پیر، 28 مارچ، 2011

ہر اک شخص کو ورلڈ کپ ہو گیا ہے

بچپن میں، بچوں کے ایک رسالے میں، "ورلڈ کپ" کے عنوان سے یہ نظم دیکھی تھی۔ شاعر کا نام یاد نہیں۔ شاید "انوکھی کہانیاں" کا 1992ء یا 1996ء کا شمارہ تھا۔ بس نظم ہی یاد ہے، چنانچہ اسی پر گزارہ کیجیے۔


ورلڈ کپ

جو کل تک الل تھا وہ ٹپ ہو گیا ہے
جو مرغا تھا پورا ہڑپ ہو گیا ہے
جو اوور ملا تھا وہ اپ ہو گیا ہے
ہر اک شخص کو ورلڈ کپ ہو گیا ہے

جو افسر تھا جا بیٹھا ٹی وی کے آگے
تو ماتحت چھٹی سے پہلے ہی بھاگے
کہ تھے صبح دم نو بجے کے وہ جاگے
سو دفتر کا دفتر ہی ٹھپ ہو گیا ہے
ہر اک شخص کو ورلڈ کپ ہو گیا ہے

جو گاہک نے پوچھا ٹماٹر کا بھاؤ
تو بوڑھا پکارا ارے جاؤ جاؤ!
ابھی ایک دو روز کچھ مت پکاؤ
کہ سبزی کو بھی ورلڈ کپ ہو گیا ہے

جو ٹیچر نے پوچھا کہاں پر ہے یکہ
تو شاگرد بولا کہ چھکے پہ چھکا
نہ یوں مفت میں آپ ہوں ہکا بکا
پڑھائی کا اوور بھی اپ ہو گیا ہے
ہر اک شخص کو ورلڈ کپ ہو گیا ہے

