اتوار، 6 فروری، 2011

کوشش: خواہش کی شدت کو ناپنے کا ایک پیمانہ

دو چار دن پہلے کی بات ہے۔ چھوٹا بھائی فیس بک چلا کر بیٹھا تھا اور میں بھی کمپیوٹر کے فارغ ہونے کے انتظار میں پاس ہی کھڑا تھا۔ اچانک ایک گروپ کے نام پر نظر پڑی۔
We want change for Pakistan
دیکھتے ہی اگلا جملہ جو میرے ذہن میں آیا، وہ یہ تھا۔
But we won’t change for Pakistan.
اور بے اختیار ہنسی آ گئی۔ کہنے کو تو یہ محض ایک اتفاق تھا لیکن مجھے بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر گیا۔
اگر غور کیا جائے تو یہ جملہ انقلاب انقلاب کے خالی خولی نعرے لگانے والوں کی حقیقی عکاسی کرتا ہے۔ بظاہر تو یہ اور اس جیسے درجنوں گروپس تبدیلی کی خواہش کا اظہار کرتے ہیں لیکن لگتا نہیں کہ ان لوگوں میں واقعی تبدیلی کی خواہش موجود ہے۔ یا کم از کم اتنی شدید خواہش نہیں جس کا یہ اظہار کرتے ہیں۔
کیونکہ جس شخص میں اتنی شدید خواہش ہو، وہ اس خواہش کو پورا کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرتا ہے۔ کسی رکاوٹ یا مشکل کی پروا نہیں کرتا۔ اس کے لیے کسی بہانے کی کوئی حیثیت نہیں رہ جاتی۔ اس کے لیے منزل کی طرف جانے والا ہر قدم اہم ہوتا ہے چاہے چھوٹا ہو یا بڑا۔ وہ یہ نہیں کہتا کہ “چھوٹے قدم سے کیا ہوگا؟ میں تو صرف بڑے بڑے قدم ہی اٹھاؤں گا۔” گرے تو دوبارہ اٹھتا ہے۔ پھر سے قدم بڑھاتا ہے۔ ایسا نہیں کہتا کہ “سارا سسٹم ہی خراب ہے۔ یہاں کیسے تبدیلی آئے گی!” وہ جانتا ہے کہ سسٹم خراب ہے تبھی تو اس میں تبدیلی ناگزیر ہے۔ وہ کسی کا انتظار بھی نہیں کرتا کہ وہ آ کر سب ٹھیک کرے گا۔ اس کے دل میں جو شدید خواہش ہوتی ہے، وہ اسے انتظار کرنے ہی نہیں دیتی۔
ایسا شخص نعرے نہیں لگایا کرتا۔ اس کے پاس لمبی چوڑی تقاریر کے لیے وقت نہیں ہوتا۔ وہ فیس بک پر ایسے گروپ بنا کر فضول بحث میں الجھے رہنے کو وقت کا ضیاع سمجھتا ہے۔ جہاں سے جتنا بھی وقت ملتا ہے، اسے منزل کی طرف ایک اور قدم بڑھانے میں استعمال کرتا ہے۔
ایسے گروپس وغیرہ میں الجھے رہنے والوں سے گزارش ہے کہ کچھ دیر کو اپنا تجزیہ کریں اور خود سے پوچھیں کہ کیا واقعی ان کے دل میں تبدیلی کے لیے اتنی خواہش ہے جس کا وہ دعویٰ کرتے ہیں؟
میں یہ نہیں کہتا کہ ان گروپس کا سرے سے کوئی فائدہ ہی نہیں ہے۔ فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ وہ یوں کہ ان پر خالی خولی اشعار، ویڈیوز اور تقاریر پوسٹ کرنے کے بجائے عملی کاموں کی منصوبہ بندی کے لیے ان کا استعمال کیا جائے۔ کل میں یہ ویب سائٹ دیکھ رہا تھا جہاں طلبائے علم اپنے لیے کوئی مشن چنتے ہیں اور پھر اس کام کو ریکارڈ کر کے دوسروں کے لیے پیش کرتے ہیں۔
اس طرح کا کوئی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ یا کوئی ایسا مفید کام جس میں ایک سے زائد لوگوں کی ضرورت پڑتی ہو، اس کے لیے لوگوں کو منظم کرنے کا کام لیا جا سکتا ہے۔
اصل نکتہ یہ ہے کہ باتیں کم، اور کام زیادہ کیا جائے۔ اور ٹیکنالوجی کو صرف وقت گزاری کے بجائے کسی مفید کام کے لیے استعمال کیا جائے۔ تبھی تبدیلی آ سکتی ہے۔ ورنہ صرف تبدیلی کی خواہش کا اظہار کرتے رہنا اور اسے پورا کرنے کے لیے چھوٹا سا قدم بھی نہ اٹھانا تو اس بات کی علامت ہے کہ یا آپ میں تبدیلی کی خواہش ہے ہی نہیں، یا پھر اتنی کمزور ہے کہ تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے۔ یعنی آپ جھوٹ بول رہے ہیں اور نہ صرف دوسروں کے ساتھ، بلکہ شاید خود اپنے ساتھ بھی دھوکہ کر رہے ہیں۔

