ہفتہ، 1 مارچ، 2014

نا-مساعد

یاد نہیں کہ کتنے سال قبل کا واقعہ ہے۔ معمول کے ایک راستے سے گزرتے ہوئے وہاں دو عدد نئے کھمبے گڑے نظر آئے۔ معلوم ہوا کہ وہاں ایک نیا ٹرانسفارمر نصب ہونے لگا ہے۔ چونکہ ہمارے شہر میں بجلی کی ترسیل کے کمزور نظام کے باعث ٹرانسفارمر میں آتش بازیاں ہونا معمول کی بات ہوا کرتی ہے، تو جس کے گھر یا دکان کے سامنے کی جگہ چنی گئی، اس نے پورا زور لگا دیا کہ وہاں یہ "دھماکہ خیز مواد" نصب نہ ہو پائے۔ جب ٹرانسفارمر کو کہیں اور جگہ نہ مل سکی تو ایک ہی آپشن باقی رہ گیا۔ وہ تھا وہاں موجود ایک چھوٹے سے کوچے کا داخلی راستہ۔ چنانچہ کھمبے گاڑ کر کام شروع کر دیا گیا۔ میں وہاں سے گزرتے ہوئے اکثر سوچا کرتا تھا کہ اس چھوٹی سی گلی کے مکینوں کو اس کی وجہ سے کتنی تکلیف ہوا کرتی ہوگی، کبھی کوئی بڑا سامان یہاں سے گزارنا پڑے تو وہ کیا کرتے ہوں گے، بارش میں کتنا پھونک پھونک کر قدم رکھتے ہوں گے، وغیرہ وغیرہ۔۔
کچھ دن قبل دوبارہ وہاں سے گزر ہوا تو ایک نیا منظر میرے سامنے تھا۔ چند من چلوں نے اس ٹرانسفارمر کو ہی ٹرانسفارم کر کے رکھ دیا تھا۔
عرصہ دراز پہلے ایک لطیفہ پڑھا تھا کہ نا ممکن کو ممکن کیسے بنایا جائے؟ جواب تھا، نا ممکن کا "نا" ہٹا کر۔
اس منظر کو دیکھ کر بھی محسوس ہوا کہ گلی کے چند افراد نے اپنی نا مساعد صورت حال کا "نا" ہٹا کر اسے اپنے لیے مساعد بنا لیا ہے۔ وہی راستہ جسے دیکھ کر میرے ذہن میں پہلا تاثر گلی کے مکینوں کی تکلیف کا آتا تھا، اب وہاں ایک خوبصورت دروازہ کسی تقریب کے مہمانوں کا استقبال کرنے کے لیے کھڑا تھا۔
جہاں ایک طرف میں اس راستے کے مسائل پر اپنی تمام تر توجہ مرکوز کیے ہوئے تھا، وہیں چند افراد کی نگاہوں نے اس میں ایک نیا موقع دیکھا، اور اسے اپنے فائدے کے لیے استعمال کیا۔ ایسا نہیں تھا کہ اس طرح اس راستے کے ساتھ منسلک تمام مسائل غائب ہو گئے۔ لیکن اگر وہ بھی اپنی تمام تر توجہ اس کے سبب ہونے والی تکلیف پر ہی مرکوز رکھتے، تو مجھے نہیں لگتا کہ ہمیں ایسا منظر دیکھنے کو ملتا۔
مجھے لگا کہ اس واقعے میں میرے لیے بھی ایک سبق ہے۔ جس طرح چند من چلوں نے اپنے تمام مسائل میں گھرے رہتے ہوئے بھی ایک نیا موقع ڈھونڈ نکالا، اسی طرح ہمیں بھی زندگی میں کئی مواقع ملتے ہیں جنہیں ہم ڈھونڈ سکتے ہیں اگر اپنی تمام تر توجہ مسائل و تکالیف پر مرکوز نہ رکھیں۔ جس طرح انہوں نے نا مساعد کا صرف نا نکال کر اسے مساعد میں بدلا، اسی طرح ہم بھی اپنی زندگی میں بظاہر نا مساعد نظر آنے والی کئی صورتوں کو محض نا نکال کر مساعد میں بدل سکتے ہیں۔ نہ جانے ایسے کتنے مواقع کو میں صرف اپنی توجہ منفی سمت میں مرکوز کرنے کے سبب ضائع کر چکا ہوں گا۔ امید کرتا ہوں کہ اس یاد دہانی کے بعد میری زندگی میں ایسے مواقع کے ضیاع میں کمی آئے گی۔

