پیر، 26 اگست، 2013

فیسبک سے آزادی کے سفر پر

میرے اکثر دوست جانتے ہیں کہ میں فیسبک سے شدید تنگ رہا ہوں اور آج صبح ہی میں نے اپنا فیسبک کھاتہ بند (ڈی ایکٹیویٹ) کیا ہے۔ یہاں پر میں اس موضوع پر بحث نہیں کرنا چاہتا کہ میں نے فیسبک چھوڑنے کا فیصلہ کیوں کیا۔ جنہیں زیادہ تجسس ہے، انہیں اشارے کے لیے اس ربط پر شور کے متعلق موجود یہ مضمون پڑھنے کا مشورہ دوں گا۔
فی الحال میں صرف ان ساتھیوں کے لیے ایک روڈمیپ پیش کرنا چاہوں گا جو میرے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے زندانِ فیسبک سے نجات حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
تو جناب، پہلے مرحلے کا سب سے پہلا حصہ ہوتا ہے یہ فیصلہ کرنا کہ آیا آپ کو واقعی فیسبک کی ضرورت ہے یا یہ آپ کے لیے صرف ایک ایسی غیر اہم آسائش ہے جس کا کام زندگی کو مزید پیچیدہ بنانے کے سوا اور کچھ نہیں۔ اپنے آپ سے سوال پوچھیں کہ کیا فیسبک آپ کی ضرورت ہے اور کیا اس سے الگ ہونے پر آپ کو یا کسی اور کو نقصان پہنچے گا؟ اس سوال کا جواب پاتے پاتے آپ کو ایک طویل عرصہ بھی لگ سکتا ہے۔
جب آپ اس نتیجے پر پہنچ جائیں کہ فیسبک سے آپ کو کوئی ایسا فائدہ نہیں ہو رہا جس کا آپ کے پاس کوئی بہتر متبادل نہ ہو تو اگلا مرحلہ ہوتا ہے اہم دوستوں سے متبادل رابطے کی معلومات جمع کرنا۔ کیونکہ فیسبک پر آپ کو روکے رکھنے کی سب سے بڑی وجہ تو یہی لوگ ہیں۔ متبادل رابطے کے لیے آپ ان کا ای میل ایڈریس، فون نمبر یا کوئی انسٹنٹ میسجنگ آئی ڈی لے سکتے ہیں۔ اس کام میں کئی دن لگ سکتے ہیں۔
اس کے بعد اگلا کام ہوتا ہے اپنے ڈیٹا کا بیک اپ ڈاؤن لوڈ کرنا جو آپ کو (فیسبک کے موجودہ انٹرفیس میں) اکاؤنٹ سیٹنگ میں جنرل کے ٹیب میں مل جائے گا۔ یہ خیال رہے کہ یہ آپ کے تمام ڈیٹا کا مکمل بیک اپ نہیں ہوتا۔ لیکن جو بھی ملتا ہے، فیسبک والوں کا احسان سمجھ کر ڈاؤن لوڈ کر لیں۔
جب یہ کام بھی ہو جائے تو اگلا فیصلہ یہ کرنا ہوتا ہے کہ آپ اپنے فیسبک کھاتے کو صرف ڈی ایکٹیویٹ کرنا چاہتے ہیں یا مکمل طور پر ڈیلیٹ۔ چونکہ آپ فیسبک سے جان چھڑانا چاہتے ہیں تو غالب امکان ہے کہ مکمل طور پر ڈیلیٹ کرنا ہی آپ کا فیصلہ ہوگا، لیکن اس سے پہلے احتیاطی تدبیر کے طور پر کچھ عرصہ صرف ڈی ایکٹیویٹ کر کے دیکھ لیں کیونکہ ہو سکتا ہے کہ اس دوران آپ کو خیال آئے کہ فلاں جگہ سے کچھ ڈیٹا اٹھانا باقی تھا یا فلاں شخص سے رابطے کی معلومات نہیں لیں۔ یہ کچھ عرصہ کافی اعصاب شکن ہوگا کیونکہ آپ کو رہ رہ کر خیال آئے گا کہ چلو تھوڑا سا فیسبک میں جھانک آئیں۔ اب پرانی عادتیں اتنی آسانی سے تو جان نہیں چھوڑتیں نا۔ اس عرصے میں خود پر خوب قابو رکھیں اور فارغ وقت کو تعمیری انداز سے استعمال کرنے کے اپنے آپشنز پر غور کریں۔ ایک دو ماہ تک تسلی ہو جانے کے بعد مزے سے اکاؤنٹ مستقل ڈیلیٹ کر دیں (اگر یہی آپ کا فیصلہ تھا)۔
مبارک ہو! آپ زندانِ فیسبک سے باہر نکل آئے ہیں۔ لیکن ابھی زیادہ خوش ہونے کی ضرورت نہیں۔ فیسبک سے باہر نکلنا محض پہلا مرحلہ تھا۔ ابھی ایک اور مشکل مرحلہ باقی ہے اس سے فارغ ہونے والے وقت کو کسی تعمیری استعمال میں خرچ کرنے کا۔ فیسبک سے نکلنے کے بعد خود کو کسی نئے کھڈے میں نہ گرا لینا۔ اپنے وقت کا خوب سوچ سمجھ کر استعمال کرنا!
میں نے اس سلسلے میں یہ سوچا ہے کہ اب ایسی جگہوں سے پرہیز کرنا ہے جہاں اچھا برا سب ایک ساتھ، بغیر کسی ترتیب و تنظیم کے، قاری کے منہ پر دے مارا جاتا ہے کہ اب اس میں سے اپنے کام کی چیز خود الگ کرو۔ کتابوں کے ساتھ اپنی دوستی پھر سے جوڑنی ہے۔ اپنی آن لائن سرگرمی کے دوران ان ویب سائٹس کا استعمال زیادہ کرنا ہے جن پر ہونے والی گفتگو میری پسند کے موضوعات تک ہی محدود رہتی ہے یا کم از کم ہر قسم کی گفتگو کے لیے الگ الگ زمرے بنے ہیں، جہاں کا مجموعی مزاج تحقیقی ہے، اور جہاں لوگ باقی دنیا کے شور شرابے سے الگ تھلگ بیٹھ کر اپنی ذاتی ترقی اور اپنی دنیا کی بہتری کے لیے کام کرتے رہتے ہیں۔
دعاؤں کی درخواست۔۔۔