بدھ، 26 جنوری، 2011

فیسبکیوں کے نام ایک پیغام، ایک تجویز

میرے عزیز فیسبکیے دوستو! السلام علیکم۔

تم کو یاد ہوگا جب فیسبک انتظامیہ کے ڈرا محمد پیج کو ہٹانے سے انکار پر فیسبک کے بائیکاٹ کی باتیں ہو رہی تھیں تو تم میں سے کچھ نے کہا تھا کہ مسلمانوں کے فیسبک سے بالکل غائب ہونے پر ان کی نمائندگی ختم ہو جائے گی جس سے ایسی حرکات کا راستہ روکنا اور بھی مشکل ہو جائے گا۔ تب مجھے اس بات میں وزن نظر آیا چنانچہ میں اپنا کھاتہ حذف کرنے سے رک گیا۔ صرف استعمال بند کر دیا کہ بعد میں جو صورتِ حال پیدا ہوگی، اس کی مناسبت سے فیصلہ کروں گا۔

جب بائیکاٹ والی بات کو کچھ عرصہ گزر گیا تو میں نے دیکھنے کا فیصلہ کیا کہ کیا صورتِ حال ہے۔ اور مجھے یہ دیکھ کر بہت مایوسی ہوئی کہ جو لوگ "مسلمانوں کی نمائندگی" کے نام پر فیسبک پر رہ گئے تھے (اور جو صبر کا دامن چھوڑ کر واپس آ گئے تھے)، ان کی اکثریت کوئی بھی ایسا کام نہیں کر رہی تھی جس سے واقعی مسلمانوں کی نمائندگی ہو۔ بلکہ ایک بڑی تعداد تو اس کا بالکل متضاد کرتی نظر آئی۔ یہ دیکھ کر مجھے بہت مایوسی ہوئی۔ لیکن ابھی بھی میں کھاتہ مستقل طور پر حذف کرنے کے بارے میں تذبذب کا شکار تھا۔

پھر کچھ مزید دن گزرے اور میں نے یہ ویڈیو دیکھی جس میں ایک نومسلم اپنے مسلمان ہونے کا قصہ سنانے کے بعد اپنے اڑوس پڑوس میں رہنے والے مسلمانوں سے اس بات کا شکوہ کر رہا تھا کہ ان کے پاس اس کے سوال کا جواب تھا لیکن انہوں نے کبھی اسے اس کی بھنک بھی نہیں پڑنے دی۔

http://www.youtube.com/watch?v=IYMKQKSV0bY

اسے دیکھنے کے بعد مجھے خیال آیا کہ ہم لوگ سوشل نیٹورکنگ کو تبلیغ، یا کم از کم غیر مسلموں کی اسلام میں دلچسپی پیدا کرنے کے لیے تو استعمال کر سکتے ہیں۔

لیکن فی الحال میں نے جن لوگوں کو اس کام کی کوشش کرتے دیکھا ہے، ان میں اکثر کوئی خاص کامیاب ہوتے نظر نہیں آئے۔ کچھ لوگ غیر مسلموں کو خوش کرنے کے چکر میں اسلام کا حلیہ ہی توڑ مروڑ کر کچھ اس انداز میں پیش کرتے ہیں کہ ان کے لیے اس کے بارے میں مزید جاننے کی کوئی وجہ نہیں رہ جاتی۔ کچھ لوگ معذرت خواہانہ رویہ استعمال کرتے ہیں جیسے ان کا مسلمان ہونا کوئی بڑی غلطی ہو۔ جبکہ کچھ لوگ ان سے بات بات پر مناظرے شروع کر دیتے ہیں جس سے غیر مسلم دفاعی رویہ اختیار کرتے ہوئے اپنے مؤقف پر اس سختی سے جم جاتے ہیں کہ ان کی کسی بھی بات کو توجہ سے نہیں سنتے۔ ان کی یہ کوشش ہو جاتی ہے کہ کسی بھی قیمت پر مخالف کی ہر بات کو رد کیا جائے۔