منگل، 21 جنوری، 2014

سائنسی مواد اردو میں۔ ہاں یا نہیں۔ ایک دھندلا سا نقشہ

اردو زبان میں سائنسی مواد پر جب بات ہو تو دو اہم نکات اکثر سامنے آتے ہیں۔ ایک طرف کسی کا یہ کہنا ہوتا ہے کہ سائنسی مواد کی مقامی زبانوں میں موجودگی اسے عام فہم بنانے کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ دوسری جانب کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ جس سطح پر ہم ہیں، اس حالت میں لوگوں کو اردو میں سائنس پڑھانا انہیں محدود کرنے کے برابر ہے۔ کہ جس سطح پر پہنچ کر انہیں آگے کسی اور زبان کو اختیار کرنے کی ضرورت پڑی، وہاں سے ان کی مشکلات شروع جائیں گی اور آگے بڑھنا انتہائی مشکل ہو جائے گا۔ ان کے مطابق شروع سے دیگر زبانوں میں انہیں تربیت دینے سے وہ زیادہ بلند سطح پر موجود مواد، جو کہ صرف غیر زبان میں ہی دستیاب ہوگا، سے بہتر استفادہ کر سکیں گے۔ وزن دونوں ہی باتوں میں ہے۔ پہلا گروہ جب اپنی زبان میں تعلیم دینے والی ترقی یافتہ قوموں کی جانب اشارہ کرتا ہے تو دوسرے گروہ والے اس حقیقت کی طرف توجہ دلاتے ہیں کہ وہ ممالک اس معاملے میں پہلے ہی سے کافی مستحکم بنیادیں رکھتے ہیں۔
تو کیا اس کا مطلب یہ ہوا کہ اردو میں سائنسی تدریس کی کوششوں کو ترک کر دیا جائے؟
میری رائے میں ایسا نہیں۔
موجودہ صورت حال بھی قابلِ قبول تو نہیں۔ اور تبدیلی لانے کے لیے کچھ نہ کچھ تو ہاتھ پیر چلانے ہی پڑیں گے۔
لیکن جو لوگ فوری طور پر اردو میں سائنس کی تدریس رائج کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں، انہیں بھی اس دلیل کو مد نظر رکھنا ہوگا جس کا ذکر اوپر گزرا۔
تو پھر حل کیا ہے؟
یہ تو عام مشاہدہ ہے کہ پائیدار نوعیت کی بڑی تبدیلی ہمیشہ آہستہ آہستہ ہی آتی ہے۔
میرے خیال میں بہتر طریقہ یہ ہوگا کہ فی الحال رسمی سائنسی تدریس کو اسی طرح انگریزی میں چلنے دیا جائے لیکن ساتھ ساتھ اردو میں مواد کی دستیابی کی کوششیں بھی جاری رکھی جائیں۔ آج اگر میں کچھ بنیادی نوعیت کا مواد اردو میں دستیاب کر دیتا ہوں تو کل کو اگر کوئی اور آ کر اس پر کام کرنا چاہے گا تو آسانی سے اس کے اوپر تھوڑی اور عمارت کھڑی کر دے گا۔ اسی طرح پھر کوئی اور آ کر کچھ اور اینٹیں لگا دے گا۔ یوں ہوتے ہوتے، اگر اللہ نے چاہا تو، ایک دن ایسا آ ہی جائے گا کہ جب ہمارے پاس بنیادی سے لے کر اعلیٰ تعلیم تک کے لیے اردو میں مواد دستیاب ہو۔ بھلے ہی وہ وقت سو سال بعد آئے لیکن اگر چل پڑیں گے تو آہستہ آہستہ ہی سہی، سفر کٹ ضرور جائے گا۔ اور پھر اگلے مرحلے میں دیگر مقامی زبانوں میں یہ سب کام کرنا زیادہ آسان ہو جائے گا۔ اور تب ہم بھی، ان شاء اللہ، اس مقام پر پہنچ جائیں گے کہ جہاں پہنچ کر ہمارے لیے اپنی زبانوں میں سائنس کی تدریس کوئی مسئلہ ہی نہیں رہے گی۔
لیکن ایک بات کا خیال رہے! صرف مواد ہی دستیاب کرنا کافی نہیں ہوگا۔ خود تحقیق کی عادت بھی ڈالنی ہوگی۔ اس تبدیلی کو دیر پا بنانے کے لیے اس سب کے ساتھ ساتھ خود انحصاریت کی طرف بھی بڑھنا ہوگا۔ دوسروں کا جھوٹا استعمال کرنے کی عادت سے جان چھڑانی ہوگی۔
یعنی کہ بیک وقت دو جہتوں میں بڑھنا ہوگا۔ مواد کی دستیابی بھی اور تحقیق بھی۔
اس کے متوازی فی الوقت تو اپنا تدریسی نظام انگریزی میں چلانا پڑے گا۔ لیکن مجھے قوی امید ہے کہ یہ سفر قدم بہ قدم آگے بڑھتا رہا تو ایک دن ہم اس قابل ضرور ہو جائیں گے کہ انگریزی کی انحصاریت سے بہ آسانی جان چھڑا سکیں۔