اتوار، 25 اگست، 2013

ایک تھا پاکستان

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک علاقے میں ایک قوم کے لوگ کچھ دوسری قوموں کے زیرِ تسلط رہ رہے تھے۔ جب زندگی گزارنا انتہائی دشوار ہو گیا تو انہوں نے خدا سے ایک ڈیل کی۔ کہ اگر خدا ان کو ایک ٹکڑا زمین پر ایسا دے دے جس پر وہ آزادی سے زندگی گزار سکیں تو وہ لوگ وہاں پر خدا کی مرضی کا نظام قائم کریں گے۔
زمین کا ٹکڑا انہیں مل گیا۔ کچھ عرصہ انہوں نے اپنا وعدہ یاد رکھا۔ خدا کی مرضی کا نظام لاگو کرنے کے لیے خوب محنت کی۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کا جذبہ کم پڑتا گیا۔ اور وہ اپنا وعدہ بھول کر دنیا کی غیر اہم آسائشوں کی دوڑ میں لگ پڑے، جس نے انہیں اتنا مفلس بنا دیا کہ ان کو جان کے لالے پڑ گئے جس سے گھبرا کر انہوں نے نئے خدا بنا لیے اور اپنے حقیقی خدا کو فراموش کر دیا۔
آج وہ اپنے بنائے چھوٹے موٹے خداؤں سے دھکے، ٹھڈے اور ماریں بھی کھاتے ہیں لیکن ذلیل ہونے اور کچھ فائدہ نہ پانے کے باوجود انہی جھوٹے خداؤں کے دروں پر بیٹھے ہیں۔
کیا یہ بہتر نہ ہوگا کہ وہ اپنے حقیقی خدا کی طرف ہی لوٹ آئیں جو اکیلا ہی ان سب چھوٹے چھوٹے جھوٹے خداؤں کے چھکے چھڑا دینے کے لیے کافی ہے، وہ وعدہ پورا کریں جو ایک صدی سے بھی زیادہ پہلے کیا تھا، اور پھر اپنے حقیقی خدا کی مدد و نصرت کے ساتھ ایک پروقار زندگی گزاریں؟