میرے ذہن میں کچھ اس قسم کا نقشہ ہے۔

مثال کے طور پر جو لوگ فیس بک استعمال کرتے ہیں، ایک یا ایک سے زائد غیر مسلموں کو اپنے دوستوں میں شامل کر لیں۔  ہر ہفتہ ڈیڑھ ہفتہ بعد کوئی آیت یا کوئی حدیث ایسی چن کر اپنے سٹیٹس میں لگا دیں جس کا تعلق بنیادی اخلاق سے ہو۔ چونکہ ہم یہ ان لوگوں کو دکھانے کے لیے لگا رہے ہیں جن کو اسلام کے متعلق کچھ بھی معلوم نہیں، اس لیے بنیادی باتوں سے ابتداء کرنا ہی درست ہوگا (اور اس میں لمبی بحث چھڑنے کا خطرہ بھی کم ہوگا)۔ مثلاً جو آیات یا احادیث معاشرتی معاملات کے متعلق ہیں، خوش اخلاقی کا درس، جھوٹ سے پرہیز وغیرہ۔ میں فل ٹائم مبلغ بننے کی بات نہیں کر رہا۔ بس اپنی معمول کی سرگرمیوں کے دوران تھوڑا سا وقت ادھر لگا دیا کریں۔ اس طرح انہیں یہ بھی محسوس نہیں ہوگا کہ "اوہو! یہ تو تبلیغی پیچھے پڑ گئے"۔ :)

کبھی کبھار ایسا موقع بھی آئے گا کہ وہ کسی بات پر اعتراض کریں گے اور اسلام کے متعلق اپنی کسی غلط فہمی کی بنیاد پر کوئی اوٹ پٹانگ قسم کی بات کریں گے۔ ایسے مواقع پر معذرت خواہانہ رویے اور دین کو توڑنے مروڑنے سے الٹا نقصان ہوگا چاہے آپ یہ تبلیغ کے لیے کر رہے ہیں یا صرف مسلمانوں کے امیج کے لیے۔ اکثر اوقات جواب دینا بہت آسان ہوگا اگر آپ ٹھنڈے دماغ سے کام لیتے ہیں۔ اگر مناسب لگے تو ان کو یہ دعوت بھی دے دیا کریں کہ وہ قرآن مجید کو ایک بار پورا پڑھ کر دیکھ لیں۔ بعض مواقع پر ڈاکٹر ذاکر نائیک کی اسلام کے متعلق عام پوچھے جانے والے سوالات پر لکھی گئی کتاب بھی مفید رہے گی(یہ آپ کو irf.net پر مل جائے گی)۔ اور یاد رکھیں کہ ہمیشہ اپنا مزاج ٹھنڈا رکھیں۔ غصہ اچھے بھلے کام بگاڑ دیتا ہے۔ یہ بھی کبھی نہ بھولیں کہ یہ کام آپ اپنی ذات کے لیے نہیں بلکہ اللہ کے لیے کر رہے ہیں۔

یہ بھی یاد رکھیں کہ اسلام دنیا میں پھیلا کیسے تھا۔ بہت سے علاقوں میں اسلام، مسلمان تاجروں کی وجہ سے پھیلا تھا۔ جب وہ وہاں جاتے تو وہاں کے رنگ میں نہیں ڈھلتے تھے۔ دوسروں کی دیکھا دیکھی اپنے اخلاق کے معیارات نہیں بدلتے تھے۔ نہ مقامی لوگوں کے پاس جا کر مسلمانوں کے کچھ مخصوص گروہوں کی برائیاں کر کے کہتے تھے کہ اصل اسلام پر تو میں ہوں۔ نہ ہی اسلام کے متعلق ان کا رویہ معذرت خواہانہ ہوتا تھا۔ اپنی مرضی سے اسلام کو سیکولر یا کمیونسٹ وغیرہ نہیں بنا ڈالتے تھے بلکہ اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کے بتائے ہوئے طریقوں پر قائم رہتے تھے۔ چنانچہ جب وہاں کے مقامی لوگ ان کے اعلیٰ اخلاق کو دیکھتے تو خود متوجہ ہوتے کہ آخر اس کے اتنے اعلیٰ اخلاق کی وجہ کیا ہے۔ پھر ان میں سے بہت سے لوگ اس دین سے متاثر ہو کر اسے اختیار بھی کر لیتے۔

ہمیں بھی ویسا ہی اچھا مسلمان بننا ہوگا اور اپنے ساتھیوں کی بھی اچھے مسلمان بننے میں مدد کرنی ہوگی۔ اور ایسا بھی نہ ہو کہ غیر مسلموں کی تو ہمیں فکر ہو اور اپنے مسلمان بھائیوں کو ہم بھول جائیں۔ دونوں طرف توجہ دینی ہے۔ دونوں کا ہم پر حق ہے۔ میرے اس نسخے کا ایک ضمنی فائدہ یہ بھی ہے کہ غیر مسلم چاہے اسلام کی طرف متوجہ ہو یا نہ ہو، لیکن اس بہانے ہمیں خود اور دیگر مسلمان دوستوں کو ان اسباق کی یاد دہانی ہوتی رہے گی جو ہم کافی عرصہ پہلے پڑھ کر بھول گئے ہیں۔