بدھ، 25 دسمبر، 2013

ہماری منطق، یہ پیاری منطق

کل چھت پر دھوپ سینکتے ہوئے مطالعہ کر رہا تھا کہ پاس کھڑے کچھ لڑکوں کی گفتگو کی طرف توجہ گئی جو کہ پرسوں طالبات کی جانب سے کی جانے والی ہڑتال پر اپنی ماہرانہ رائے کا تبادلہ کر رہے تھے۔ یوں تو ہڑتال کی وجہ بننے والے مسائل اور بھی تھے لیکن میں نے ہر طرف لوگوں کو صرف ایک ہی نکتہ پکڑ کر اس کی حمایت کرتے پایا جو کہ تھا پانچ بجے کے بعد ہاسٹل سے باہر نکلنے پر پابندی والا۔ شاید یہ "اسلامی" کہلوانے کے شوقینوں کا پسندیدہ نکتہ تھا، اس لیے۔ یہاں بھی وہی صورت حال تھی۔ فرمانے لگے کہ لڑکیوں کو پانچ بجے کے بعد باہر جانے کی ضرورت ہی کیا ہے؟ کون سے کام کرنے ہوتے ہیں انہوں نے؟ میں خاموشی سے سنتا رہا کیونکہ مجھے اپنا سکون سے مطالعہ کرنا زیادہ عزیز تھا۔ ابھی کچھ ہی دیر گزری تھی کہ ان کی گفتگو کا رخ کل چہلم پر لاگو ہونے والی موبائل فون بندش کی جانب مڑ گیا۔ اچانک کہنے لگے کہ پابندی تو مسئلے کا حل نہیں ہے۔ ہیں جی؟ کیا کہا؟ پابندیاں مسائل کا حل نہیں؟ لیکن کچھ دیر پہلے تو آپ حضرات کچھ اور ہی فرما رہے تھے۔ یہ اچانک یوٹرن میرے سادہ سے دماغ کے لیے اتنا پیچیدہ معمہ تھا کہ اس کے بعد آدھا گھنٹہ میں اسی کو سمجھنے کی کوشش کرتا رہا کہ یہ کیا کہہ کر گئے ہیں، اور ایسی کون سی منطق ہوتی ہے کہ جس کے تحت دوسروں کے معاملے میں ہر قسم کے مسئلے کا حل ایک نئی پابندی ہو جبکہ اپنے معاملے میں پابندی کسی بھی مسئلے کا حل نہ ہو۔ کہیں یہ وہی منطق تو نہیں جسے منافقت کہتے ہیں؟ o_O

