منگل, مارچ 23, 2010

ماحول کے تحفظ کے تین R۔

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔


کل "ماحولیات گردی" کے دوران ایک عمدہ مضمون ملا۔ سوچا کہ ترجمہ کر کے یہاں لگا دوں۔ پورا سو فیصد مضمون تو ترجمہ نہیں کیا۔ جو نکات مجھ سے رہ گئے ہیں وہ یہاں پر دیکھ لیں۔


http://kids.niehs.nih.gov/recycle.htm


مضمون کچرے کی مقدار کم کر کے ماحول کی حفاظت کے متعلق ہے۔ اس میں ماحول کے تحفظ کے تین "R's" کا ذکر کیا گیا ہے۔


یہ تین R ہیں:


Reduce


Reuse


Recycle


پہلا R۔


Reduce


تھوڑے وسائل استعمال کرنا۔ صرف اتنے جن کی ضرورت ہو۔ نتیجے میں کچرا کم پیدا ہوگا۔


اس پر عمل آپ ان مصنوعات کے انتخاب کے ذریعے کر سکتے ہیں جن میں ناقابلِ استعمال حصہ کم ہو اور وہ زیادہ کچرا پیدا کرنے کا سبب نہ بنیں۔


سب سے پہلے تو مختلف مصنوعات کی خریداری اور استعمال میں کمی لائیں۔ صرف وہی سامان خریدیں جس کی آپ کو ضرورت ہے اور جو سامان خریدیں، اس کو سارے کا سارا استعمال کریں۔ ورنہ کسی اور کی طرف بڑھا دیں جو اس سے فائدہ اٹھا سکے۔ یہ خاص طور پر ان مصنوعات کے معاملے میں بہت اہم ہو جاتا ہے جنکو تلف کرنا مشکل یا ماحول کے لیے نقصان دہ ہوتا ہے، مثلاً پینٹ، کیڑے مار دوائیں اور دیگر کیمیکلز۔


خریداری کے دوران ان مصنوعات کا انتخاب کریں جن کی پیکجنگ میں بہت زیادہ اصراف سے کام نہ لیا گیا ہو۔ کیونکہ پیکجنگ کا کام بس اتنا ہوتا ہے کہ اس چیز کو محفوظ رکھے اور اس کے متعلق کچھ ضروری معلومات فراہم کرے۔ اس کے علاوہ اس کا کوئی اور کام نہیں ہوتا  چنانچہ سامان خریدنے کے بعد اس کی پیکجنگ کچرے کے بڑھتے ہوئے انبار میں جمع ہو جاتی ہے۔ چنانچہ ہمیشہ ایسی اشیاء کو ترجیح دیں جن کی پیکجنگ میں ضرورت سے زیادہ مواد کا استعمال نہ کیا گیا ہو۔


وہ اشیاء خریدیں جن کی پیکجنگ آسانی سے بازیافت (ریسائیکل) ہو سکتی ہو۔ شاندار پیکجنگ عموماً مہنگی پڑتی ہے، گاہک کو کوئی خاص فائدہ نہیں پہنچاتی، اور سب سے بڑی برائی یہ کہ کچرے کی مقدار میں اضافہ کر کے ماحول کو  نقصان پہنچاتی ہے۔ چنانچہ ہمیشہ ایسی مصنوعات کو ترجیح دیں جو سادہ اور آسانی سے بازیافت ہونے کے قابل پیکجنگ استعمال کرتی ہیں۔


صرف ایک بار قابلِ استعمال برتنوں سے حد درجہ گریز کریں (جیسے جوس اور دودھ کے ڈبے ہوتے ہیں)۔ جوس جیسی اشیاء خریدتے وقت آپ ایک بڑی قابلِ بازیافتگی بوتل یا کین میں جوس خرید کر اسے ضرورت کے تحت چھوٹی چھوٹی دوبارہ استعمال کے قابل بوتلوں وغیرہ میں بھر سکتے ہیں۔


بوتلوں میں بکنے والا پانی ضرورت کے بغیر نہ خریدیں۔ عام طور پر شہروں میں ملنے والا پانی صحت کے لیے بوتل کے پانی جتنا ہی اچھا ہوتا ہے، اس سے کہیں زیادہ سستا ملتا ہے، اور بہت سی صورتوں میں تو بوتل کے پانی سے زیادہ محفوظ بھی ہوتا ہے۔