چنانچہ آج سے کوشش کریں کہ خود بھی اچھے مسلمان بنیں، اپنے عزیزوں اور دوستوں کی بھی مدد کریں، اور اللہ کا پیغام ان تک بھی پہنچائیں جن تک ابھی نہیں پہنچا۔ یہ سب سے زیادہ ہمارے اپنے لیے ہی مفید ہے۔

دنیاوی فائدہ اور کوئی نہیں تو کم از کم آپ کے پاس فیسبک استعمال کرتے رہنے کا جواز تو پیدا ہو ہی جائے گا اور ساتھ ہی مسلمانوں کی نمائندگی کا طریقہ بھی درست ہو جائے گا۔ :p

اضافہ (2 فروری 2011): اگر میری تجویز پر عمل نہ کرنا چاہیں تو کم از کم ایک کام تو کر ہی سکتے ہیں۔ کہ فیس بک پر آنے والے اشتہارات پر کلک نہ کریں جن کے ذریعے فیس بک کمائی کرتا ہے۔

اتوار، 31 اکتوبر، 2010

فیسبکیوں کی ہجو میں ایک نظم

کسی زمانے میں سنا تھا کہ غم اچھے بھلے انسان کو شاعر بنا دیتا ہے۔ تب تو یقین نہیں آیا لیکن آج جب میں نے خود ایک نظم پوری کی تو مجھے یقین آ گیا کہ واقعی غم مجھ جیسے نمونوں کو بھی شاعر بنا سکتا ہے۔

یہ بے قاعدہ اور بے ہنگم نظم میں اپنے ان تمام دوستوں کے نام کرتا ہوں جن کی وجہ سے ہمارا فیسبک کے بائیکاٹ کا منصوبہ ناکام ہوا۔ اس نظم کی بنیاد میں دھوکہ، فراڈ اور میرے ارمانوں کا خون شامل ہے۔ تو پڑھیے اور لطف اندوز ہوئیے۔

ٹوٹ بٹوٹ اور فیسبک

ایک تھا لڑکا ٹوٹ بٹوٹ
باپ تھا اس کا میر سلوٹ
پیتا تھا وہ سوڈا واٹر
کھاتا تھا بادام اخروٹ

اک دن اس کی شامت آئی
فیسبک پر نظر دوڑائی

جھٹ سے اک کھاتہ کھلوایا
کئی لوگوں کو دوست بنایا

پھر تو اس کو جب بھی دیکھا
فیسبک پر مصروف ہی پایا

زندگی کٹ رہی تھی یوں ہی
اک دن دوست نے چٹھی بھیجی

فیسبک نے کیا کام برا تھا
اس پر کچھ تو کرنا ہی تھا

گستاخانِ رسول کی جو
اس نے سرپرستی کی تھی

اس پر کسی طرح کی تو
کارروائی کرنی ہی تھی

دوست بولا کرو بائیکاٹ
فیسبک سے لو تعلق کاٹ

گر سب اس سے رشتہ توڑیں
پھر نہ کریں گے ہمت ایسی

ٹریفک ہوگی اتنی کم کہ
ہو جائے گی ایسی تیسی

ٹوٹ بٹوٹ نے یہ سوچا کہ
بات تو ہے یہ بڑے پتے کی

سب مسلم جو متحد ہو گئے
نہ کرے گا کوئی ہمت ایسی

فوراً اس نے فیسبک چھوڑی
یاروں کو بھی دعوت ٹوری

گر ہوتا کامیاب بائیکاٹ
فیسبک کی لگ جاتی واٹ

قوم گر متحد ہو جاتی
گستاخوں کو عقل آ جاتی

لیکن حقیقت میں جو ہوا
ٹوٹ بٹوٹ نے سوچا نہ تھا

کچھ ہی روز ابھی گزرے تھے
اکثر لوگ صبر کھو بیٹھے

کچھ ہی رہے میداں میں ڈٹ کر
باقی سب واپس کو بھاگے

مہم ہو گئی ناکام ساری
کئی لوگوں نے ڈنڈی ماری

ٹوٹ بٹوٹ اب بیٹھا سوچے
دھیرے دھیرے خود سے بولے
سوچا کیا تھا، کیا ہو گیا رے
تیرے ساتھ تو فراڈ ہو گیا رے

"ہمیں اپنوں نے لوٹا، غیروں میں کہاں دم تھا
میری کشتی وہاں ڈوبی جہاں پانی کم تھا"

بدھ، 7 جولائی، 2010

گنوم (GNOME) کا اردو ترجمہ

سلام ظالم دنیا!