جمعہ، 26 جولائی، 2013

پے بیک ٹائم!

یہ پاکستان میں ایک عام مسئلہ ہے کہ شریف خواتین، جنہوں نے اپنی ضروریات کے لیے موبائل فون رکھے ہوتے ہیں، کو ایک دن اچانک اوباش قسم کے نوجوانوں کی طرف سے فضول پیغامات آنا شروع ہو جاتے ہیں۔ بعض [سینسدڑ اسمائے صفت] لڑکے تو کال کرنے سے بھی نہیں چوکتے۔ اکثر ایسے مسائل کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے یا الٹا اس خاتون پر غصہ نکالا جاتا ہے کہ تمہیں موبائل کی ضرورت ہی کیا ہے۔ کوئی جوابی کارروائی کرے تو زیادہ سے زیادہ بھائی صاحب کے ذریعے تڑی لگا دی جاتی ہے کہ اب نہ آئے کال۔ کسی کے تعلقات ہوں تو وہ اس نمبر کے مالک کا پورا شجرۂ نصب بھی نکال لیا کرتے ہیں لیکن یہ عیاشی ہر کسی کو میسر نہیں ہوتی۔ مہذب معاشروں میں ایسے کام کے لیے پولیس ہوا کرتی ہے لیکن یہاں پولیس کے عمومی رویے کی وجہ سے لوگ ایسے مسائل کی رپورٹ درج کرانے سے بھی کتراتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ نامعلوم والدین کے جنے یہ نامعلوم افراد بلا خوف و خطر دندناتے پھرتے ہیں۔
ایک شریف آدمی کا دل ایسی صورت حال کو دیکھ کر بہت کڑھتا ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ ان کے خلاف کچھ کارروائی ہونی چاہیے لیکن قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ترجیحات میں قانون کا نفاذ شامل نہ ہونا دیکھ کر خود کو بے بس و لاچار محسوس کرتا ہے۔
ایسے میں مجھے ایک خیال آیا۔ کیوں نہ ان لوگوں کے ساتھ وہی (یا حسبِ توفیق اس سے بھی "بڑھیا") سلوک کیا جائے جس طرح یہ لوگ شریف خواتین کو تکلیف پہنچاتے ہیں؟ ایک ویب سائٹ بنائی جائے جہاں ایسے لوگوں کے نمبر اکٹھے کیے جائیں جس طرح یہ لوگ لڑکیوں کے نمبر ویب سائٹس پر جمع کرتے ہیں۔ اور منادی لگا دی جائے کہ اب سب لوگ ان [سینسرڈ اسمائے صفت] لڑکوں کا حسبِ توفیق بلاتکار کریں۔
بہت سے لوگوں کو ان کے اندر کی اچھائی اپنی حدود کے اندر رکھتی ہے۔ لیکن بہت سے ایسے بھی ہوتے ہیں جنہیں ڈنڈے کے زور سے سیدھا رکھنا پڑتا ہے۔
آپ کی اس بارے میں کیا رائے ہے؟ کیا ایسا کیا جانا چاہیے یا ہمارے پاس کوئی اس سے بہتر متبادل موجود ہے؟