روز مرہ کے استعمال کی اشیاء بڑے بڑے مجموعوں میں خریدنے سے آپ قابلِ استعمال سامان کا تناسب پیکجنگ کے مقابلے میں بڑھا سکتے ہیں۔ چینی، نمک اور مصالحوں جیسی اشیاء تو کھلی بھی بکتی ہیں جس کو آپ جتنی مقدار میں چاہیں، خرید سکتے ہیں۔ اور جو چیزیں صرف ڈبے میں بند ہی ملتی ہیں، مثلاً ٹوتھ پیسٹ، کپڑے دھونے کا پاؤڈر وغیرہ، ان کا سب سے بڑا ڈبہ خرید کر آپ نہ صرف کچرے کی مقدار کم کر کے ماحول کو فائدہ پہنچائیں گے، بلکہ اس طرح آپ کے وہ پیسے بھی بچیں گے جو بصورت دیگر پیکجنگ کی قیمت کے طور پر چلے جاتے۔


دکان کی طرف سے کوئی لفافہ تب تک نہ لیں جب تک ضرورت نہ ہو۔ اگر آپ نے صرف ایک دو اشیاء ہی خریدی ہیں تو انہیں ہاتھوں میں ہی لے جائیں۔ یا پھر گھر سے ہی ایک تھیلا لے کر جائیں جس میں سودا ڈال کر گھر لے آئیں۔ کپڑے کے تھیلے تو یہاں گھروں میں اب بھی ہوتے ہیں جو لوگ سودا خریدنے لے جاتے ہیں۔ پلاسٹک اور کاغذ کے تھیلے جو دکان سے آنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں، انہیں بھی دوبارہ استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اور جو پلاسٹک و کاغذ کے تھیلے اچھی حالت میں نہ رہیں، انہیں بازیافت کرنا نہ بھولیں۔


پائیدار اشیاء کو زیادہ سے زیادہ عرصہ استعمال کریں۔ فرنیچر، سائیکل، برقی آلات اور کھلونوں جیسی چیزیں کئی کئی سالوں تک استعمال ہو سکتی ہیں اور انہیں ہونا بھی چاہیے۔ ان چیزوں میں اگر کوئی خرابی آتی ہے تو انہیں پھینک دینے کے بجائے مرمت کر کے دوبارہ استعمال کے قابل بنائیں۔ یہ ماحول کے ساتھ ساتھ آپ کی جیب کے لیے بھی اچھا ہے۔


ڈسپوزیبل اشیاء کے بجائے پائیدار اشیاء استعمال کریں۔ مثلاً منہ اور ہاتھ پونچھنے کے لیے ٹشو پیپر کے بجائے (جو صرف ایک ہی بار استعمال کر کے پھینک دیا جاتا ہے) کپڑے کا رومال استعمال کریں۔ اسی طرح پلاسٹک کے ڈسپوزیبل برتنوں کی جگہ پائیدار برتنوں کا استعمال کریں۔


جہاں ممکن ہو،خطوط اور دیگر معلومات کے تبادلے کے لیے کاغذ کے بجائے انٹرنیٹ جیسے ذرائع کا استعمال کریں کیونکہ کاغذ کے زیادہ استعمال سے نہ صرف کچرا بڑھتا ہے، بلکہ کاغذ کی بڑھتی ہوئی مانگ کو پورا کرنے کے لیے درخت بھی زیادہ کاٹے جاتے ہیں۔


اگر آپ کے گھر میں کچھ خالی جگہ ہو تو وہاں ایک باغیچہ بنا لیں جہاں اپنی خوراک کا کچھ حصہ خود اگائیں۔ خود جو خوراک آپ اگائیں گے، اسے نہ تو پراسیس کرنے کی ضرورت پڑے گی، نہ اس کے لیے پیکجنگ کی ضرورت ہوگی اور نہ ہی اسے آپ تک پہنچانے میں رکازی ایندھن کا استعمال ہوگا۔