اتوار، 6 فروری، 2011

کوشش: خواہش کی شدت کو ناپنے کا ایک پیمانہ

دو چار دن پہلے کی بات ہے۔ چھوٹا بھائی فیس بک چلا کر بیٹھا تھا اور میں بھی کمپیوٹر کے فارغ ہونے کے انتظار میں پاس ہی کھڑا تھا۔ اچانک ایک گروپ کے نام پر نظر پڑی۔
We want change for Pakistan
دیکھتے ہی اگلا جملہ جو میرے ذہن میں آیا، وہ یہ تھا۔
But we won’t change for Pakistan.
اور بے اختیار ہنسی آ گئی۔ کہنے کو تو یہ محض ایک اتفاق تھا لیکن مجھے بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر گیا۔
اگر غور کیا جائے تو یہ جملہ انقلاب انقلاب کے خالی خولی نعرے لگانے والوں کی حقیقی عکاسی کرتا ہے۔ بظاہر تو یہ اور اس جیسے درجنوں گروپس تبدیلی کی خواہش کا اظہار کرتے ہیں لیکن لگتا نہیں کہ ان لوگوں میں واقعی تبدیلی کی خواہش موجود ہے۔ یا کم از کم اتنی شدید خواہش نہیں جس کا یہ اظہار کرتے ہیں۔
کیونکہ جس شخص میں اتنی شدید خواہش ہو، وہ اس خواہش کو پورا کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرتا ہے۔ کسی رکاوٹ یا مشکل کی پروا نہیں کرتا۔ اس کے لیے کسی بہانے کی کوئی حیثیت نہیں رہ جاتی۔ اس کے لیے منزل کی طرف جانے والا ہر قدم اہم ہوتا ہے چاہے چھوٹا ہو یا بڑا۔ وہ یہ نہیں کہتا کہ “چھوٹے قدم سے کیا ہوگا؟ میں تو صرف بڑے بڑے قدم ہی اٹھاؤں گا۔” گرے تو دوبارہ اٹھتا ہے۔ پھر سے قدم بڑھاتا ہے۔ ایسا نہیں کہتا کہ “سارا سسٹم ہی خراب ہے۔ یہاں کیسے تبدیلی آئے گی!” وہ جانتا ہے کہ سسٹم خراب ہے تبھی تو اس میں تبدیلی ناگزیر ہے۔ وہ کسی کا انتظار بھی نہیں کرتا کہ وہ آ کر سب ٹھیک کرے گا۔ اس کے دل میں جو شدید خواہش ہوتی ہے، وہ اسے انتظار کرنے ہی نہیں دیتی۔
ایسا شخص نعرے نہیں لگایا کرتا۔ اس کے پاس لمبی چوڑی تقاریر کے لیے وقت نہیں ہوتا۔ وہ فیس بک پر ایسے گروپ بنا کر فضول بحث میں الجھے رہنے کو وقت کا ضیاع سمجھتا ہے۔ جہاں سے جتنا بھی وقت ملتا ہے، اسے منزل کی طرف ایک اور قدم بڑھانے میں استعمال کرتا ہے۔
ایسے گروپس وغیرہ میں الجھے رہنے والوں سے گزارش ہے کہ کچھ دیر کو اپنا تجزیہ کریں اور خود سے پوچھیں کہ کیا واقعی ان کے دل میں تبدیلی کے لیے اتنی خواہش ہے جس کا وہ دعویٰ کرتے ہیں؟
میں یہ نہیں کہتا کہ ان گروپس کا سرے سے کوئی فائدہ ہی نہیں ہے۔ فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ وہ یوں کہ ان پر خالی خولی اشعار، ویڈیوز اور تقاریر پوسٹ کرنے کے بجائے عملی کاموں کی منصوبہ بندی کے لیے ان کا استعمال کیا جائے۔ کل میں یہ ویب سائٹ دیکھ رہا تھا جہاں طلبائے علم اپنے لیے کوئی مشن چنتے ہیں اور پھر اس کام کو ریکارڈ کر کے دوسروں کے لیے پیش کرتے ہیں۔
اس طرح کا کوئی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ یا کوئی ایسا مفید کام جس میں ایک سے زائد لوگوں کی ضرورت پڑتی ہو، اس کے لیے لوگوں کو منظم کرنے کا کام لیا جا سکتا ہے۔
اصل نکتہ یہ ہے کہ باتیں کم، اور کام زیادہ کیا جائے۔ اور ٹیکنالوجی کو صرف وقت گزاری کے بجائے کسی مفید کام کے لیے استعمال کیا جائے۔ تبھی تبدیلی آ سکتی ہے۔ ورنہ صرف تبدیلی کی خواہش کا اظہار کرتے رہنا اور اسے پورا کرنے کے لیے چھوٹا سا قدم بھی نہ اٹھانا تو اس بات کی علامت ہے کہ یا آپ میں تبدیلی کی خواہش ہے ہی نہیں، یا پھر اتنی کمزور ہے کہ تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے۔ یعنی آپ جھوٹ بول رہے ہیں اور نہ صرف دوسروں کے ساتھ، بلکہ شاید خود اپنے ساتھ بھی دھوکہ کر رہے ہیں۔

بدھ، 26 جنوری، 2011

فیسبکیوں کے نام ایک پیغام، ایک تجویز

میرے عزیز فیسبکیے دوستو! السلام علیکم۔

تم کو یاد ہوگا جب فیسبک انتظامیہ کے ڈرا محمد پیج کو ہٹانے سے انکار پر فیسبک کے بائیکاٹ کی باتیں ہو رہی تھیں تو تم میں سے کچھ نے کہا تھا کہ مسلمانوں کے فیسبک سے بالکل غائب ہونے پر ان کی نمائندگی ختم ہو جائے گی جس سے ایسی حرکات کا راستہ روکنا اور بھی مشکل ہو جائے گا۔ تب مجھے اس بات میں وزن نظر آیا چنانچہ میں اپنا کھاتہ حذف کرنے سے رک گیا۔ صرف استعمال بند کر دیا کہ بعد میں جو صورتِ حال پیدا ہوگی، اس کی مناسبت سے فیصلہ کروں گا۔