ہفتہ، 9 نومبر، 2013

کوئک ریبوٹ

آپ کی خواہش ہوتی ہے سب سے اوپر جانے کی۔ دنیا کا بہترین اور عظیم ترین انسان بننے کی۔ اس کے لیے آپ خود پر کئی جبر کرتے ہیں۔ اپنی چھوٹی بڑی خواہشات کا گلا گھونٹتے ہیں۔ کئی طرح کی تکالیف خوشی خوشی اٹھا لیتے ہیں۔ آپ خوش ہوتے ہیں کہ یہ تمام سختی برداشت کرنا آپ کو اپنی منزل کے قریب تر کر رہا ہے۔
لیکن یہ سلسلہ ہمیشہ ایسا ہی تو نہیں چل سکتا۔ کبھی کبھار پچھتاوا آپ کو ہر طرف سے گھیرنے لگتا ہے۔ خود کو محروم رکھنے کا پچھتاوا۔ خود کو تکلیف میں ڈالنے کا پچھتاوا۔ اتنا زیادہ بوجھ اٹھانے کا پچھتاوا۔ آپ خود سے سوال کرنے لگتے ہیں کہ آخر اس سب کا فائدہ کیا ہے؟ ایک ہدف جو نہ جانے حاصل ہو بھی سکتا ہے یا نہیں، کیا اس قابل ہے کہ اس کے لیے اپنی جھولی کو کنکروں سے بھر لیا جائے؟ آپ کو افسوس ہونے لگتا ہے بہت کچھ کھو دینے کا۔۔۔ ان چھوٹی چھوٹی خوشیوں کا جنہیں آپ کبھی محسوس نہ کر پائے۔ ان ہنستے مسکراتے لمحات کا جو آپ کو چھوئے بغیر گزر گئے۔ اس وقت کا جو آپ دوسروں کی طرح زندگی کا مزا لیتے گزار سکتے تھے لیکن آپ نے کھو دیا۔
لیکن کیا کیا جائے۔ جو سودا کیا تھا، اس کی قیمت تو ادا کرنی ہی پڑے گی۔ چنانچہ آپ خود کو تسلی دیتے ہیں۔ یہ سوچتے ہوئے کہ ایک عام زندگی تو بہت سے لوگ گزار کر چلے جاتے ہیں۔ مزا تو تب آئے جب اپنی زندگی کو خاص بنایا جائے۔ کوئی شمع جلائی جائے، کوئی خوشیاں بکھیری جائیں، کوئی اچھا فرق پیدا کیا جائے۔ اب ایسی خاص زندگی مفت میں تو حاصل ہونے سے رہی۔
چنانچہ اپنے مزاج کو "ریبوٹ" کر کے آپ ایک بار پھر سے اپنی زندگی کو خاص بنانے کے سفر پر چل پڑتے ہیں، ایک بھاری قیمت چکانے کے لیے خود کو تیار کرتے ہوئے۔۔۔