اتوار، 28 اپریل، 2013

چھوٹے چھوٹے قدم

جہاں تک میری یادداشت کام کرتی ہے، بلندی کے خوف نے غالباً میرے دل میں تب جگہ بنائی تھی جب میں بچپن میں ایک بار چھت سے کودتے ہوئے پھسل کر کافی سخت چوٹ لگوا بیٹھا تھا۔ حالانکہ اس سے پہلے میں درجنوں بار اسی جگہ سے کامیابی کے ساتھ چھلانگ لگا چکا تھا۔ لیکن نہ جانے یہ چوٹ کی شدت تھی یا بڑوں کا گھبراہٹ میں دیا شدید ردِ عمل کہ اس کے بعد میں کبھی ایسی جگہ سے چھلانگ لگانا تو دور کی بات، اس کے کنارے پر کھڑے ہوتے ہوئے بھی خوف محسوس کرنے لگا۔
کل چند دوستوں کے ساتھ اسلام آباد کی ایک یونیورسٹی میں لگے میلے میں جانے کا اتفاق ہوا۔ وہاں میں نے دیکھا کہ ایک دیوار سی بنائی ہوئی تھی جس پر لوگ چڑھ کر اپنا کوہ پیمائی کا شوق کچھ حد تک پورا کر رہے تھے (انگ+ریزی میں بولے تو وال کلائمبنگ)۔ میں نے پہلے چند ایک بار یہ چیز دیکھی تو تھی لیکن پہلے کبھی خود دیوار پیمائی کا موقع نہ ملا تھا۔ اس بار سوچا کہ کسی دوست کے ساتھ مقابلہ کیا جائے۔ حفاظتی رسیاں باندھنے لگے تو مجھ پر پھر سے وہی بلندی کا خوف غالب ہونے لگا۔ تھوڑے تھوڑے پسینے بھی چھوٹنے لگے اور ہلکی سی لرزش بھی محسوس ہوئی ہاتھوں پیروں میں۔ لیکن نہ جانے اس وقت میرے ذہن میں کیا سمائی کہ اس چیز نے مجھے چیلنج قبول کرنے پر مزید اکسایا۔ شاید اتنا طویل عرصہ بلندیوں سے خوف زدہ رہنے کے بعد میں تھک چکا تھا۔ چنانچہ اللہ کا نام لے کر اوپر چڑھنا شروع کیا۔تین چوتھائی فاصلہ طے کرنے کے بعد ہاتھوں پر پسینہ آنے لگا اور پاؤں کچھ کچھ بے قابو سے  ہونے لگے۔ لیکن یہاں سے واپسی نہ صرف اپنی بے عزتی بلکہ خوف کے سامنے ہار ماننا بھی تھا۔ چنانچہ توجہ اپنے خوف سے ہٹاتے ہوئے اوپر  بڑھنے پر لگانے کی کوشش کرتا رہا اور کسی نہ کسی طرح اوپر پہنچ کر گھنٹی بجا ہی دی۔ نیچے اترتے ہوئے گرنے جیسی کیفیت کے مرحلے سے بھی گزرنا پڑا۔ واپس زمین پر پہنچتے پہنچتے کافی تھک چکا تھا کہ اتنے پرانے خوف سے لڑنا آسان نہیں ہوتا۔ لیکن تھوڑی دیر پہلے کی نسبت بہت بہتر محسوس کر رہا تھا۔
میں جانتا ہوں کہ یہ کوئی اتنا بڑا غیر معمولی کارنامہ نہیں کہ جس پر میں بغلیں بجا سکوں اور خو کو کوئی بڑی توپ چیز قرار دے سکوں۔ لیکن اس نے مجھے یہ اعتماد ضرور دلایاہے۔۔۔ کہ اگلی بار خوف سے نجات کے راستے پر، جو رکاوٹ عبور کروں گا، وہ کم از کم اس سے بڑی ہوگی۔