جب بائیکاٹ والی بات کو کچھ عرصہ گزر گیا تو میں نے دیکھنے کا فیصلہ کیا کہ کیا صورتِ حال ہے۔ اور مجھے یہ دیکھ کر بہت مایوسی ہوئی کہ جو لوگ "مسلمانوں کی نمائندگی" کے نام پر فیسبک پر رہ گئے تھے (اور جو صبر کا دامن چھوڑ کر واپس آ گئے تھے)، ان کی اکثریت کوئی بھی ایسا کام نہیں کر رہی تھی جس سے واقعی مسلمانوں کی نمائندگی ہو۔ بلکہ ایک بڑی تعداد تو اس کا بالکل متضاد کرتی نظر آئی۔ یہ دیکھ کر مجھے بہت مایوسی ہوئی۔ لیکن ابھی بھی میں کھاتہ مستقل طور پر حذف کرنے کے بارے میں تذبذب کا شکار تھا۔

پھر کچھ مزید دن گزرے اور میں نے یہ ویڈیو دیکھی جس میں ایک نومسلم اپنے مسلمان ہونے کا قصہ سنانے کے بعد اپنے اڑوس پڑوس میں رہنے والے مسلمانوں سے اس بات کا شکوہ کر رہا تھا کہ ان کے پاس اس کے سوال کا جواب تھا لیکن انہوں نے کبھی اسے اس کی بھنک بھی نہیں پڑنے دی۔

http://www.youtube.com/watch?v=IYMKQKSV0bY

اسے دیکھنے کے بعد مجھے خیال آیا کہ ہم لوگ سوشل نیٹورکنگ کو تبلیغ، یا کم از کم غیر مسلموں کی اسلام میں دلچسپی پیدا کرنے کے لیے تو استعمال کر سکتے ہیں۔

لیکن فی الحال میں نے جن لوگوں کو اس کام کی کوشش کرتے دیکھا ہے، ان میں اکثر کوئی خاص کامیاب ہوتے نظر نہیں آئے۔ کچھ لوگ غیر مسلموں کو خوش کرنے کے چکر میں اسلام کا حلیہ ہی توڑ مروڑ کر کچھ اس انداز میں پیش کرتے ہیں کہ ان کے لیے اس کے بارے میں مزید جاننے کی کوئی وجہ نہیں رہ جاتی۔ کچھ لوگ معذرت خواہانہ رویہ استعمال کرتے ہیں جیسے ان کا مسلمان ہونا کوئی بڑی غلطی ہو۔ جبکہ کچھ لوگ ان سے بات بات پر مناظرے شروع کر دیتے ہیں جس سے غیر مسلم دفاعی رویہ اختیار کرتے ہوئے اپنے مؤقف پر اس سختی سے جم جاتے ہیں کہ ان کی کسی بھی بات کو توجہ سے نہیں سنتے۔ ان کی یہ کوشش ہو جاتی ہے کہ کسی بھی قیمت پر مخالف کی ہر بات کو رد کیا جائے۔