ہفتہ، 5 اکتوبر، 2013

الٹی منطقِ مقابلہ

ذرا سوچیے کہ ایک جگہ دو فریقوں میں کسی بھی نوعیت کا مقابلہ ہے۔ چاہے وہ مارکیٹ ہو یا جنگ کا میدان۔ ان میں سے ایک فریق مسلسل اپنی صلاحیت کو بڑھاتا رہتا ہے۔ جبکہ دوسرا فریق اس کے جواب میں اپنی صلاحیت مزید گھٹاتا رہتا ہے۔ ان دونوں میں سے کس کی جیت کا امکان زیادہ ہوگا؟
آپ بھی پوچھیں گے کہ یہ کیا احمقانہ سوال پوچھ رہا ہے۔ بھلا اس بات کی بھی کوئی تک بنتی ہے کہ کوئی بندہ اپنے حریف کے مقابلے میں اپنی صلاحیت کو بڑھانے کے بجائے گھٹائے؟ لیکن افسوس کہ یہی احمقانہ سوچ آج کل ہمارے معاشرے پر حاوی ہے۔ خواہ وہ ہمارے کاروباری لوگ ہوں، مذہبی طبقے کے بعض عناصر ہوں یا حکومتی سیکیورٹی ادارے۔ کسی کو یہ فکر ہے کہ ملٹی نیشنل کمپنیاں ملک کی مارکیٹ پر حاوی ہیں تو چلو ان پر ہی پابندی لگا دینی چاہیے (بجائے اس کے کہ مقامی صنعت کو بہتر بنانے پر توجہ دی جائے)۔ کسی کو یہ ٹینشن ہے کہ انٹرنیٹ پر کفر و الحاد کا غلبہ ہے تو چلو بجائے اس کا مقابلہ کرنے کے انٹرنیٹ کو ہی شیطانی چرخہ قرار دے دو۔ اور کسی کی یہ سوچ ہے کہ چونکہ کوئی بھی مواصلاتی نظام دہشت گرد بھی استعمال کر سکتے ہیں تو بنیادی ٹیلیفونی کے علاوہ فوری مواصلات کے تمام ذرائع ہی بند کر دو (بجائے اپنی انٹیلیجنس کا نظام بہتر بنانے کے)۔
ان تمام مثالوں میں یہ رویہ بالکل واضح ہے۔
جن کا کام اپنی صنعت کو بہتر بنانا ہے، وہ اپنی صنعت کو کمزور رکھتے ہوئے ہی ایک طاقت ور حریف کو باہر نکالنا چاہتے ہیں۔ بہتر مصنوعات کے ذریعے گاہک کے دل میں جگہ بنانے کے بجائے وہی گھٹیا چیز اسے زبردستی بیچنا چاہتے ہیں۔
جن کا کام دنیا کے کونے کونے میں دین کا پیغام پہنچانا ہے، وہ اپنا دائرہ محدود کر کے سوچتے ہیں کہ شاید اس طرح کفر و الحاد کا غلبہ کم ہو جائے گا۔ ان کا حریف گھر گھر تک اپنے نظریات کی رسائی پر کام کر رہا ہے جبکہ وہ چاہتے ہیں کہ لوگ ان تک خود چل کر آئیں۔
جن کا کام ملک کی اور ملک کے لوگوں کی حفاظت کرنا ہے، وہ خود آرام سے بیٹھے ہیں جبکہ ان کے حریف مسلسل اپنی استعداد کار میں اضافہ کرتے جا رہے ہیں۔ بجائے اس کے کہ حریف کے مقابلے میں اپنا نظام بہتر بنایا جائے اور اپنی صلاحیت بڑھائی جائے، یہ صرف مواصلاتی نظام بند کر دیتے ہیں جس سے ان کو تو تکلیف ہوتی ہی ہے جن کی حفاظت کے یہ ذمہ دار ہیں، ساتھ ساتھ ان کی اپنی استعداد کار بھی مزید کم ہو جاتی ہے۔ اگر یہی سلسلہ چلتا رہا تو کوئی بعید نہیں کہ ایک دن ہم سب اپنے گھروں تک ہی محدود ہو جائیں اور کرفیو ہر شہر میں روز کا معمول بن جائیں۔
یہ صرف تین مثالیں ہیں۔ اس کے علاوہ بھی اگر آپ غور کریں تو یہ رویہ جا بجا نظر آئے گا۔ ایسے سکول جہاں کمپیوٹر کو کینسر سمجھا جاتا ہے، ایسے والدین جو اپنی اولاد کو باہر کے ماحول کے مقابلے کے قابل بنانے کے بجائے ان کا باہر نکلنا ہی بند کر دیتے ہیں، ایسے دفاتر جہاں کے نیٹ ورکس پر بنیادی ضرورت کی چیزیں بھی بند کر دی جاتی ہیں، غرض اکثر جگہ صاحبِ اختیار شخص کو ہر مسئلے کا حل ایک نئی پابندی کی صورت میں نظر آتا ہے۔ یہ پابندیاں مختصر مدتی پیمانے پر تو شاید تھوڑا بہت فائدہ پہنچانے کا تاثر دیتی ہوں، لیکن طویل مدتی پیمانے پر بے جا پابندیوں کا استعمال نہ صرف غیر مفید، بلکہ اکثر معاملات میں انتہائی نقصان دہ بھی ہوتا ہے۔ اور ویسے بھی، اگر اتنے بڑے ہو کر اور اتنے اختیارات والی جگہ پہنچ کر بھی کسی کو ذمہ داری اٹھانا نہیں آتا، تو اسے یا تو "بڑا ہو جانا" چاہیے، یا پھر وہ ذمہ داری ہی کسی ایسے شخص کے حوالے کر دینی چاہیے جو اس کام کے لیے زیادہ اہل ہو۔