اپنے ہر دل عزیز جناتی مترجم جناب محمد علی مکی صاحب کو تو آپ لوگ جانتے ہی ہوں گے۔ ان دنوں کوہ قاف کے غاروں میں مراقبہ فرمایا کرتے ہیں۔ آج ان سے بذریعہ انسٹنٹ مسنجر مختصر سی ملاقات ہوئی تو باتوں باتوں میں معلوم ہوا کہ آج کل فارغ وقت میں گنوم (GNOME) ڈیسکٹاپ ماحول کا اردو ترجمہ کر رہے ہیں۔

تھوڑی سی جھلک جو میں ان کے کام کی دیکھ پایا، یہاں پر پیش کر رہا ہوں۔





ان شاء اللہ جلد ہی ترجمہ مکمل ہو کر آم لوگوں کے لیے دستیاب ہو جائے گا۔ لینکس اور گنوم استعمال کرنے والے، یا کسی اور وجہ سے اس پراجیکٹ میں دلچسپی رکھنے والے، ان کے بلاگ پر نظر رکھیں۔

جمعرات، 22 اپریل، 2010

22 اپریل - زمین کا دن

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔
دنیا بھر میں 22 اپریل کو زمین کے دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اس کا مقصد لوگوں میں زمین کے ماحول اور وسائل کے تحفظ کی اہمیت کا شعور پیدا کرنا ہے۔ اس اہم موقعے پر میں نے بھی ایک عدد مضمون لکھنے کا ارادہ تو کر رکھا تھا لیکن غیر متوقع حالات کی وجہ سے بروقت اطلاع بھی نہ دے پایا۔
جن لوگوں تک یہ اطلاع وقت پر پہنچ جائے، ان سے گزارش ہے کہ آج کا دن جیو اور ایکسپریس جیسے چینلوں کے بجائے نیشنل جیوگرافک اور ڈسکوری جیسے چینل دیکھتے ہوئے گزاریں کیونکہ ان پر اس موقعے کے لیے خصوصی پروگرام نشر کیے جائیں گے۔
اور جو صاحبِ اولاد ہیں، ان سے گزارش کروں گا کہ آپ کے بچوں کو اچھے مستقبل کے لیے صرف ڈھیر سارے پیسوں اور جائیداد کی ہی ضرورت نہیں ہے بلکہ پرسکون زندگی گزارنے کے لیے انہیں ایک صاف ستھری اور قابلِ رہائش زمین کی بھی ضرورت پڑے گی۔ لہٰذا خدا کے لیے ماحولیاتی آلودگی کے مسئلے کو کوئی اہمیت دیں۔
اگر آپ کو یہ اطلاع دیر سے ملتی ہے تو کیمیائی آنٹی کے اس مضمون پر گزارا کر لیں جو میں نے ان سے منتیں کر کے لکھوایا تھا۔
اور اگر آپ کو ایک تیز رفتار انٹرنیٹ کنکشن دستیاب ہے تو جہاں بٹ ٹورنٹ سے درجنوں کی تعداد میں دیگر فلمیں ڈاؤن لوڈ کر کے دیکھتے رہتے ہیں، وہیں An Inconvenient Truth کو بھی ایک بار دیکھ لیں۔

پیر، 12 اپریل، 2010

ROT13 رمز نگاری

ROT13 رمز نگاری کا ایک کمزور سا معیار ہے جس کا استعمال عام طور پر لطائف کو انکرپٹ کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس میں ہوتا یہ ہے کہ لفظ کے ہر حرف کو اپنی جگہ سے 13 جگہ آگے کھسکا دیا جاتا ہے۔ یعنی A کی جگہ N لگا دیا جاتا ہے اور M کی جگہ Z۔ اگر کوئی حرف Z سے پہلے 13 حروف سے کم کے فاصلے پر ہو تو Z سے آگے دوبارہ A سے شروع کرتے ہیں۔ مثلاً T کی جگہ G۔

(ROT13 میں ROT مخفف ہے ROTATE کا)

یہ سب مجھے یوں معلوم ہوا کہ پائتھن پروگرامنگ لینگویج سیکھنے کے دوران مشق کے طور پر متن کو ROT13 میں انکوڈ اور ڈیکوڈ کرنے والا ایک پروگرام لکھنا تھا۔ چنانچہ دو چار پروگرام لکھے جو کہ مختلف طریقوں سے یہ کام کرتے ہیں۔ ان میں سے ایک اپنی تعریفیں کروانے کے لیے یہاں پیش کر رہا ہوں (حالانکہ کوئی بڑی چیز نہیں ہے لیکن کسی کو بتانا نہیں)۔ :D