میرے ذہن میں کچھ اس قسم کا نقشہ ہے۔

مثال کے طور پر جو لوگ فیس بک استعمال کرتے ہیں، ایک یا ایک سے زائد غیر مسلموں کو اپنے دوستوں میں شامل کر لیں۔  ہر ہفتہ ڈیڑھ ہفتہ بعد کوئی آیت یا کوئی حدیث ایسی چن کر اپنے سٹیٹس میں لگا دیں جس کا تعلق بنیادی اخلاق سے ہو۔ چونکہ ہم یہ ان لوگوں کو دکھانے کے لیے لگا رہے ہیں جن کو اسلام کے متعلق کچھ بھی معلوم نہیں، اس لیے بنیادی باتوں سے ابتداء کرنا ہی درست ہوگا (اور اس میں لمبی بحث چھڑنے کا خطرہ بھی کم ہوگا)۔ مثلاً جو آیات یا احادیث معاشرتی معاملات کے متعلق ہیں، خوش اخلاقی کا درس، جھوٹ سے پرہیز وغیرہ۔ میں فل ٹائم مبلغ بننے کی بات نہیں کر رہا۔ بس اپنی معمول کی سرگرمیوں کے دوران تھوڑا سا وقت ادھر لگا دیا کریں۔ اس طرح انہیں یہ بھی محسوس نہیں ہوگا کہ "اوہو! یہ تو تبلیغی پیچھے پڑ گئے"۔ :)

کبھی کبھار ایسا موقع بھی آئے گا کہ وہ کسی بات پر اعتراض کریں گے اور اسلام کے متعلق اپنی کسی غلط فہمی کی بنیاد پر کوئی اوٹ پٹانگ قسم کی بات کریں گے۔ ایسے مواقع پر معذرت خواہانہ رویے اور دین کو توڑنے مروڑنے سے الٹا نقصان ہوگا چاہے آپ یہ تبلیغ کے لیے کر رہے ہیں یا صرف مسلمانوں کے امیج کے لیے۔ اکثر اوقات جواب دینا بہت آسان ہوگا اگر آپ ٹھنڈے دماغ سے کام لیتے ہیں۔ اگر مناسب لگے تو ان کو یہ دعوت بھی دے دیا کریں کہ وہ قرآن مجید کو ایک بار پورا پڑھ کر دیکھ لیں۔ بعض مواقع پر ڈاکٹر ذاکر نائیک کی اسلام کے متعلق عام پوچھے جانے والے سوالات پر لکھی گئی کتاب بھی مفید رہے گی(یہ آپ کو irf.net پر مل جائے گی)۔ اور یاد رکھیں کہ ہمیشہ اپنا مزاج ٹھنڈا رکھیں۔ غصہ اچھے بھلے کام بگاڑ دیتا ہے۔ یہ بھی کبھی نہ بھولیں کہ یہ کام آپ اپنی ذات کے لیے نہیں بلکہ اللہ کے لیے کر رہے ہیں۔

یہ بھی یاد رکھیں کہ اسلام دنیا میں پھیلا کیسے تھا۔ بہت سے علاقوں میں اسلام، مسلمان تاجروں کی وجہ سے پھیلا تھا۔ جب وہ وہاں جاتے تو وہاں کے رنگ میں نہیں ڈھلتے تھے۔ دوسروں کی دیکھا دیکھی اپنے اخلاق کے معیارات نہیں بدلتے تھے۔ نہ مقامی لوگوں کے پاس جا کر مسلمانوں کے کچھ مخصوص گروہوں کی برائیاں کر کے کہتے تھے کہ اصل اسلام پر تو میں ہوں۔ نہ ہی اسلام کے متعلق ان کا رویہ معذرت خواہانہ ہوتا تھا۔ اپنی مرضی سے اسلام کو سیکولر یا کمیونسٹ وغیرہ نہیں بنا ڈالتے تھے بلکہ اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کے بتائے ہوئے طریقوں پر قائم رہتے تھے۔ چنانچہ جب وہاں کے مقامی لوگ ان کے اعلیٰ اخلاق کو دیکھتے تو خود متوجہ ہوتے کہ آخر اس کے اتنے اعلیٰ اخلاق کی وجہ کیا ہے۔ پھر ان میں سے بہت سے لوگ اس دین سے متاثر ہو کر اسے اختیار بھی کر لیتے۔