پیر، 26 اگست، 2013

فیسبک سے آزادی کے سفر پر

میرے اکثر دوست جانتے ہیں کہ میں فیسبک سے شدید تنگ رہا ہوں اور آج صبح ہی میں نے اپنا فیسبک کھاتہ بند (ڈی ایکٹیویٹ) کیا ہے۔ یہاں پر میں اس موضوع پر بحث نہیں کرنا چاہتا کہ میں نے فیسبک چھوڑنے کا فیصلہ کیوں کیا۔ جنہیں زیادہ تجسس ہے، انہیں اشارے کے لیے اس ربط پر شور کے متعلق موجود یہ مضمون پڑھنے کا مشورہ دوں گا۔
فی الحال میں صرف ان ساتھیوں کے لیے ایک روڈمیپ پیش کرنا چاہوں گا جو میرے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے زندانِ فیسبک سے نجات حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
تو جناب، پہلے مرحلے کا سب سے پہلا حصہ ہوتا ہے یہ فیصلہ کرنا کہ آیا آپ کو واقعی فیسبک کی ضرورت ہے یا یہ آپ کے لیے صرف ایک ایسی غیر اہم آسائش ہے جس کا کام زندگی کو مزید پیچیدہ بنانے کے سوا اور کچھ نہیں۔ اپنے آپ سے سوال پوچھیں کہ کیا فیسبک آپ کی ضرورت ہے اور کیا اس سے الگ ہونے پر آپ کو یا کسی اور کو نقصان پہنچے گا؟ اس سوال کا جواب پاتے پاتے آپ کو ایک طویل عرصہ بھی لگ سکتا ہے۔
جب آپ اس نتیجے پر پہنچ جائیں کہ فیسبک سے آپ کو کوئی ایسا فائدہ نہیں ہو رہا جس کا آپ کے پاس کوئی بہتر متبادل نہ ہو تو اگلا مرحلہ ہوتا ہے اہم دوستوں سے متبادل رابطے کی معلومات جمع کرنا۔ کیونکہ فیسبک پر آپ کو روکے رکھنے کی سب سے بڑی وجہ تو یہی لوگ ہیں۔ متبادل رابطے کے لیے آپ ان کا ای میل ایڈریس، فون نمبر یا کوئی انسٹنٹ میسجنگ آئی ڈی لے سکتے ہیں۔ اس کام میں کئی دن لگ سکتے ہیں۔
اس کے بعد اگلا کام ہوتا ہے اپنے ڈیٹا کا بیک اپ ڈاؤن لوڈ کرنا جو آپ کو (فیسبک کے موجودہ انٹرفیس میں) اکاؤنٹ سیٹنگ میں جنرل کے ٹیب میں مل جائے گا۔ یہ خیال رہے کہ یہ آپ کے تمام ڈیٹا کا مکمل بیک اپ نہیں ہوتا۔ لیکن جو بھی ملتا ہے، فیسبک والوں کا احسان سمجھ کر ڈاؤن لوڈ کر لیں۔
جب یہ کام بھی ہو جائے تو اگلا فیصلہ یہ کرنا ہوتا ہے کہ آپ اپنے فیسبک کھاتے کو صرف ڈی ایکٹیویٹ کرنا چاہتے ہیں یا مکمل طور پر ڈیلیٹ۔ چونکہ آپ فیسبک سے جان چھڑانا چاہتے ہیں تو غالب امکان ہے کہ مکمل طور پر ڈیلیٹ کرنا ہی آپ کا فیصلہ ہوگا، لیکن اس سے پہلے احتیاطی تدبیر کے طور پر کچھ عرصہ صرف ڈی ایکٹیویٹ کر کے دیکھ لیں کیونکہ ہو سکتا ہے کہ اس دوران آپ کو خیال آئے کہ فلاں جگہ سے کچھ ڈیٹا اٹھانا باقی تھا یا فلاں شخص سے رابطے کی معلومات نہیں لیں۔ یہ کچھ عرصہ کافی اعصاب شکن ہوگا کیونکہ آپ کو رہ رہ کر خیال آئے گا کہ چلو تھوڑا سا فیسبک میں جھانک آئیں۔ اب پرانی عادتیں اتنی آسانی سے تو جان نہیں چھوڑتیں نا۔ اس عرصے میں خود پر خوب قابو رکھیں اور فارغ وقت کو تعمیری انداز سے استعمال کرنے کے اپنے آپشنز پر غور کریں۔ ایک دو ماہ تک تسلی ہو جانے کے بعد مزے سے اکاؤنٹ مستقل ڈیلیٹ کر دیں (اگر یہی آپ کا فیصلہ تھا)۔
مبارک ہو! آپ زندانِ فیسبک سے باہر نکل آئے ہیں۔ لیکن ابھی زیادہ خوش ہونے کی ضرورت نہیں۔ فیسبک سے باہر نکلنا محض پہلا مرحلہ تھا۔ ابھی ایک اور مشکل مرحلہ باقی ہے اس سے فارغ ہونے والے وقت کو کسی تعمیری استعمال میں خرچ کرنے کا۔ فیسبک سے نکلنے کے بعد خود کو کسی نئے کھڈے میں نہ گرا لینا۔ اپنے وقت کا خوب سوچ سمجھ کر استعمال کرنا!
میں نے اس سلسلے میں یہ سوچا ہے کہ اب ایسی جگہوں سے پرہیز کرنا ہے جہاں اچھا برا سب ایک ساتھ، بغیر کسی ترتیب و تنظیم کے، قاری کے منہ پر دے مارا جاتا ہے کہ اب اس میں سے اپنے کام کی چیز خود الگ کرو۔ کتابوں کے ساتھ اپنی دوستی پھر سے جوڑنی ہے۔ اپنی آن لائن سرگرمی کے دوران ان ویب سائٹس کا استعمال زیادہ کرنا ہے جن پر ہونے والی گفتگو میری پسند کے موضوعات تک ہی محدود رہتی ہے یا کم از کم ہر قسم کی گفتگو کے لیے الگ الگ زمرے بنے ہیں، جہاں کا مجموعی مزاج تحقیقی ہے، اور جہاں لوگ باقی دنیا کے شور شرابے سے الگ تھلگ بیٹھ کر اپنی ذاتی ترقی اور اپنی دنیا کی بہتری کے لیے کام کرتے رہتے ہیں۔
دعاؤں کی درخواست۔۔۔