یہ پروگرام کمانڈ لائن پر مبنی ہے چنانچہ اسے ٹرمینل ہی میں چلایا جائے گا۔ کچھ اس طرح سے۔

python rot13.py

چونکہ انگریزی کے حروفِ تہجی کی تعداد 26 ہے، لہٰذا ROT13 میں انکوڈ کیے ہوئے متن کو دوبارہ 13 حرف آگے کھسکانے پر وہی متن واپس حاصل ہوتا ہے۔ اس خصوصیت کی وجہ سے اس کا انکوڈر اور ڈیکوڈر الگ الگ بنانے کی ضرورت نہیں پڑی۔ ایک ہی سادہ پروگرام سے یہ دونوں کام ہو جاتے ہیں۔

اس پروگرام کو چلانے کے لیے آپ کو پائتھن کے "مترجم" یا انٹرپرٹر (interpreter) کی ضرورت پڑے گی جو لینکس میں تو عموماً پہلے ہی سے موجود ہوتا ہے۔ لیکن اگر نہ ہوا یا آپ ونڈوز یا میک استعمال کرتے ہیں تو اسے یہاں سے حاصل کیا جا سکتا ہے:


ROT13 میں انکرپٹ کی گئی کچھ مثالیں تو آپ کو انگریزی کے وکیپیڈیا پر مل جائیں گی۔


مزید کا اگر شوق ہو تو خود ہی ڈھونڈ لیں۔ بلکہ اگر چاہیں تو اپنے پیغامات کو بھی اس پروگرام کی مدد سے انکرپٹ کر کے دوستوں کو تنگ کریں۔ کوئی اضافی پیسے نہیں لگیں گے۔ :)