ہمیں بھی ویسا ہی اچھا مسلمان بننا ہوگا اور اپنے ساتھیوں کی بھی اچھے مسلمان بننے میں مدد کرنی ہوگی۔ اور ایسا بھی نہ ہو کہ غیر مسلموں کی تو ہمیں فکر ہو اور اپنے مسلمان بھائیوں کو ہم بھول جائیں۔ دونوں طرف توجہ دینی ہے۔ دونوں کا ہم پر حق ہے۔ میرے اس نسخے کا ایک ضمنی فائدہ یہ بھی ہے کہ غیر مسلم چاہے اسلام کی طرف متوجہ ہو یا نہ ہو، لیکن اس بہانے ہمیں خود اور دیگر مسلمان دوستوں کو ان اسباق کی یاد دہانی ہوتی رہے گی جو ہم کافی عرصہ پہلے پڑھ کر بھول گئے ہیں۔

چنانچہ آج سے کوشش کریں کہ خود بھی اچھے مسلمان بنیں، اپنے عزیزوں اور دوستوں کی بھی مدد کریں، اور اللہ کا پیغام ان تک بھی پہنچائیں جن تک ابھی نہیں پہنچا۔ یہ سب سے زیادہ ہمارے اپنے لیے ہی مفید ہے۔

دنیاوی فائدہ اور کوئی نہیں تو کم از کم آپ کے پاس فیسبک استعمال کرتے رہنے کا جواز تو پیدا ہو ہی جائے گا اور ساتھ ہی مسلمانوں کی نمائندگی کا طریقہ بھی درست ہو جائے گا۔ :p

اضافہ (2 فروری 2011): اگر میری تجویز پر عمل نہ کرنا چاہیں تو کم از کم ایک کام تو کر ہی سکتے ہیں۔ کہ فیس بک پر آنے والے اشتہارات پر کلک نہ کریں جن کے ذریعے فیس بک کمائی کرتا ہے۔

اتوار، 31 اکتوبر، 2010

فیسبکیوں کی ہجو میں ایک نظم

کسی زمانے میں سنا تھا کہ غم اچھے بھلے انسان کو شاعر بنا دیتا ہے۔ تب تو یقین نہیں آیا لیکن آج جب میں نے خود ایک نظم پوری کی تو مجھے یقین آ گیا کہ واقعی غم مجھ جیسے نمونوں کو بھی شاعر بنا سکتا ہے۔

یہ بے قاعدہ اور بے ہنگم نظم میں اپنے ان تمام دوستوں کے نام کرتا ہوں جن کی وجہ سے ہمارا فیسبک کے بائیکاٹ کا منصوبہ ناکام ہوا۔ اس نظم کی بنیاد میں دھوکہ، فراڈ اور میرے ارمانوں کا خون شامل ہے۔ تو پڑھیے اور لطف اندوز ہوئیے۔

ٹوٹ بٹوٹ اور فیسبک

ایک تھا لڑکا ٹوٹ بٹوٹ
باپ تھا اس کا میر سلوٹ
پیتا تھا وہ سوڈا واٹر
کھاتا تھا بادام اخروٹ