اتوار، 25 اگست، 2013

ایک تھا پاکستان

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک علاقے میں ایک قوم کے لوگ کچھ دوسری قوموں کے زیرِ تسلط رہ رہے تھے۔ جب زندگی گزارنا انتہائی دشوار ہو گیا تو انہوں نے خدا سے ایک ڈیل کی۔ کہ اگر خدا ان کو ایک ٹکڑا زمین پر ایسا دے دے جس پر وہ آزادی سے زندگی گزار سکیں تو وہ لوگ وہاں پر خدا کی مرضی کا نظام قائم کریں گے۔
زمین کا ٹکڑا انہیں مل گیا۔ کچھ عرصہ انہوں نے اپنا وعدہ یاد رکھا۔ خدا کی مرضی کا نظام لاگو کرنے کے لیے خوب محنت کی۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کا جذبہ کم پڑتا گیا۔ اور وہ اپنا وعدہ بھول کر دنیا کی غیر اہم آسائشوں کی دوڑ میں لگ پڑے، جس نے انہیں اتنا مفلس بنا دیا کہ ان کو جان کے لالے پڑ گئے جس سے گھبرا کر انہوں نے نئے خدا بنا لیے اور اپنے حقیقی خدا کو فراموش کر دیا۔
آج وہ اپنے بنائے چھوٹے موٹے خداؤں سے دھکے، ٹھڈے اور ماریں بھی کھاتے ہیں لیکن ذلیل ہونے اور کچھ فائدہ نہ پانے کے باوجود انہی جھوٹے خداؤں کے دروں پر بیٹھے ہیں۔
کیا یہ بہتر نہ ہوگا کہ وہ اپنے حقیقی خدا کی طرف ہی لوٹ آئیں جو اکیلا ہی ان سب چھوٹے چھوٹے جھوٹے خداؤں کے چھکے چھڑا دینے کے لیے کافی ہے، وہ وعدہ پورا کریں جو ایک صدی سے بھی زیادہ پہلے کیا تھا، اور پھر اپنے حقیقی خدا کی مدد و نصرت کے ساتھ ایک پروقار زندگی گزاریں؟