گھر کے کچرے کا کچھ حصہ آسانی سے گل کر مٹی کا حصہ بن سکتا ہے۔ مثلاً پھلوں اور سبزیوں کے چھلکے، کاغذ، پتے وغیرہ۔ ان اشیاء کو آپ ورمیکلچر کے ذریعے تیزی سے گلا کر اپنے باغیچے کی زرخیزی بڑھانے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔


دوسرا R۔


Reuse


کسی چیز کو استعمال کرنے کے بعد، اگر وہ مناسب حالت میں ہو، تو اسے پھینکنے کے بجائے آپ اسے دوبارہ استعمال کر سکتے ہیں۔ یا کسی اور شخص کو دے دیں جو اس سے فائدہ اٹھا سکے۔ کچھ مثالیں:


ریستوران وغیرہ میں ڈسپوزیبل پیالوں کے استعمال کے بجائے دھلنے کے قابل پیالے اپنے ساتھ لے جائیں۔ بہت سے ریستوران اور سٹور آپ کو خوشی خوشی آپ کے پیالے میں ہی مشروب بھر دیں گے۔


اگر کبھی آپ کو ڈسپوزیبل برتن یا خوراک ذخیرہ کرنے کے تھیلے استعمال کرنے بھی پڑیں تو انہیں پھینکنے کے بجائے دھو کر دوبارہ استعمال کریں۔ ان میں سے زیادہ تر کافی عرصہ تک بار بار استعمال ہو سکیں گے۔ اگرچہ ان اشیاء کو نئے سرے سے بنانے پر زیادہ خرچ نہیں آتا، لیکن ان کو یوں ہی پھینک دینا اتنا ہی دانش مندی کا کام ہوگا جتنا کہ اپنی بائیسکل کو صرف ایک بار استعمال کر کے پھینک دینا۔


اور بائیسکل کی بات ہوئی تو کیوں نہ اس کے (اور واشنگ مشین، ڈرائیر جیسی دیگر پائیدار چیزوں کے) ٹوٹنے یا خراب ہونے پر نئی چیز خریدنے کے بجائے اسی کو مرمت کر کے دوبارہ استعمال کے قابل بنایا جائے؟ نئی چیز ہمیشہ بہتر تو نہیں ہوتی، نہ ہی ہمیشہ ضروری ہوتی ہے۔ اس طرح آپ ماحول کو تو بہتر بنائیں گے ہی، ساتھ ہی آپ کی جیب بھی آپ کی شکر گزار ہوگی۔


اور اگر کبھی آپ کو کسی دوبارہ قابلِ استعمال چیز کی ضرورت نہیں رہتی یا آپ اس کی جگہ نئی چیز لانے کا فیصلہ کر ہی لیتے ہیں تو اسے یوں ہی پھینک دینے کے بجائے ضروری مرمت کر کے خیرات میں بھی دیا جا سکتا ہے۔


اگر گھر میں بہت سی غیر مستعمل چیزیں پڑی ہوں تو ان کی سیل بھی لگائی جا سکتی ہے۔ اور اگر ممکن ہو تو ہمسایوں کو بھی ساتھ شرکت کی دعوت دیں۔ اس سے نہ صرف کام کا بوجھ تقسیم ہوگا بلکہ ایسی غیر مستعمل چیزوں کی تعداد بھی بڑھے گی جو اس سیل کے ذریعے دوبارہ کسی کے استعمال میں لائی جا سکیں گی۔


جب کوئی سامان خریدنے کی ضرورت پڑے تو نئی چیز خریدنے سے پہلے دیکھیں کہ شاید کہیں پر استعمال شدہ چیزوں کی دکانوں یا کسی ایسی ہی سیل میں آپ کے مطلب کی چیز دستیاب ہو۔


تحائف دینے کے لیے کپڑے کے بنے ہوئے تھیلے استعمال کریں اور تحائف پر جو سجاوٹ کا کاغذ لگا ہوتا ہے، اسے پھاڑیں نہیں۔ اگر آپ اسے احتیاط سے اتاریں تو اسے دوبارہ بھی استعمال کیا جا سکتا ہے اور اس میں کوئی برائی نہیں ہے۔ اور خریداری کے لیے جاتے وقت کپڑے یا کینوس کے تھیلے ساتھ لینا نہ بھولیں تاکہ آپ کو دکان پر سے ایک اور پلاسٹک یا کاغذ کا تھیلا نہ لانا پڑے۔