ہفتہ، 2 مارچ، 2013

ووٹ شوٹ

یہ منظر آج کل اکثر دیکھنے کو ملتا ہے۔
کچھ لوگ بیٹھے حکومت وغیرہ کو کوس رہے ہوتے ہیں، حالات کا رونا رو رہے ہوتے ہیں، دوسروں کی بے ایمانیوں کا تذکرہ کر رہے ہوتے ہیں۔ کہ اچانک ان میں سے ایک شخص کسی دوسرے سے پوچھتا ہے۔ "تو پھر تم اس بار کسے ووٹ ڈال رہے ہو؟" اور جواب میں وہ صاحب فرماتے ہیں کہ "کسی کو بھی نہیں۔ سارا نظام ہی بگڑا ہوا ہے۔ صرف میرے ووٹ سے کیا فرق پڑ جائے گا!۔۔" ایسے لوگوں کی یہ منطق کم از کم میری سمجھ میں نہیں آتی۔ کیونکہ اگر ان کو کوئی ایسی تصویر دکھائی جائے جس میں کسی اسرائیلی ٹینک کے سامنے کوئی فلسطینی بچہ ہاتھ میں پتھر اٹھائے کھڑا ہو تو (اگر سب نہیں تو) اکثر اس بچے کی ہمت کی تعریف ہی کریں گے اور اس کے طرزِ عمل کو قابلِ تحسین قرار دیں گے۔ لیکن اس کے باوجود جب اپنی باری آئے گی تو محض دو گھنٹے لگا کر وہ ووٹ ڈالنے کی تکلیف بھی نہیں کریں گے جس پر ان کے مستقبل کا اتنا انحصار ہے۔ فرض کریں کہ آپ کے ووٹ ڈالنے کے باوجود وہ تبدیلی نہیں آتی جس کے لیے آپ نے ووٹ ڈالا تھا، تب بھی کیا یہ بہتر نہیں کہ اپنی سی ایک کوشش کر لی جائے؟ بجائے اس کے کہ صرف رونے دھونے پر ہی اکتفاء کیے رہیں۔۔۔

منگل، 6 نومبر، 2012

ظالمو! تاج نستعلیق آ رہا ہے!

بالآخر انتظار کی گھڑیاں ختم ہوئیں اور نا امیدی کا اندھیرا چھٹا!
ان شاء اللہ ۹ نومبر ۲۰۱۲ء کو بر صغیر کے پہلے آزاد ترسیمہ جاتی لاہوری نستعلیق فانٹ، القلم تاج نستعلیق، کا اجراء کر دیا جائے گا۔
تاج نستعلیق کی ویب سائٹ:

اپنی ویب سائٹ کے لیے تاج نستعلیق کا بینر حاصل کرنے کے لیے یہاں تشریف لے جائیں:

اور یہ رہا ایک عدد بڑے حجم کا بینر شریف:


جمعہ، 2 مارچ، 2012

کیا مسلمانوں کی علمی پسماندگی کے ذمہ دار امام غزالی ہی ہیں؟

چند ہی دن پہلے ایک جگہ کسی کا اعتراض پڑھا جس کا خلاصہ یہ تھا کہ مسلمانوں کے علمی زوال میں امام غزالی کا اہم کردار ہے۔

دو وجوہات نے مجھے اس معاملے کی تہہ میں جانے پر اکسایا۔ ایک تو یہ کہ اس طرح مجھے تاریخ کے متعلق کچھ سیکھنے کو ملے گا۔ دوم یہ کہ اتنی بڑی بات کو بغیر تحقیق قبول کر لینا کوئی علم دوست رویہ نہیں۔

پہلا مرحلہ تھا دعوے کا تجزیہ کرنا جس کے نتیجے میں اپنی آسانی کے لیے میں نے اسے ان دو حصوں میں تقسیم کیا۔
اول یہ کہ امام غزالی نے ریاضی کو ایک شیطانی کھیل قرار دیا۔
دوم یہ کہ امام غزالی کی وجہ سے مسلمان سائنس سے دور ہو گئے۔