اک دن اس کی شامت آئی
فیسبک پر نظر دوڑائی

جھٹ سے اک کھاتہ کھلوایا
کئی لوگوں کو دوست بنایا

پھر تو اس کو جب بھی دیکھا
فیسبک پر مصروف ہی پایا

زندگی کٹ رہی تھی یوں ہی
اک دن دوست نے چٹھی بھیجی

فیسبک نے کیا کام برا تھا
اس پر کچھ تو کرنا ہی تھا

گستاخانِ رسول کی جو
اس نے سرپرستی کی تھی

اس پر کسی طرح کی تو
کارروائی کرنی ہی تھی

دوست بولا کرو بائیکاٹ
فیسبک سے لو تعلق کاٹ

گر سب اس سے رشتہ توڑیں
پھر نہ کریں گے ہمت ایسی

ٹریفک ہوگی اتنی کم کہ
ہو جائے گی ایسی تیسی

ٹوٹ بٹوٹ نے یہ سوچا کہ
بات تو ہے یہ بڑے پتے کی

سب مسلم جو متحد ہو گئے
نہ کرے گا کوئی ہمت ایسی

فوراً اس نے فیسبک چھوڑی
یاروں کو بھی دعوت ٹوری

گر ہوتا کامیاب بائیکاٹ
فیسبک کی لگ جاتی واٹ

قوم گر متحد ہو جاتی
گستاخوں کو عقل آ جاتی

لیکن حقیقت میں جو ہوا
ٹوٹ بٹوٹ نے سوچا نہ تھا

کچھ ہی روز ابھی گزرے تھے
اکثر لوگ صبر کھو بیٹھے

کچھ ہی رہے میداں میں ڈٹ کر
باقی سب واپس کو بھاگے

مہم ہو گئی ناکام ساری
کئی لوگوں نے ڈنڈی ماری

ٹوٹ بٹوٹ اب بیٹھا سوچے
دھیرے دھیرے خود سے بولے
سوچا کیا تھا، کیا ہو گیا رے
تیرے ساتھ تو فراڈ ہو گیا رے

"ہمیں اپنوں نے لوٹا، غیروں میں کہاں دم تھا
میری کشتی وہاں ڈوبی جہاں پانی کم تھا"

بدھ، 7 جولائی، 2010

گنوم (GNOME) کا اردو ترجمہ

سلام ظالم دنیا!

اپنے ہر دل عزیز جناتی مترجم جناب محمد علی مکی صاحب کو تو آپ لوگ جانتے ہی ہوں گے۔ ان دنوں کوہ قاف کے غاروں میں مراقبہ فرمایا کرتے ہیں۔ آج ان سے بذریعہ انسٹنٹ مسنجر مختصر سی ملاقات ہوئی تو باتوں باتوں میں معلوم ہوا کہ آج کل فارغ وقت میں گنوم (GNOME) ڈیسکٹاپ ماحول کا اردو ترجمہ کر رہے ہیں۔

تھوڑی سی جھلک جو میں ان کے کام کی دیکھ پایا، یہاں پر پیش کر رہا ہوں۔





ان شاء اللہ جلد ہی ترجمہ مکمل ہو کر آم لوگوں کے لیے دستیاب ہو جائے گا۔ لینکس اور گنوم استعمال کرنے والے، یا کسی اور وجہ سے اس پراجیکٹ میں دلچسپی رکھنے والے، ان کے بلاگ پر نظر رکھیں۔

جمعرات، 22 اپریل، 2010

22 اپریل - زمین کا دن

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔
دنیا بھر میں 22 اپریل کو زمین کے دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اس کا مقصد لوگوں میں زمین کے ماحول اور وسائل کے تحفظ کی اہمیت کا شعور پیدا کرنا ہے۔ اس اہم موقعے پر میں نے بھی ایک عدد مضمون لکھنے کا ارادہ تو کر رکھا تھا لیکن غیر متوقع حالات کی وجہ سے بروقت اطلاع بھی نہ دے پایا۔
جن لوگوں تک یہ اطلاع وقت پر پہنچ جائے، ان سے گزارش ہے کہ آج کا دن جیو اور ایکسپریس جیسے چینلوں کے بجائے نیشنل جیوگرافک اور ڈسکوری جیسے چینل دیکھتے ہوئے گزاریں کیونکہ ان پر اس موقعے کے لیے خصوصی پروگرام نشر کیے جائیں گے۔
اور جو صاحبِ اولاد ہیں، ان سے گزارش کروں گا کہ آپ کے بچوں کو اچھے مستقبل کے لیے صرف ڈھیر سارے پیسوں اور جائیداد کی ہی ضرورت نہیں ہے بلکہ پرسکون زندگی گزارنے کے لیے انہیں ایک صاف ستھری اور قابلِ رہائش زمین کی بھی ضرورت پڑے گی۔ لہٰذا خدا کے لیے ماحولیاتی آلودگی کے مسئلے کو کوئی اہمیت دیں۔
اگر آپ کو یہ اطلاع دیر سے ملتی ہے تو کیمیائی آنٹی کے اس مضمون پر گزارا کر لیں جو میں نے ان سے منتیں کر کے لکھوایا تھا۔
اور اگر آپ کو ایک تیز رفتار انٹرنیٹ کنکشن دستیاب ہے تو جہاں بٹ ٹورنٹ سے درجنوں کی تعداد میں دیگر فلمیں ڈاؤن لوڈ کر کے دیکھتے رہتے ہیں، وہیں An Inconvenient Truth کو بھی ایک بار دیکھ لیں۔