کاغذی نیپکن کے بجائے کپڑے کے بنے نیپکن استعمال کریں جو کہ دھو کر دوبارہ استعمال کیے جا سکتے ہیں۔


بچوں کے لیے ڈسپوزیبل ڈائپر کے بجائے دھلنے کے قابل کپڑے سے بنے ہوئے ڈائپر استعمال کریں۔ اگر ان پر ویلکرو (چپک پٹی) لگا ہو تو یہ بھی ڈسپوزیبل ڈائپر جتنے ہی باسہولت اور اس سے کہیں زیادہ سستے پڑیں گے۔


تیسرا R۔


Recycle


بازیافتگی کے عمل میں آپ دوبارہ استعمال کے قابل کسی چیز کو یوں ہی پھینک دینے کے بجائے کسی ایسی جگہ بھیجتے ہیں جہاں اس سے یا تو ویسی ہی یا کسی اور نوعیت کی نئی اشیاء بنائی جاتی ہیں۔ اس طرح نئی اشیاء کی تیاری میں کم توانائی اور دیگر وسائل کا استعمال ہوتا ہے بنسبت ان کو بالکل نئے سرے سے بنانے کے۔


آپ کے گھر میں موجود تقریباً ہر ایسی چیز کو، جو اسی شکل میں دوبارہ استعمال نہیں ہو سکتی، بازیافتگی کے ذریعے کسی اور چیز میں ڈھالا جا سکتا ہے۔ آپ اگر غور کریں تو حیران رہ جائیں گے کہ بازیافت شدہ مواد سے کیا کیا بنایا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر ایک پلاسٹک کی بوتل سے حاصل ہونے والا مواد ٹی شرٹ، کنگھی اور پلاسٹک کی کئی دوسری اشیاء میں استعمال ہو سکتا ہے جو کہ پھر کئی کئی سالوں تک چل سکتی ہیں۔ یہاں تک کہ آپ کا بالکل نیا اور شان دار کمپیوٹر کیس بھی عام بازیافت شدہ پلاسٹک کا بنا ہوا ہو سکتا ہے۔ اور اسی طرح کاغذ کی مصنوعات بھی مختلف اشکال اختیار کر سکتی ہیں۔ کوئی پرانی فون بک بازیافت ہو کر آپ کی نوٹ بک بن سکتی ہے یا وہ بازیافت شدہ کاغذ کسی اور کتاب میں استعمال ہو سکتا ہے۔


آپ کا کام سادہ ہے۔
کوئی بھی ایسی چیز بے کار نہ پھینکیں جس کی بازیافتگی ممکن ہے۔




یہ کچھ ایسی چیزوں کی فہرست ہے جنہیں ہمیشہ بازیافت (یا دوبارہ استعمال) کرنا چاہیے۔


تیزاب پر مشتمل بیٹریاں، ایلومینیم کے کین، تعمیراتی سامان، گتا، کیمیکلز، برقی آلات، شیشہ (خصوصاً بوتلیں اور مرتبان)، سیسہ، رسائل، دھات، اخبار، تیل، پینٹ، کاغذ، پلاسٹک کے تھیلے، پلاسٹک کی بوتلیں، سٹیل کے کین، ٹائر، لکڑی، گھر کا کچرا۔


ان میں سے کچھ اشیاء کی بازیافتگی میں خصوصی احتیاط اور مخصوص مقامات کی ضرورت ہوگی۔ ان معلومات کے لیے اپنے مقامی بازیافتگی کے مرکز سے رابطہ کریں (کاش پاکستان میں بھی ایسے مراکز ہوتے)۔


تو آپ نے دیکھا کہ یہ کتنا آسان ہے۔ اتنی کم محنت میں آپ اپنے ماحول کی حفاظت کے لیے اتنا کچھ کر سکتے ہیں۔ اور زبردست بات یہ کہ اس عمل کے دوران آپ بہت سی رقم بھی بچا لیں گے۔

1 تبصرہ:

  1. آپ کی باتیں قابلِ غور ہیں۔ کفایت شعاری اس وقت نہایت ضروری ہے۔ معلوماتی تحریر کیلیے شکریہ

    جواب دیںحذف کریں