پہلے حصے کے متعلق معلومات حاصل کرنے میں اپنی تاریخ سے عدم واقفیت کے باعث کافی محنت کرنی پڑی۔ لیکن آخر کار مجھے کہیں سے امام غزالی کی احیاء العلوم کا اردو ترجمہ مل گیا جس کی پہلی جلد میں مجھے یہ متن ملا۔

"غیر شرعی علوم:
غیر شرعی علوم کی بھی تین اقسام ہیں
(۱) پسندیدہ علوم
(۲) ناپسندیدہ علوم
(۳) مباح علوم
پسندیدہ علوم وہ ہیں جن سے دنیاوی زندگی کے مصالح وابستہ ہیں جیسے علمِ طب اور علمِ حساب۔ ان میں سے بعض علوم فرضِ کفایہ کی حیثیت رکھتے ہیں اور بعض صرف اچھے ہیں، فرض نہیں ہیں۔ فرضِ کفایہ وہ علوم ہیں جو دنیاوی نظام کے لیے ناگزیر ہیں۔ جیسے طب تندرستی اور صحت کی سلامتی کے لیے ضروری ہے، یا حساب کہ خرید و فروخت کے معاملات، وصیتوں کی تکمیل اور مالِ وراثت کی تقسیم وغیرہ میں لازمی ہے۔ یہ علوم ایسے ہیں کہ اگر شہر میں ان کا کوئی جاننے والا نہ ہو تو تمام اہلِ شہر کو پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ تاہم ان میں سے اگر ایک شخص بھی ان علوم کو حاصل کر لے تو باقی لوگوں کے ذمے سے یہ فرض ساقط ہو جاتا ہے۔
یہاں اس پر تعجب نہ کرنا چاہیے کہ صرف طب اور حساب کو فرضِ کفایہ قرار دیا گیا ہے۔ اس لیے کہ ہم نے جو اصول بیان کیے ہیں، اس کی روشنی میں بنیادی پیشے جیسے پارچہ بافی، زراعت اور سیاست بھی فرضِ کفایہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ بلکہ سینا پرونا اور پچھنے لگانا بھی فرضِ کفایہ ہیں، کہ اگر شہر بھر میں کوئی فاسد خون نکالنے والا نہ ہو تو جانوں کی ہلاکت کا خوف رہتا ہے۔ ہم یہ کہتے ہیں کہ جس نے بیماری دی ہے، اس نے دوا بھی اتاری ہے اور علاج کا طریقہ بھی بتلایا ہے۔ پھر کیوں نہ ہم ان سے فائدہ اٹھائیں؟ بلا وجہ اپنے آپ کو ہلاکت کی نذر کرنا جائز نہیں ہے۔ اس لیے پچھنے لگانے کا علم بھی فرضِ کفایہ ہے۔ یہاں یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ طب اور حساب کا صرف وہ حصہ فرضِ کفایہ کی حیثیت رکھتا ہے جس سے انسانی ضرورتیں پوری ہو جاتی ہیں۔ طب اور حساب کی باریکیوں کا علم محض پسندیدہ ہے، فرضِ کفایہ نہیں ہے۔
غیر شرعی علوم میں ناپسندیدہ علوم یہ ہیں: (۱) جادوگری، (۲) شعبدہ بازی، (۳) وہ علم جس سے دھوکہ ہو وغیرہ۔
مباح علوم یہ ہیں: (۱) شعر و شاعری اگر وہ اخلاق سوز نہ ہو، (۲) تاریخ یا دیگر تاریخی علوم۔
ان صورتوں کی روشنی میں دوسرے ناپسندیدہ یا مباح علوم و فنون کو قیاس کیا جا سکتا ہے۔"