ناقابلِ یقین کہانی

ناقابلِ یقین کہانی۔ مصنف: امر جلیل


کچھ روز پہلے کسی نے پوچھا ”اگر بینظیر بھٹو زندہ ہوتیں تو آصف زرداری آج کہاں ہوتے؟“
”یہ بھی کوئی پوچھنے کی بات ہے“ میں نے کہا۔
”بے نظیر بھٹو جب زندہ تھیں آصف زرداری چلنے پھرنے اور آنے جانے کے قابل نہیں تھے“۔
”کیوں؟“ اس نے پوچھا ”ان کے پیروں میں کیا مہندی لگی تھی؟“
مجھے غصہ آگیا۔ میں نے کہا ”وہ سخت بیمار تھے۔ ان کی کمر اور ریڑھ کی ہڈی میں تکلیف تھی ۔ وہ چل پھر نہیں سکتے تھے۔ دبئی اور نیویارک میں ان کا علاج چل رہا تھا“۔
شرارتی مسکراہٹ چہرے پر لاتے ہوئے اس نے کہا ”اور بینظیر کے فوت ہوتے ہی زرداری صاحب ٹھیک ہوگئے“!
”دیکھو“ میں نے اس سے کہا ”تم ایک ایسے شخص کے بارے میں اوٹ پٹانگ باتیں کر رہے ہو جن کو ہر طرح کا آئینی تحفظ ملا ہوا ہے“۔
”ناراض کیوں ہوتے ہو بھائی۔“ اس نے کہا ”میں صرف اتنا جاننا چاہتا ہوں کہ بینظیر صاحبہ اگر آج زندہ ہوتیں تو پھر آصف زرداری صاحب کا پاکستان کی سیاست میں کوئی عمل دخل ہوتا؟؟“
میں آصف زرداری کا جانثار چکرا کر گر پڑا، بیہوش ہوگیا۔ ہوش میں آیا تو ایک اسپتال میں تھا۔ میں نے ادھر ادھر دیکھا۔ ایک نرس مسکرا کر میری طرف دیکھ رہی تھی۔ میں نے نرس سے پوچھا ”اگر بینظیر صاحبہ آج زندہ ہوتیں تو پھر زرداری صاحب کہاں ہوتے؟؟“
نرس نے سوال سنا۔ مسکراہٹ اس کے چہرے سے غائب ہو گئی اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے وہ چکرا کر گر پڑی اور بیہوش ہوگئی۔ نرس دھم سے گری تھی۔ اس کے گرنے کی آواز سن کر دو تین ڈاکٹر اور کچھ وارڈ بوائے دوڑتے ہوئے آئے۔ نرس کو فرش پر بیہوش پڑا ہوا دیکھ کر حیران ہوئے۔ ایک ڈاکٹر نے مجھ سے پوچھا۔ ”سسٹر سلونی کو کیا ہوا، کیسے گر پڑیں؟“
”میں نے ان سے ایک سوال پوچھا تھا“ میں نے کہا ”سوال سنتے ہی وہ چکرا کر گر پڑی اور بیہوش ہو گئی“۔
ڈاکٹر نے کہا ” تم نے سسٹر سلونی سے کیا پوچھا تھا؟“
میں نے کہا ”سسٹر سلونی سے میں نے پوچھا تھا ، بینظیر صاحبہ اگر آج زندہ ہوتیں تو زرداری صاحب کہاں ہوتے؟“
ڈاکٹروں اور وارڈ بوائز کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں وہ ٹکٹکی باندھے میری طرف دیکھتے رہے میں نے حیرت زدہ ڈاکٹروں اور وارڈ بوائز سے پوچھا ”اچھا آپ لوگ بتا سکتے ہیں کہ بینظیر صاحبہ اگر آج زندہ ہوتیں تو آصف علی صاحب کہاں ہوتے اور کیا کر رہے ہوتے“؟
ڈاکٹر اور وارڈ بوائے چکرا گئے میرے دیکھتے ہی دیکھتے وہ چکرا کر گر پڑے اور بیہوش ہو گئے اور اس کے بعد میں نے جس جس خدا کے بندے سے پوچھا کہ محترمہ بینظیر صاحبہ اگر زندہ ہوتیں تو آصف زرداری سیاست میں دکھائی دیتے؟ وہ تمام کے تمام خدا کے نیک بندے سوال سن کرگر پڑے اور بیہوش ہو گئے۔
اس ماجرے سے گھبرا کر میں نے پیروں فقیروں کا رخ کیا۔ میرا سوال سن کر پیر فقیر چکرا کر گر پڑے اور بیہوش ہوگئے، صورت حال تشویش ناک ہوتی جا رہی تھی سنا تھا کہ جوگی، سنیاسی اور بھکشو گھنے برگدوں کے سایے میں چلہ کاٹتے تھے اس لحاظ سے برگد معتبر درخت ہے میں نے ایک گھنے اور تناور درخت سے پوچھا ”بینظیر صاحبہ اگر زندہ ہوتیں تو کیا زرداری صاحب پاکستانی سیاست میں نظر آتے یا اپنی درد میں مبتلا کمر اور ریڑھ کی ہڈی کا بیرون ملک علاج کرا رہے ہوتے؟“
میں نے سنسناہٹ کی آواز سنی برگد لرزنے لگا۔ دیکھتے ہی دیکھتے برگد پرخزاں چھانے لگی پتے پیلے ہو کر ٹہینوں سے گرنے لگے۔ آناً فاناً ہرا بھرا برگد سوکھ گیا۔
میں پریشانی کے عالم میں کھڑا ہوا تھا کہ مجھے غیب سے آواز سنائی دی۔ ”گڑھی خدا بخش جاؤ اور یہ سوال جا کر ذوالفقار علی بھٹو سے پوچھو“۔
میں نے گھبرا کر ادھر ادھر دیکھا۔ ”سوچتے کیا ہو بونگے بھائی، جاؤ۔ گڑھی خدا بخش جاؤ اور یہ سوال جا کر ذوالفقار علی بھٹو سے پوچھو۔ وہ آصف علی زرداری کے سسر لگتے ہیں وہی اس سوال کا جواب تمہیں دیں گے“۔