پیر، 12 اپریل، 2010

ROT13 رمز نگاری

ROT13 رمز نگاری کا ایک کمزور سا معیار ہے جس کا استعمال عام طور پر لطائف کو انکرپٹ کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس میں ہوتا یہ ہے کہ لفظ کے ہر حرف کو اپنی جگہ سے 13 جگہ آگے کھسکا دیا جاتا ہے۔ یعنی A کی جگہ N لگا دیا جاتا ہے اور M کی جگہ Z۔ اگر کوئی حرف Z سے پہلے 13 حروف سے کم کے فاصلے پر ہو تو Z سے آگے دوبارہ A سے شروع کرتے ہیں۔ مثلاً T کی جگہ G۔

(ROT13 میں ROT مخفف ہے ROTATE کا)

یہ سب مجھے یوں معلوم ہوا کہ پائتھن پروگرامنگ لینگویج سیکھنے کے دوران مشق کے طور پر متن کو ROT13 میں انکوڈ اور ڈیکوڈ کرنے والا ایک پروگرام لکھنا تھا۔ چنانچہ دو چار پروگرام لکھے جو کہ مختلف طریقوں سے یہ کام کرتے ہیں۔ ان میں سے ایک اپنی تعریفیں کروانے کے لیے یہاں پیش کر رہا ہوں (حالانکہ کوئی بڑی چیز نہیں ہے لیکن کسی کو بتانا نہیں)۔ :D


یہ پروگرام کمانڈ لائن پر مبنی ہے چنانچہ اسے ٹرمینل ہی میں چلایا جائے گا۔ کچھ اس طرح سے۔

python rot13.py

چونکہ انگریزی کے حروفِ تہجی کی تعداد 26 ہے، لہٰذا ROT13 میں انکوڈ کیے ہوئے متن کو دوبارہ 13 حرف آگے کھسکانے پر وہی متن واپس حاصل ہوتا ہے۔ اس خصوصیت کی وجہ سے اس کا انکوڈر اور ڈیکوڈر الگ الگ بنانے کی ضرورت نہیں پڑی۔ ایک ہی سادہ پروگرام سے یہ دونوں کام ہو جاتے ہیں۔

اس پروگرام کو چلانے کے لیے آپ کو پائتھن کے "مترجم" یا انٹرپرٹر (interpreter) کی ضرورت پڑے گی جو لینکس میں تو عموماً پہلے ہی سے موجود ہوتا ہے۔ لیکن اگر نہ ہوا یا آپ ونڈوز یا میک استعمال کرتے ہیں تو اسے یہاں سے حاصل کیا جا سکتا ہے:


ROT13 میں انکرپٹ کی گئی کچھ مثالیں تو آپ کو انگریزی کے وکیپیڈیا پر مل جائیں گی۔


مزید کا اگر شوق ہو تو خود ہی ڈھونڈ لیں۔ بلکہ اگر چاہیں تو اپنے پیغامات کو بھی اس پروگرام کی مدد سے انکرپٹ کر کے دوستوں کو تنگ کریں۔ کوئی اضافی پیسے نہیں لگیں گے۔ :)