاہک کے دل میں جگہ بنانے کے بجائے وہی گھٹیا چیز اسے زبردستی بیچنا چاہتے ہیں۔
جن کا کام دنیا کے کونے کونے میں دین کا پیغام پہنچانا ہے، وہ اپنا دائرہ محدود کر کے سوچتے ہیں کہ شاید اس طرح کفر و الحاد کا غلبہ کم ہو جائے گا۔ ان کا حریف گھر گھر تک اپنے نظریات کی رسائی پر کام کر رہا ہے جبکہ وہ چاہتے ہیں کہ لوگ ان تک خود چل کر آئیں۔
جن کا کام ملک کی اور ملک کے لوگوں کی حفاظت کرنا ہے، وہ خود آرام سے بیٹھے ہیں جبکہ ان کے حریف مسلسل اپنی استعداد کار میں اضافہ کرتے جا رہے ہیں۔ بجائے اس کے کہ حریف کے مقابلے میں اپنا نظام بہتر بنایا جائے اور اپنی صلاحیت بڑھائی جائے، یہ صرف مواصلاتی نظام بند کر دیتے ہیں جس سے ان کو تو تکلیف ہوتی ہی ہے جن کی حفاظت کے یہ ذمہ دار ہیں، ساتھ ساتھ ان کی اپنی استعداد کار بھی مزید کم ہو جاتی ہے۔ اگر یہی سلسلہ چلتا رہا تو کوئی بعید نہیں کہ ایک دن ہم سب اپنے گھروں تک ہی محدود ہو جائیں اور کرفیو ہر شہر میں روز کا معمول بن جائیں۔
یہ صرف تین مثالیں ہیں۔ اس کے علاوہ بھی اگر آپ غور کریں تو یہ رویہ جا بجا نظر آئے گا۔ ایسے سکول جہاں کمپیوٹر کو کینسر سمجھا جاتا ہے، ایسے والدین جو اپنی اولاد کو باہر کے ماحول کے مقابلے کے قابل بنانے کے بجائے ان کا باہر نکلنا ہی بند کر دیتے ہیں، ایسے دفاتر جہاں کے نیٹ ورکس پر بنیادی ضرورت کی چیزیں بھی بند کر دی جاتی ہیں، غرض اکثر جگہ صاحبِ اختیار شخص کو ہر مسئلے کا حل ایک نئی پابندی کی صورت میں نظر آتا ہے۔ یہ پابندیاں مختصر مدتی پیمانے پر تو شاید تھوڑا بہت فائدہ پہنچانے کا تاثر دیتی ہوں، لیکن طویل مدتی پیمانے پر بے جا پابندیوں کا استعمال نہ صرف غیر مفید، بلکہ اکثر معاملات میں انتہائی نقصان دہ بھی ہوتا ہے۔ اور ویسے بھی، اگر اتنے بڑے ہو کر اور اتنے اختیارات والی جگہ پہنچ کر بھی کسی کو ذمہ داری اٹھانا نہیں آتا، تو اسے یا تو "بڑا ہو جانا" چاہیے، یا پھر وہ ذمہ داری ہی کسی ایسے شخص کے حوالے کر دینی چاہیے جو اس کام کے لیے زیادہ اہل ہو۔