دیگر پاکستانیوں کی طرح میں پیروں مرشدوں کا مارا ہوا رخت سفر باندھ کر اسی سمت نکل پڑا جو میرے لئے انجانی تھی۔ میں نے زندگی میں نہ تو لاڑکانہ دیکھا تھا اور نہ رتو ڈیرو دیکھا تھا۔ سنا تھا وہیں سے ایک راستہ نکلتا تھا جو کہ سیدھے گڑھی خدا بخش پہنچتا تھا۔ میں نے پیر و مرشد کے بعد اللہ کا نام لیا اور سفر پر نکل پڑا۔ جب تک ذوالفقار علی بھٹو کا جسد خاکی وہاں دفن نہیں ہوا تھا کسی نے بھی گڑھی خدا بخش کا نام نہیں سنا تھا۔ اب تو وہاں ذوالفقار علی بھٹو کے بغل میں ان کی جواں سال بیٹی اور دو جواں سال بیٹے ابدی نیند سو رہے ہیں۔ پچھلے تیس بتیس برسوں میں ہم پیر و مرشد اور قبر پرستی کے مارے ہوئے پاکستانیوں نے ذوالفقار علی بھٹو کو پیر سائیں بنا کر رکھ دیا ہے۔ بیمار ان سے شفا مانگتے ہیں، بیروزگار ان سے روزگار مانگتے ہیں۔ بے اولاد ان سے اولاد مانگتے ہیں۔ معطل افسر ان سے بحالی کی دعا مانگتے ہیں۔ مظلوم بہو ان سے ساس کے بدن میں کیڑے پڑنے کی دعائیں مانگتی ہے۔ طالب علم امتحان میں پاس ہونے کے لئے ان کی قبر پر آکر گڑ گڑاتے ہیں۔ میرے کہنے کا مطلب ہے کہ شاید ہی کوئی شخص ہو جو گڑھی خدا بخش کے بارے میں کچھ نہ جانتا ہو۔
لاڑکانہ سے رتو ڈیرو پہنچنے میں مجھے زیادہ دقت پیش نہیں آئی لیکن گڑھی خدا بخش تک پہنچنا مجھے ناممکن محسوس ہوا چپے چپے پر رینجرز کے کمانڈوز اور پولیس کی بھاری نفری موجود تھی۔ مجھے تعجب ہوا گڑھی خدا بخش جانے والی سڑک پر لوگوں کا جم غفیر موجود تھا۔ ان میں بچے تھے، جوان تھے، بوڑھے تھے، عورتیں تھیں، مرد تھے۔
ہاتھوں میں آٹو میٹک رائفلیں اور روالور تھامے سیکورٹی اہلکار عقاب کی طرح ایک ایک شخص پر نظر رکھے ہوئے تھے، کڑی جانچ پڑتال کے بعد وہ ایک ایک آدمی کو آگے جانے دے رہے تھے، میں نے ایک ریڑھی والے سے پوچھا ”یہاں کیا روزانہ اسی طرح بھیڑ لگی رہتی ہے؟“
”نہیں“ ریڑھی والے نے کہا ”آج شہید بابا کی برسی ہے۔ سائیں زرداری شہید بابا کی مزار پر چادر چڑھانے آرہے ہیں۔“ شہید بابا سے اس کی مراد ذوالفقار علی بھٹو تھی۔
مجھے سیکورٹی اہلکاروں سے ہوتے ہوئے آگے نکل جانا ناممکن لگ رہا تھا۔ میرے پاس شناختی کارڈ نہیں ہے۔ شناختی کارڈ ان کے پاس ہوتے ہیں جن کی کوئی شناخت ہوتی ہے میری کوئی شناخت نہیں ہے۔ میں اپنے ہی وطن میں بے وطن ہوں۔ سیکورٹی والوں سے نظر بچا کر سڑک کی دائیں جانب گھنی جھاڑیوں میں داخل ہوگیا۔ میں ہر حال میں گڑھی خدا بخش پہنچنا چاہتا تھا۔ میں شہید بابا سے پوچھنا چاہتا تھا کہ بینظیر صاحبہ اگر آج زندہ ہوتیں تو زرداری صاحب کہاں ہوتے اورکیا کر رہے ہوتے۔ کیا وہ پاکستان کی سیاست میں کہیں نظر آسکتے تھے؟ وہی میرے سوال کا جواب دے سکتے تھے جسے سن کر ان کے غریب عوام چکرا کر گر پڑتے ہیں اور بیہوش ہوجاتے ہیں۔
سیکورٹی اہلکاروں سے بچتا بچاتا میں آگے بڑھ رہا تھا کہ گھنی جھاڑیوں میں کسی سے ٹکرا کر گر پڑا۔ ایک شخص درخت کے تنے سے ٹیک لگا کر بیٹھا ہوا تھا۔ اس نے شاہ لطیف کی طرح گھٹنوں پر سر رکھا ہوا تھا وہ مجھے شناسا شناسا محسوس ہوا۔ مجھے لگا جیسے میں جانتا ہوں۔ میں اسے پہلے بھی دیکھ چکا تھا لیکن مجھے یاد نہیں آرہا تھا کہ کب اور کہاں میں نے اسے دیکھا تھا۔ میں اس کے قریب بیٹھ گیا اور پوچھا ”کیا آپ بھی میری طرح چھپتے چھپاتے ذوالفقار علی بھٹو کی مزار پر جا رہے ہیں؟“
انہوں نے سر اٹھا کر میری طرف دیکھا اور کہا ”نہیں۔“
”تو آپ گڑھی خدا بخش نہیں جا رہے؟؟میں نے پوچھا ۔
انہوں نے سر گھٹنوں پر رکھ دیا اور کہا ”سیکورٹی والوں نے مجھے گڑھی خدا بخش سے نکال دیا ہے“۔
میں نے تعجب سے پوچھا۔ ”مگر کیوں؟“
انہوں نے میری طرف دیکھا۔ ایک نحیف سی مسکراہٹ ان کے اداس چہرے پر پھیل گئی۔ انہوں نے کہا ”سیکورٹی حکام کو یقین ہے کہ میں زرداری کو مار ڈالوں گا“۔
مجھے تعجب ہوا۔ میں نے پوچھا ”مگر آپ ہیں کون“؟
نحیف سی مسکراہٹ سے میری طرف دیکھتے ہوئے انہوں نے کہا ”میں ذوالفقار علی بھٹو ہوں“۔