میرے خیال میں اتنا اقتباس کافی ہوگا امام غزالی کے دنیاوی علوم پر نظریات کو سمجھنے کے لیے۔ اس لیے اب اگلے مرحلے کو چلتے ہیں۔

اگر مسلمانوں نے سائنسی علوم کو امام غزالی کی وجہ سے چھوڑا تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ امام غزالی کے بعد والے دور میں مسلمانوں میں دو چار ناموں کے علاوہ کوئی بڑا سائنس دان ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملنا چاہیے۔
چنانچہ اس کے لیے میں نے مشہور مسلمان سائنس دانوں کی فہرستیں چھاننی شروع کیں۔ ان میں سے چونکہ وکیپیڈیا والی فہرست کو چھاننا دوسروں کی نسبت زیادہ آسان تھا، اس لیے اسی کا انتخاب کیا۔ اگرچہ دیگر کتب میں ملنے والے کچھ نام مجھے اس فہرست میں نہ مل پائے۔ لیکن یہ سوچتے ہوئے کہ اتنی طویل فہرست کے ہوتے ہوئے ان پانچ چھے ناموں کے ہونے یا نہ ہونے سے کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا، میں نے وکیپیڈیا کی آسانی کو ترجیح دی۔
فہرست کی طوالت کی وجہ سے میں نے اپنی توجہ صرف فلکیات دانوں، ریاضی دانوں، طبیعیات دانوں اور انجنئیروں والے زمروں تک محدود رکھی (شاید اپنے ذاتی شوق کی وجہ سے)۔ اور یہ جاننے کی کوشش کی کہ امام غزالی کی وفات (1111ء) کے بعد ان میں سے کون کون پیدا ہوا تھا۔
امام غزالی پر آنے والے اعتراض کو پڑھنے کے بعد میں توقع کر رہا تھا کہ یہ تعداد انتہائی کم ہوگی جس کی وجہ سے بعض لوگ اس کمی کو امام غزالی سے منسوب کر دیتے ہیں۔ لیکن حیرت انگیز طور پر یہ تعداد میرے اندازے سے کافی زیادہ نکلی۔ چھانٹی کے بعد بچ جانے والوں میں سے بیس سائنس دانوں کے نام (بمع وکیپیڈیا ربط) یہاں پیش کر رہا ہوں۔

أبو الوليد محمد بن احمد بن رشد‎
فقيه، فلسفی، ماہرِ قانون، طبیب، فلکیات دان، جغرافیہ دان، ریاضی دان، طبیعیات دان
(1126–1198)
http://en.wikipedia.org/wiki/Averroes

السموأل بن يحيى المغربي‎
ریاضی دان، فلکیات دان اور طبیب
(1130–1180)
http://en.wikipedia.org/wiki/Al-Samawal

نور الدین البتروجی
فلکیات دان اور قاضی
(وفات: 1204)
http://en.wikipedia.org/wiki/Nur_Ed-Din_Al_Betrugi

بديع الزمان أَبُو اَلْعِزِ بْنُ إسْماعِيلِ بْنُ الرِّزاز الجزري
عالمِ دین، موجد، ریاضی دان، انجنئیر
(1136–1206)
http://en.wikipedia.org/wiki/Al-Jazari

شرف الدین طوسی
ریاضی دان اور فلکیات دان
(وفات: 1213 یا 1214)
http://en.wikipedia.org/wiki/Sharaf_al-D%C4%ABn_al-T%C5%ABs%C4%AB

محمد بن محمد بن الحسن طوسی (المعروف نصیر الدین طوسی‎)
فلکیات دان، حیاتیات دان، کیمیا دان، ریاضی دان، فلسفی، طبیب، طبیعیات دان
(1201–1274)
http://en.wikipedia.org/wiki/Nasir_al-Din_Tusi

محي الدين المغربي
ریاضی دان اور فلکیات دان
(1220–1283)
http://en.wikipedia.org/wiki/Mu%E1%B8%A5yi_al-D%C4%ABn_al-Maghrib%C4%AB

معید الدین الاردی
ریاضی دان، فلکیات دان، انجنئیر
(وفات: 1266)
http://en.wikipedia.org/wiki/Mo%27ayyeduddin_Urdi

قطب‌الدین محمود بن مسعود شیرازی
شاعر، فلکیات دان، ریاضی دان، طبیب، طبیعیات دان، فلسفی
(1236 – 1311)
http://en.wikipedia.org/wiki/Qutb_al-Din_al-Shirazi

شمس الدین السمرقندی
ریاضی دان اور فلکیات دان
(1250–1310)
http://en.wikipedia.org/wiki/Shams_al-D%C4%ABn_al-Samarqand%C4%AB

ابن البناء المراکشی
ریاضی دان اور فلکیات دان
(1256–1321)
http://en.wikipedia.org/wiki/Ibn_al-Banna%27_al-Marrakushi

کمال الدین فارسی
ریاضی دان، فلکیات دان
(1267–1319)
http://en.wikipedia.org/wiki/Kam%C4%81l_al-D%C4%ABn_al-F%C4%81ris%C4%AB

ابن الشاطر
فلکیات دان، ریاضی دان، انجنئیر اور موجد
مسجد میں موقت (ٹائم کیپر) کے طور پر کام کرتے تھے
(1304–1375)
http://en.wikipedia.org/wiki/Ibn_al-Shatir

شمس الدین ابو عبداللہ الخلیلی
فلکیات دان
(1320–1380)
http://en.wikipedia.org/wiki/Al-Khalili

قاضی زادہ الرومی
ریاضی دان اور فلکیات دان
(1364–1436)
http://en.wikipedia.org/wiki/Q%C4%81%E1%B8%8D%C4%AB_Z%C4%81da_al-R%C5%ABm%C4%AB

غیاث‌الدین جمشید کاشانی
ریاضی دان اور فلکیات دان
(1380–1429)
http://en.wikipedia.org/wiki/Jamsh%C4%ABd_al-K%C4%81sh%C4%AB

میرزا محمد طارق بن شاہرخ الغ بیگ
ریاضی دان، فلکیات دان اور سلطان
(1394–1449)
http://en.wikipedia.org/wiki/Ulugh_Beg

أبو الحسن علي القلصادي
ریاضی دان
(1412–1486)
http://en.wikipedia.org/wiki/Ab%C5%AB_al-Hasan_ibn_Al%C4%AB_al-Qalas%C4%81d%C4%AB

تقي الدين محمد بن معروف الشامي
فلکیات دان، انجنئیر، ریاضی دان، طبیعیات دان
(1526–1585)
http://en.wikipedia.org/wiki/Taqi_al-Din_Muhammad_ibn_Ma%27ruf

محمد باقر یزدی
ریاضی دان
(سولہویں صدی)
http://en.wikipedia.org/wiki/Muhammad_Baqir_Yazdi


اس تمام ڈیٹا کی موجودگی میں مجھے تو یہی سمجھ آتی ہے کہ مسلمانوں نے جو سائنس کو چھوڑا تو امام غزالی کی وجہ سے نہیں چھوڑا بلکہ اس کے اسباب کچھ اور تھے۔
یعنی کہ میرے ساتھ "کھودا پہاڑ، نکلا چوہا" والی واردات ہو گئی۔ حق تو یہ بنتا ہے کہ جس کے حقائق کی تصدیق کے معاملے میں کاہلی برتنے کی وجہ سے مجھے اتنی خواری کرنی پڑی (یعنی جس نے تصدیق کیے بغیر ہی الزام کو آگے بڑھا دیا)، اس سے جرمانے میں بریانی کی دیگ وصولی جائے۔ لیکن افسوس کہ فی الحال یہ کام انٹرنیٹ پر ممکن نہیں ہیں۔
چلو بخش دیا۔ کیا یاد کرو گے!۔۔